افسانہ
شہزادہ فیصل
کچھ لوگ ایک دم سے نہیں مرتے۔آہستہ مزاج زندگی کی طرح ان کی موت بھی حادثاتی نہیں ہوتی۔
دادی تین سال سے بستر زدہ تھی۔ہڈیوں کا روگ دیکھتے دیکھتے بڑھاپے کے روگ میں منتقل ہوا اور پھر رفتہ رفتہ تین سال میں دادی کو انجام تک پہنچایا۔
سادہ، خوش باش اور پیچیدگیوں سے مبرا،دادی ٹھیٹھ دیہاتن تھی۔1930 کی دہائی میں کولگام کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئی۔آزادئ ہند سے ایک آدھ سال پہلے میرے پر دادا کا اس گاؤں سے گذر ہوا۔حسن اس کمال کا تھا کہ ایک نظر میں اپنے بیٹے کے لئے پسند کیا اور دادی کی قسمت پلوامہ میں جہلم کے کنارے کا یہ چھوٹا
سا گاؤں بنا۔1947 میں شادی ہوئی ۔چودہ یا پندرہ کی عمر ہوتی۔دادی آخری عمر تک اس وقت کی کہانیاں مزے لے لے کر سناتیں۔کس طرح سے وہ سسرال میں بھی گڈے ہڈیوں سے کھیلا کرتی اور کس طرح پہلے کچھ سال تک مائیکے کے دوست اور رشتہ
دار مہینوں اس کا دل بہلانے کے لئے اس کے سسرال میں رہتے۔بچوں کی پیدائش کے علاؤہ اس زمانے میں یا تو دادی کے جمال کا سکہ تھا یا پھر ان کے گھریلو کام کا ۔شالی کی پنیری لگانے کی رفتار میں خاص طور پر ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔
میں دادی کے دوسرے بیٹے کا بڑا لڑکا ہوں۔چھ یا سات اولادیں ہوئیں جن میں پانچ بلاغت کو پہنچی۔ تین لڑکے اور دو لڑکیاں۔میرے پیدا ہونے کے تین سال بعد دادا کا انتقال ہوا۔ گھر میں ان کا لفظ قانون تھا۔اصول پسند تھے اور اولاد کو لاڈ پیار کی بگاڑ سے دور رکھنا اصلِ پرورش سمجھتے تھے۔شاید اسی کمی کو پر کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے دادی کے مزاج میں انکسار، محبت اور ایثار کو درجۂ کمال تک پہنچایا تھا۔ چھوٹی عمر میں میں نے دیکھاکہ ، اس میں حیثیت کے اعتبار سے عام دیہاتنوں کی طرح ضعف سی اور اس پہ نرم مزاجی کا طرۂ لیکن ہمت اور جرأت کا یہ عالم تھا کہ محبت میں جان پہ بھی کھیل جاتی تھیں۔میں کوئی آٹھ نوسال کا ہونگا جب ہم گاؤں سے کچھ فاصلے پہ نیا مکان تعمیر کر رہے تھے۔ ہم چار پانچ بچے بھی وہیں صحن میں کھبی کبھار کھیلا کرتے۔ اس دن چار پانچ بجے کے آس پاس جب جب ہم باہر کھیل رہے تھے تو اچانک سے گولیوں کی آواز سنائی دی۔ ہمسایہ میں انکاؤنٹر شروع ہو چکا تھا۔ہم اس بے در و دیوار مکان کے برآمدے میں سہم گئے اور زار و قطار رونے لگے۔ ابھی کچھ منٹ نہ ہوئے تھے کہ دور سےاس سنسان ویرانے میں گولیوں کے بیچ اکیلی دادی اپنی اولاد کی محبت میں تڑپتی ہوئی، جان کی پروا کئے بغیر دور سے چلی آ رہی تھی۔
ایک طرف سے یہ جرأت اور دوسری جانب اگر ان کے نوکری پیشہ بچوں میں سے کسی کو ڈیوٹی سے آتے وقت دس منٹ کی بھی دیری ہوتی تو معصوم بچوں کی طرح کوئی خوف ان کو جکڑ لیتا تھا اور جب تک ان کا چہرہ نہ دیکھنے کو ملتا تب تک صحن میں بے قرار چکر لگایا کرتی۔
کسی چیز پر بھروسہ کرلیا تو پتھر کی لکیر اور کوئی روگ پال لیتی تو دلیل سے پرے۔کہتی تھی کہ جوانی میں ایک بار بیمار ہوئی۔خون کی الٹیاں ہوئی تھیں۔ کسی حکیم کی شربت سے صحتیاب ہوئی تھی۔بڑھاپے کی عمر میں تھائرائیڈ اور ہڈیوں کی دوائیں لینے لگی۔طبیبوں پر خاص نظرِ کرم تھا۔ان کی ہدایات کو روگ کی مانند پال لیتی۔ جوانی میں حکیم نے ٹماٹر منع کئے تھے ۔بڑھاپے کی عمر تک ایک بار بھی شوق نہ ہوا۔
زندگی میں شاید ہی پورا پیٹ یا پھر دو وقت کا کھانا کھایا ہو۔کم نفسی صرف کھانے تک ہی محدود نہ تھی۔حاشا و کلاء کبھی اپنی اولاد کا ایک سکہ بھی تسلیم کیا ہو۔آخری سانس تک دیتی ہی رہی۔دادا کے پینشن سے جنازے اور کفن دفن تک کا انتظام کر رکھا تھا۔
جائیداد کے نام پر صرف ایک صندوق چھوڑ کے گئیں۔جس میں دو جوڑی کپڑے اور ان کی شادی کے زیور رکھے تھے۔چناچہ اپنے والد کی اکلوتی اولاد تھی۔ورثے میں کافی جائیداد نصیب ہوئی تھی، جو انہوں نے اپنے چچہ زاد بھائی بہنوں کو کو تحفہ کر دی تھی۔
چھہ مہینے سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔نہ ہی میرے خوابوں میں آئی اور نہ ہی کسی جھنجھوڑتی یاد نے مجھے دادی کا قصیدہ قلمبند کرنے پر مجبور کیاہے ۔لیکن آج کے جیسی خالی شاموں میں جب اپنے اندر کے خلاء کا جائزہ لیتا ہوں تو اسی خلاء کے بیچوں بیچ آکر دادی بیٹھ جاتی ہے۔
���
ڈوگرہ پورہ، پلوامہ، کشمیر
موبائل نمبر؛8492838989