لمحۂ فکریہ
اوشین شوکت
آج کے دور میں تعلیم کو کامیابی کی کنجی کہا جاتا ہے، مگر یہ کنجی ہر ہاتھ میں نہیں۔ ایک غریب باپ صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے، دن بھر محنت کرتا ہے۔صرف اس امید کے ساتھ کہ اس کا بچہ اس سے بہتر زندگی گزارے۔ ایک ماں اپنی خواہشات قربان کر دیتی ہے تاکہ اس کا بچہ اسکول جا سکے، کتاب اٹھا سکے، اور بغیر ڈر کے خواب دیکھ سکے۔ مگر جب حقیقت سامنے آتی ہے، تو یہ خواب لرزنے لگتے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں (پرائیویٹ اسکول) کی بڑھتی ہوئی فیسیں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، مہنگی یونیفارمز، بار بار بدلتی کتابیں اور ہر چھوٹی چیز پر الگ فیس ۔۔۔یہ سب ایک ایسا بوجھ بن چکے ہیں جسے ایک عام انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ داخلے کے وقت جب فیسوں کی فہرست ایک غریب باپ کے ہاتھ میں تھمائی جاتی ہے، تو اس کی آنکھوں میں امید کے ساتھ ایک گہری بے بسی بھی نظر آتی ہے۔ وہ خاموشی سے حساب لگاتا ہے اور اکثر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس کے خواب اس کی حیثیت سے کہیں زیادہ مہنگے ہو چکے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تعلیم نہیں، بلکہ ایک مہنگا سودا خریدا جا رہا ہو۔ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی اجتماعی حقیقت ہے۔ لاکھوں بچے جو ذہین ہیں، محنتی ہیں اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کے والدین کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ کیا ایک بچے کا مستقبل اس کی قابلیت سے نہیں بلکہ اس کے باپ کی جیب سے طے ہوگا؟ یہ سوال ہر باشعور انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔
دوسری طرف، سرکاری اسکولوں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کئی جگہوں پر اساتذہ کی عدم دلچسپی، سہولیات کی کمی، اور کمزور تعلیمی نظام نے والدین کو مایوس کر دیا ہے۔ بعض اوقات بچے خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں، اور معاشرے میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ ’’سرکاری اسکول کے بچے آگے نہیں بڑھ پاتے۔‘‘ یہ جملہ صرف ایک رائے نہیں، بلکہ بچوں کے اعتماد کو توڑ دینے والی سوچ بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ کئی بچے خود بھی احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں۔ وہ دل ہی دل میں یہ سوچتے ہیں کہ کاش وہ بھی کسی نجی ادارے (پرائیویٹ اسکول) کا حصہ ہوتے۔ یہ احساس کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ خوابوں کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی کمزور کر دیتا ہے۔
اصل سوال یہی ہے کہ سرکاری اسکول ایسے کیوں نہیں بن سکتے، جہاں ایک غریب بچہ بھی فخر کے ساتھ تعلیم حاصل کرے؟ کیوں وہاں وہی معیار، وہی سہولیات اور وہی توجہ نہیں دی جا سکتی جو نجی تعلیمی اداروں (پرائیویٹ اسکول) میں دی جاتی ہے؟ اگر حکومت سنجیدگی سے سرکاری اسکولوں کو بہتر بنائے۔اچھے اساتذہ، صاف ستھرا ماحول، جدید سہولیات، اور مضبوط نظام فراہم کرے۔تو نہ صرف غریب بلکہ متوسط طبقہ بھی اعتماد کے ساتھ اپنے بچوں کو وہاں بھیج سکتا ہے۔ جب سرکاری اسکول مضبوط ہوں گے، تو ایک صحت مند مقابلہ پیدا ہوگا۔ تب نجی اداروں (پرائیویٹ اسکول) کو بھی اپنی فیسیں مناسب رکھنی پڑیں گی اور تعلیم واقعی سب کے لیے قابلِ رسائی بن سکتی ہے۔ یہ صرف ایک خیال نہیں، بلکہ ایک ایسا راستہ ہے جو معاشرے میں برابری اور انصاف کو فروغ دے سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں، بلکہ سوال اٹھائیں۔ ہم یہ پوچھیں کہ تعلیم اتنی مہنگی کیوں ہو گئی ہے؟ ہم یہ مطالبہ کریں کہ سرکاری اسکولوں کو بہتر بنایا جائے تاکہ ہر بچے کو برابر کا موقع مل سکے۔چاہے اس کے والدین کی آمدنی کچھ بھی ہو۔کیونکہ جب ایک غریب باپ اپنے بچے کے خواب پورے نہیں کر پاتا، تو صرف ایک گھر نہیں ہارتا…بلکہ ایک پوری نسل پیچھے رہ جاتی ہے، اور ایک معاشرہ اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔آخر میں سوال وہی ہے جو ہر دل میں گونج رہا ہے۔کیا تعلیم ہمیشہ ایک مہنگا سودا بنی رہے گی یا ہم اسے واقعی سب کے لیے ایک حق بنا پائیں گے؟
رابطہ۔6006247596
[email protected]