کرونا وائرس پوری دنیا پر حملہ زن ہے۔ایک ایسا وائرس جو دیکھنے میں تو نہیں آتا لیکن اس الٰہی لشکر نے ساری دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔وہ جن کا خدو خشم دیدنی تھا ،آج لاچار و بے بس نظر آرہے ہیں ،حکمرانوں کی نیندیں اُڑ گئی ہیں ۔ سات دروازوں اور اونچی فصیلوں کو پار کرکے کرونا کئی موجودہ اور سابق حکمرانوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر سمجھا رہا ہے کہ تمہاری طاقت کی اصل حقیقت کیا ہے ۔
یہ وائرس کیا ہے؟ اصل میں یہ کسی جاندار کا رہین منت ہے۔لاطینی لفظ ہے اور معنیٰ زہر رکھتا ہے۔اسی مخلوق نے جو بس انتہائی طاقتورخوردبین سے دیکھی جاسکتی ہے ،صحنِ دنیا مین اودھم مچا رکھی ہے اور گلشن ِہستی کو سُونا سُونا سا کرکے رکھدیا ہے ۔چین سے نکلی یہ مخلوق آن کی آن میں دنیا میں پھیل گئی ۔ ملکوں ملکوں کے حکمران و رعیت گھروں کے کونوں میں دبک کے بیٹھے ہیں ،خوف ایسا طاری کہ انسانیت اپنے کپڑوںکو ،کھڑکیوں کو ،ناک ،کان اور آنکھوں کو بھی ہاتھ لگانے سے کترارہی ہے ۔کامل لاک ڈاون ہے ۔فراٹے بھرتی لاکھوں کروڑوںکی گاڑیاں کئی ماہ سے بند پڑی ہیں ،طیران گاہوں پر کھڑے جہاز بھی سواروں کو ترس رہے ہیں ،سیر سپاٹے کے مراکز بند پڑے ہیں ہوٹلوں اور ریستورانوں پر تالے لگے ہیں ،دکان و دکانداروں کا رشتہ باقی نہیں رہا ہے ۔شادیوں کی تقاریب بھی کہیں نظر نہیں آتیں ،جنازوں پر چند ہی افراد نظر آتے ہیں ۔مرغن غذائوں کے دِلدادہ اب سبزیوں کو تڑپ رہے ہیں ۔ہنسنے ہسانے کی محافل اب کہاں؟ ریڑے اور ریڑے بان تک نظر نہیں آتے ۔گلیوں ،کوچوں ،سڑکوں ،شہروں ،گائوں میں سناٹا ،خوف اور شدید مایوس کُن فضا نظر آرہی ہے۔سرُخ رو آج زعفران بن گئے ہیں وہ خانقاہوں کے مجاور ،نذرانے اینٹھنے والے اور ہر مرض کا علاج بتانے والے عنقا ہیں ،وہ ہاتھوں کی لکیریں دیکھ کر’’ قسمت بتانے والے‘‘ بھی اب نظر نہیں آتے ،ستاروں کے اسرار بیان کرنے کے دعویدار بھی غائب ہیں ۔ ہر مرض کا علاج اور حاجت روائی کے دعاوی دینے والے بھی دکان بڑھا گئے ہیں ،وہ جنہیں اپنی فوجی قوت پر ناز تھا ،اپنی معشیت پر اِتراتے تھے ،اپنی مادی ترقی کو دیکھ کر رعونت کی دہلیز پر کھڑے بہ زبان حال من اشد مِنا قوۃ کے نعرے لگا رہے تھے ۔تکبر کی چوٹیوں پر چڑھے اِن لوگوں نے دنیا ئے انسانیت کو رزم گاہ بنا کے چھوڑدیا تھا ،مفاد کے حصول کے لئے کسی کی بھی جان و عزت سے کھیلنا معمول بن گیا تھا ۔ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں اِس انسان نے ا یسی قیامت بپا کرکے رکھ دی کہ تاریخ ہنوز سکتہ میں ہے۔ حالیہ تاریخ میں ان مغرور حکمرانوں نے معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑا ،ایک شامی بچہ کہہ گیا کہ’’ ــمیں سب کچھ اوپر جاکر اپنے اللہ کو بتادوںگا ‘‘ان ہی قتل گاہوں میں ایک معصوم بچی نے کسی صحافی سے کہا :’’انکل میری ویڈیو نہیں بنانا ،تصویر نہیں بنانا ،میں بے حجاب ہوں‘‘اس پیکر شرم و حیا کی یہ بات آج بھی سنگ دلوں کو خون کے آنسو رلاتی ہے۔ایک فلسطینی بھوک سے نڈھال بچے نے انسانی ضمیر پر یہ کہہ کر کچولے لگائے تھے ،’’میں اِس دنیا سے چلا جائوں تو جنت میں پیٹ بھر کرکھانا کھائوں گا‘‘ان معصوموں کے یہ تاثرات بہ دیدہ ٔ تر رقم کررہا ہوں، آگے مزید کچھ کہنے لکھنے سے قلم گریزاں ہے۔کیونکہ ع دِل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں۔لبنان ،شام ،عراق ، فلسطین بے اماںبھی ہیںاور اشکباربھی ہم بھی تو عشروں سے قہر و ستم کی زد میں ہیںمگر __ آج خود کو ناقابل تسخیر کہنے والے اپنے محلات کی کنڈیوں ،زرین پردوں او ر سامانِ تعیش سے لرزاں ہیں کہ کہیں کروونا نے ان پر ہی جگہ نہ بنالی ہو،انَ فی ذالکَ لَعبرۃَ لِمَن یخشیٰ،معاملہ کا اہم پہلوں یہی ہے۔
۔کسی نے فون پر پوچھا کہ یہ حالت کب تک رہے گی ،عرض کیا کہ برسوں کی خبریں اور پیش گوئیاں کرنے والوں نے کیا کہا ،جو تمہاری شادیوں اور خوشیوں کی تقاریب کی تاریخ کا تعین کرلیتے ہیں ،کون سی گاڑی خریدنی ہے ،کب مکان بنانا ،کب بیرون ملک جانا اور کب فلاں فلاں کام کا آغاز کرنا ،کس سے ملنا ،کس سے نہیں ملنا، یہ کام تو ان کے سپرد کیا تھا نا آپ نے ۔ان لوگوں نے کیا کہا۔جواب ملا : وہ خودلرزاں و ترساں امان کی تلاش میں ہیں اُن کے سرُخ اورتمتماتے چہروں پر زردی چھا گئی ہے ۔کہا کہ سب بے نقاب ہوچکے ہیں دانش سراسیمہ ،عقل پراگندہ اور قوت و طاقت کا غرور ٹوٹ چکا ہے۔ میں نے پوچھا کیا سیکھا کہا کہ بس اللہ ہی اللہ ، عالم الغیب والشہادۃ ھو الرحمن الرحیم اس کے فیصلوں سے کوئی واقف نہیں اور اس کے کائیناتی منصوبوں کو کوئی نہیں جا نتا ہسپانیہ کی شہزادی ،برطانیہ کا وزیر اعظم ،جرمنی کا چانسلر ،سندھ کا گورنرکرونا کی زد میں ہیں ۔دنیا کی سب سے بڑی قوت امریکہ کا حکمران ٹرومپ کہہ رہا ہے کہ معیشت کی بات ہی مت کرو اُس کی چولیں تو ہل ہی چکی ہے ۔اس الٰہی آفت سے اگر دو ڈھائی لاکھ لوگ ہی میرے ملک میں لقمہ اجل بن گئے، تب بھی یہ قدرت کی مہربانی ہے کہ سستے میں چھوٹ گئے_______وہ جو اللہ پرستوں کو طعنے دے رہے تھے ، بات بات میں اللہ کا نام لے کر آرہے ہو ۔آج اُسی کی دہلیز پر رو رہے ہیںملحدین مومنین کو دعائیں کرنے کی درخواستیں کررہے ہیں۔ سب کے ذہن نشین بات ہورہی ہے کہ اقوام سابقہ پر جب آفتیں آئیں ہوں گی تو اُن کا کیا حال رہا ہوگا ،کتنے قرآنی واقعات کو بیان کیا جائے ۔قوم عاد پر سے بھی تو ایک ہوا ہی گزری تھی نا؟بس چند رات اور چند دن چلی تھی اور پھر قرآن کی زبان میں یہی ایام اُن کے لئے نحوست کا پیام لائے۔ہوا جس پر سے بھی گذری کھجور کے کھوکھلے تنے کی طرح زمین پر ڈھیر ہو ا،پھر اس طاقتور قوم کا حال یہ ہوا، جنہوں نے پہاڑوں کو تراش کر محلات بنائے تھے ،بے نام و نشان ہوکے رہ گئے۔ہاں نصیحت و عبرت ہے اُن لوگوں کے لئے جو عبرت حاصل کرنے کے خواہش مند ہوں ۔اللہ کی اس چھوٹی سی مخلوق کرونا نے متکبر و مغرور حکمرانوں کی جنہوں نے انسانیت کی ناک میں دم کرکے رکھدیا تھا لرزہ بر اندام کرکے رکھ دیا ہے۔مادہ و عقل پرست تو ہر شٗے میں سائنسی عوامل ڈھونڈتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ ان عوامل کا خالق بھی تو شہنشاہ ِکون و مکان ہی ہے ۔ان سے کوئی آج جا کے کہے کہ طاقت ہے تو معانقہ و مصافحہ سے بھی کیوں ڈر رہے ہو،یہ فاصلے کیوں بڑھا رہے ہو ،اپنی اولاد اور اہل خانہ سے دوری ختم کرنے کا بھی یارا اس میں نہیں مگر سار ی کائنات تسخیر کرنے نکل گئے تھے۔ہاں! آج مساجد بھی بند ہیں اور معابد بھی،کعبتہ اللہ طواف والوں کو ڈھونڈ رہا ہے اور حجراسودجسے چومنے کے لے لوگ گھتم گتھا ہوتے تھے آج بوسہ دینے والوں کی تلاش میں ہے ۔علماء کرام نے مساجد سے نکل کر گھروں میں ہی نماز کی ادائیگی کے فتاویٰ دیئے ۔اسلامی دنیا میں اس پر عمل ہوا ۔اپنی اس وادی میں اور ریاست میں بھی اس وائرس کی ہلاکت خیزی کا ادراک کرتے ہوئے سب سے پہلے جمعتہ اہلحدیث جموں و کشمیر اور بعد میں سب دینی اداروں نے ریاستی عوام سے کہا کہ وہ فی الحال مساجد میں نماز جمعہ کے ساتھ ساتھ پنج گانہ نمازوں کی ادائیگی بھی نہ کریں ۔گھروں میں ہی سجدہ ریز ہوں ،قرآن و سنت کے اس حوالہ سے دلایل دیئے گئے،مستند حوالہ جات فراہم کئے ، ۔اب حال یہ ہے کہ مساجد سے اذانیںتو ہورہی ہیں لیکن نمازیں گھروں میں ادا ہورہی ہیں ۔لوگ واقعی گڑ گڑا رہے ہیں۔اللہ رحم کرے یہ دن بھی رہنے والے نہیں ۔مولا ہم پر آمادۂ کرم ہوگا جب کہ ہم بدلنے کا عہدکرلیں۔معاملے کا تاریخ ترین پہلو یہ بھی ہے کہ اس طوفان ِ بلا خیز میں بھی ذخیرہ اندوزی ،ملاوٹ اور گراں بازاری کی لت نہیں گئی تو پھر رونا دھونا محض ایک رسم ہی کہلائے گا ؟چار پانچ روپیہ سے بنی جانے والی ماسک تیس ،چالیس روپے میں فروخت کریںاور شکوہ یہ ہو کہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں ،کیا یہ سوچ درست ہے ،اڑوس پڑوس میں رہنے والے ہمسایہ کے گھر میں فاقے لگنے کو ہیں یا لگ رہے ہیں اور ہم اکل و شرب میں مصروف ہوں ،کون سی مومنانہ خصلت ہے یہ۔دہاڑی دار یومیہ مزدور اور جھونپڑی میں رہنے والے غرباء آہیں بھریں اور ہم پیٹ بھر کر کھائیں ۔یہ تقویٰ شعاری کہلائے گی کیا؟ شنید ہے کہ اس عالم میں بھی مبینہ طور کئی سینٹرائز ر جعلی اور نقلی ثابت ہوئے ہیں۔باہر کے نہیں اپنی وادی میں بنائے ہوئے تھے رویئے اور ماتم کیجئے اس فکر کی نحوست پر۔ ہاں آج حالات کے ماروں کی ایک فوج قطار اندر قطار ہے پسماندگی ، افلاس ، مسلسل کئی ماہ کی بے کاری اور بھوک نے نڈھال کرکے رکھ دیا ہے۔ ہم میں لا کھ خامیاں اور کو تائیاں سہی لیکن ایک جذبہ ترحم ہے جو ابھی زندہ ہے ہم سے کسی کا دکھ دیکھا نہیں جا تا کسی کا بھی نہیں جو بھی ہو جس دین دھرم سے بھی وا بستہ ہو ماض ہم نے تو ایثار کے ریکارڈ قائم کئے ہیں آج بھی ہم مایوس نہیں ،انفاق ہر سطح پر ہورہا ہے لیکن افسوس اگر ہے تو اُن صاحبان ثروت پر، جن کے دل اب بھی نہیں پگھل رہے ہیں نہیں دیکھتے کہ اٹلی اور اسپین میںلوگ راستوں اور کوچہ بازار میں روپے پیسے کے ڈھیر لگارہے ہیں۔کہ یہ کس کام کے؟ انسانی صحت پر حملہ زن کرونا کسی بڑے سے بڑے سرمایہ دار کو اپنی لپیٹ میں لے تو دولت و ثروت کس کام کی ۔اللہ کی مخلوق کی مدد کرنے کا عہد کریں ،اس سے پہلے کہ موت اپنے پنجوں میں لے اور زبانوں پر یہ آرزو ہو کہ کچھ مہلت دے مولا کہ اب خیرات و صدقات کروں!لیکن وقت گذر چکا ہوگا ۔اس لئے خرچ کریں اللہ کی راہ میں اس سے پہلے کہ ہم سے چھینا جائے اور اس کے مالکانہ حقوق ہم سے لے کر کسی اور کو دئے جائیں۔
بہر حال کرونا کی ہوا چل رہی ہے ،احتیاطی تدابیر کو ہاتھ سے مت جانے دیجئے ۔معانقہ و مصافحہ سے گریز ہو ،سماجی دوری فی الحال قائم رہے کہ مستقبل میںقربتوں کا باعث بنے گی ۔اپنوں سے بھی فی الحال فاصلے بنایئے ،نزدیکیوں کا پیش خیمہ یہی فاصلے ثابت ہوں گے ۔یہ کرونا ہے اللہ کی آفت و بَلا ۔تاریخ و سیرت سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ وباء، وبا ء ہوتی ہے اور کتنے ہی عظیم صحابہ رضوا ن اللہ تعا لی علیھم اجمعین اس کی نذر ہوگئے ہیں۔تقویٰ شعاری اور زہد و ورع اپنی جگہ لیکن یہاں استغفار و توبہ کے ساتھ ساتھ ہر وہ احتیاط لازم جو ماہرین طب و صحت کہیں۔اب تک وادی اور جموں میں ایسے مریضوں کی تعداد بھی بہت ہوچکی ہے ،کئی Recover))کررہے ہیں ،مختصر تعداد صحت یاب بھی ہوچکی ہے۔لاک ڈاون سے پہلے پہلے جو بھی ریاست سے باہر یا دور دراز کے ملکوں سے یہاں کے باسی آئے ،سب کو قرنطینہ میں رکھا گیا ،وقت معینہ تک رکھنے کے بعد الحمداللہ وہ گھروں کو بسلامت روانہ ہورہے ہیںاب وہ بے شمار کشمیری بھی وطن واپسی کے منتظر ہیں، جو بیرون ملک یا بھارت کے مختلف حصوں میں تجارت ،مزدوری تعلیم یا حصول معاش کےلئے گئے تھے وہ آئیں تو اپنی ٹر یول ہسٹری نہ چھپائیں یہ عمل خود ان کے گھر والوں اور معاشرے کے لیے ہلا کت خہز ہوگا اللہ بچا ئے۔
خلا صہ کلام یہ کہ کرونا وائرس کی شکل میں خدائی لشکر انسانیت پر حملہ زن ہے اس سے لڑا نہیں جاسکتا بچنے کی تدابیر کو لا محالہ اپنانا ہو گا ہاں ان لشکروں کو تو ان کا بھیجنے والے خدا ہی جا نتا ہے قران میں ارشاد فر ما یا ہے وما یعلم جنود ربک الا ھوط وما ھی الا ذکر للبشریعنی تیرے رب کی لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جا نتا یہ تو سارے ابن آدم کے لئے پند و نصیحت ہے،،تو اے نسل انسانی کیا الٰہی قوت و طاقت کا کچھ ادراک ہوا یا ابھی انا ولا غیری کا راگ بر زبان ہو گا۔