حیاتِ اقبالؒ کی چند جھلکیاں

نوٹ : اس مضمون کی تحریر میں علامہ اقبال ؒکے فرزند مرحوم جسٹس جاویدا قبال کی کتاب ’’زندہ رود‘‘ سے ا ستفادہ کیا گیا ہے ۔ محرر
بنک کی تنخواہ:اقبالؒ کی والدہ کی احتیاط
ایک دفعہ علامہ اقبالؒ کے والدصاحب نے کچھ عرصے کے لئے بنک میں نوکری کرلی توعلامہ ؒ کی والدہ ماجدہ نے ایک بکری خریدلی جس کادودھ وہ اقبال کوپلایاکرتی تھیں ۔والدنے جب بکری دیکھی توپوچھنے پروالدہ نے بتایاکہ آپ چونکہ بنک میں ملازم ہیں ،اس لئے آپ کی تنخواہ میں سودکی آمدنی بھی شامل ہے ۔چنانچہ میں اپنادودھ اقبال کونہیں پلاسکتی۔اس لئے میں اقبال کودودھ پلانے کے لئے بکری خریدلی ہے، جب تک اقبال کے والدبنک میں ملازم رہے ان کی والدہ نے ان کواپنادودھ نہ پلایا۔ایسی احتیاط ہوتو ہی اقبال جیسے لوگ پیداہوسکتے ہیں۔
علامہ اقبال ؒ اورسرسیداحمدخان
علامہ اقبالؒ ایک بارسخت بیمار ہوئے۔بشب اپریل 1936؁ء وہ دارالاقبال بھوپال(بھارت) خواب میں حضرت سرسیداحمدخان نے مشورہ دیاکہ اپنی علالت کی فریادحضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورپیش کریں۔ علامہ اقبال ؒنے صاحب قصیدہ بُردہ کی پیروی میں ’’درحضوررسالت مآب ‘‘کے عنوان سے ایک نظم گذاری جس کی برکت سے جان لیوامرض سے نجات حاصل ہوگئی (مثنوی پس چہ بایدکرد،سے اقوام ِ مشرق۔ازعلامہ اقبال ؒ 1936؁ء۔صفحہ 64تا71)۔
بشیرحسین ناظم کاخواب
1883؁ء میری حاضری مدینہ طیبہ کانہایت ہی مسعود وعبرور سال تھا۔ادائے عمرہ کے بعد سیدھا مدینہ منورہ حاضر ہوا ۔رات گیارہ بجے حاضری نصیب ہوئی۔حاضری کے بعدپاکستان ہائوس جوباب جبریل سے دس پندرہ گزکے فاصلے پر تھا، جاکرسوگیا۔خواب میں دیکھاکہ مسجدنبوی شریف میں صفہ کے دائیں کنارے کھڑاہوں اورریاض الجنتہ کے انواروتجلیات سے متمتع ہورہاہوں۔ریاض الجنتہ میں صرف ایک شخص دکھائی دے رہاتھا جوبارگاہ ِرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں شایداپنے درددِل کی کہانی سنارہاتھا۔ یہ شخص چلتے وقت بائیں ہاتھ سے اشارہ کرکے عرض کرتایا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم )بشیر حسین ناظم بھی کھڑاہے ۔ یہ خواب میں نے متواتر سات رات دیکھا۔ وہ شخص ہربار یہی عرض کرکے وہاں سے واپس ہوجاتاتھا۔ آخرآٹھویں شب حاضری کے بعدوہ میرے پاس آیا اورمیرے کندھے پرہاتھ رکھ کرپوچھنے لگا ’’ناظم‘‘ کیہ حال اے ۔’’تب میں نے پہچانا کہ وہ حضرت علامہ اقبال ؒ تھے۔حضرت علامہ اقبال ؒ میراحال احوال پوچھ کرچلے گئے ۔ صبح جب میں بیدار ہواتو میرے روئیں روئیں سے خوشبوئوں کے نغمات نکل رہے تھے اورعجیب کیف کاعالم تھا ۔میں نے اس خواب کی تعبیرخودہی نکال لی اورحضرت علامہ ؒ کی پیروی میں درودشریف پڑھنی شروع کردی ۔حضرت علامہ اقبالؒ نے گن کرایک کروڑبار درودشریف پڑھی تھی۔میں الحمداللہ اس وقت تک ایک کروڑتریپن لاکھ مرتبہ پڑھ چکاہوں ۔یہ بھی توفیق حق اورکرم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے۔(’’اوج ‘‘علمی وادبی مجلہ کانعت نمبر ۔جلداول 1992-93؁ء۔536گورنمنٹ کالج شاہدرہ ،لاہور)۔
یہ خواب جناب بشیرحسین ناظم کاہے جواس وقت وزارت مذہبی امور۔اسلام آبادمیں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔آپ 4جنوری 1932ء کوپیداہوئے۔پنجابی اُردوفارسی اوراسلامیات میں ایم اے ہیں۔ قدرت نے نعت گوئی ونعت خوانی کی صلاحیتوں سے نوازاہواہے ۔آپ کے دادا ،نانا ،تایا اوروالدمیاں غلام حسین چوہان نعت خوانی میں جگت استادتھے۔حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات جلیلہ کے ’’اعتراف میں 1992؁ء میں صدارتی ایوارڈ تمغہ حسن کارکردگی سے بھی سرفراز کیاہے۔ فرماتے ہیں کہ صدرضیاء الحق کومیں نے ہی ذوق نعت سے آشناکیاتھا۔ بڑے ہی خوش قسمت ہیں۔ ماشاء اللہ سولہ حج کرچکے ہیں اورقریب بائیس مرتبہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دے چکے ہیں ۔ثم ماشاء اللہ ۔
گمنام خط اورعلامہ اقبالؒ 
1920؁ء کے ابتدائی ایام میں شاعرمشرق علامہ اقبالؒ کے نام ایک گمنام خط آیا جس میں تحریر تھا کہ حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربارمیں تمہاری ایک خاص جگہ ہے جس کاتم کوعلم نہیں۔ اگرتم فلاں وظیفہ پڑھ لیاکرو توتم کوبھی اس کاعلم ہوجائے گا۔خط میں وظیفہ لکھاتھامگر علامہ اقبال ؒ نے یہ سوچ کر کہ راقم نے اپنانام نہیں لکھااس کی طرف توجہ نہ دی اورخط ضائع ہوگیا۔ خط کے تین چار ماہ بعدکشمیرسے ایک پیرزادہ صاحب علامہ اقبالؒ سے ملنے آئے۔ عمر25۔30سال کی تھی۔بشرے سے شرافت اورچہرے مہرے سے ذہانت ٹپک رہی تھی ۔پیرزادہ نے علامہ اقبالؒ کودیکھتے ہی روناشروع کردیا۔آنسوئوں کی ایسی جھڑی لگی کہ تھمنے میں نہ آتی تھی ۔علامہ ؒ نے یہ سوچ کرکہ یہ شخص شایدمصیبت زدہ اورپریشان حال ہے اورمیرے پاس کسی ضرورت سے آیا ہے، شفقت آمیزلہجے میں استفسار ِ حال کیا۔پیرزادے نے کہامجھے کسی مددکی ضرورت نہیں مجھ پراللہ تعالیٰ کابڑافضل ہے ۔ میرے بزرگوں نے خداتعالیٰ کی ملازمت کی اوران کی پنشن کھارہاہوں ۔میرے اس بے اختیاررونے کی وجہ خوشی ہے نہ کہ کوئی غم ۔
ڈاکٹرصاحب کے مزیداستفسارپراس نے کہاکہ میں سری نگرکے قریب ایک گائوںکارہنے والا ہوں۔ایک دن عالم کشف میں ،میں نے حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کادرباردیکھا۔جب نمازنے کے لئے صف کھڑی ہوتی تو آپ ؐ نے دریافت فرمایاکہ محمداقبال آیا یانہیں ؟معلوم ہوا کہ نہیںآیا۔اس پر ایک بزرگ کوبلانے کے لئے بھیجا۔ تھوڑی دیربعدکیادیکھتاہوں کہ ایک نوجوان آدمی جس کی داڑھی منڈی ہوئی تھی اوررنگ گوراتھا ۔ان بزرگ کے ساتھ نمازیوں کی صف میں داخل ہوکرحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کے دائیں جانب کھڑاہوگیا۔
پیرزادے نے علامہ ؒ سے کہا:میںنے آج سے پہلے نہ توآپ کی شکل دیکھی تھی اورنہ میں آپ کانام وپتہ جانتاتھا۔کشمیرمیں ایک بزرگ مولانانجم الدین صاحب ہیں ۔ان کی خدمت میں حاضرہوکر میں نے یہ ماجرابیان کیاتوانہوں نے آ پ کانام لے کرآپ کی بہت تعریف کی ۔اگرچہ انہوں نے بھی آپ کوکبھی نہ دیکھاتھامگر وہ آپ کوآپ کی تحریروں کے ذریعہ جانتے تھے۔ اس کے بعدمجھے آپ سے ملنے کاشوق پیداہوااورآپ سے ملاقات کے واسطے کشمیرسے لاہورتک کاسفرکیا۔آپ کی صورت دیکھتے ہی میری آنکھیں اشک بارہوگئیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے کشف کی عالم ۔۔طورپردُعافرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس گرہ کوکھول دے کیونکہ پیرزادہ صاحب کاکشف اگردرست ہے تومیرے لئے بے خبری اور لاعلمی کی حالت سخت تکلیف دہ ہے۔(روزگارِ فقیرجلددوم۔صفحہ 173تا174مرتبہ فقیرسیدوحیدالدین )۔
حج کی خواہش ناتمام 
آخری عمرمیں علامہ اقبال کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح حج کرلیں اورمدینہ ٔ منورہ میں روضہ ٔ نبوی ؐ پر حاضری دے سکیں۔ ایک دفعہ عبدالرحمان طارق صاحب آپ سے ملنے کے لیے میکلوڈ روڈ والی کوٹھی پرگئے ۔سردیوں کے دن تھے اورآپ برآمدے میں بیٹھے دھوپ سینک رہے تھے۔ طبیعت پر ایک کیف اور وجدکاعالم طاری تھا ۔آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔باربارآسمان کی طرف انگشتِ شہادت اُٹھاتے ہوئے بھرائی ہوئی آوازمیں یہ شعرپڑھ رہے تھے      ؎
ادب گاہسیت ، زیرِ آسمان ازعرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید وبایزید ایں جا
(آسمان کے نیچے ایک ایسی ادب گاہ ہے جوعرش سے بھی نازک ترہے ۔یہاں توجنید اوربایزید جیسی بزرگ ہستیاں بھی ادب واحترام سے دم بخودحاضرہوتی ہیں)۔
تقریباً پندرہ منٹ تک یہی عالم رہا۔ جب طبیعت قدرے بحال ہوئی توطارق صاحب نے عرض کیا:’’آپ ادبِ گاہ مدینہ کی زیارت کے لئے مدت سے بے چین ہیں۔اس آرزو کوکب عملی جامہ پہنائیں گے؟‘‘۔
ایک آہِ سردبھرکرفرمایا:’’اللہ اوراُس کے رسول ﷺ نے حج کے لئے بھی کچھ شرائط عائدکررکھی ہیں۔ان میں سے اہم ترین شرائط یہ ہیں کہ انسان کسی کامقروض نہ ہو، والدین اوربیوی بچوں کے لئے خرچ چھوڑجائے اورحج کے لئے اس قدر زادِ راہ لے کرجائے کہ کسی کامحتاج نہ ہو۔میرے پاس نہ اتنی گنجائش ہے اورنہ میں یہ آرزو پوری کرسکتاہوں ۔نتیجہ یہ ہے کہ فراقِ رسول ؐ میں مرغِ بسمل کی مانندتڑپ رہاہوں اوراسی سوزودرد کا شب وروز لطف لیتاہوں‘‘۔ یہ کہتے ہوئے علامہ کی آنکھوں سے دوبارہ آنسوٹپکنے لگے اوراپنی یہ رباعی دوتین مرتبہ پڑھی    ؎
غم راہی نشاط آمیزترکُن
فغانش راجنوں آمیزترکُن
بگیر اے سارباں راہِ درازے 
مرا سوزِ جدائی تیزترکُن 
(اے ساربان راہِ حجاز!اس راہی کے غم میں نشاط وخوشی کامزید اضافہ کر،اوراس کے آہ وفغاں میں کچھ اورجنونِ عشق شامل کر۔اے ساربان ! منزل ِ محبوب کی جانب کوئی راہِ درازاختیارکراور یوں میرے سوزِ جدائی کو اوربھی تیزکردے)۔
اندھے بھی توحج کرتے ہیں
وفات سے کچھ عرصہ پہلے بہاول پور کے ایک پیرصاحب کوحج کی تیاری کرتے ہوئے دیکھ کر آپ کاشوق اوربھی تیزہوگیا۔ آ پ نے سفرِ حج کے لئے باقاعدہ تیاریاں شروع کردیں۔ کسی نے کہا، صحت کی خرابی کے علاوہ آپ کی آنکھوں سے بھی پانی اُتررہاہے ۔اس حالت میں آپ حج کاسفرکس طرح کرسکتے ہیں۔اس پرآپ نے پُرجوش لہجے میں فرمایا: ’’آنکھوں کاکیاہے !آخراندھے بھی توحج کرآتے ہیں۔‘‘۔
جناب محمدرمضان عطائی اورعلامہ کی ربائی
ایک دن مولانا محمدابراہیم جوعلامہ کے ایک قریبی ساتھی تھے لاہور گئے اور علامہ اقبال سے ملاقات ہوئی۔ واپس آئے تو سرِشام معمول کی محفل جمی اور علامہ اقبال سے ملاقات کا ذکر چلا تو جناب محمدرمضان عطائی کا جنوں سلگنے لگا۔ مولاناابراہیم نے جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا، او رکہنے لگے: ’’لوعطائی، علامہ صاحب کی تازہ رْباعی سنو‘‘۔ پھر وہ عجب پْر کیف انداز میں پڑھنے لگے   ؎
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہاے من پذیر
ور حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہ مصطفیٰؐ پنہاں بگیر
مولانا محمد ابراہیم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، لیکن محمد رمضان عطائی کی کیفیت روتے روتے دگرگوں ہو گئی۔ اسی عالم ِ وجد میں فرش پر گرے، چوٹ آئی اور بے ہوش ہو گئے۔ رْباعی اْن کے دل پر نقش ہو کے رہ گئی۔ اْٹھتے بیٹھتے گنگناتے اور روتے رہتے۔ اْنھی دنوں حج پر گئے۔ اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ: ’جب حجاج اوراد اور وظائف میں مصروف ہوتے تو میں زاروقطار روتا اور علامہ کی رْباعی پڑھتا رہتا۔‘ حج سے واپسی پر عطائی کے دل میں ایک عجیب آرزو کی کونپل پھوٹی: ’’کاش! یہ رْباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی‘‘۔
یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے نام ایک خط لکھا: ’’آپ سر ہیں، فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار، لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی‘‘۔ انھوںنے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے چیدہ چیدہ فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ’’فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رۃباعی مجھے عطا فرما دیں‘‘۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اْنھیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:
’’جناب محمد رمضان صاحب عطائی
سینئر انگلش ماسٹر، گورنمنٹ ہائی سکول، ڈیرہ غازی خان
جنابِ من! میں ایک مدت سے صاحب فراش ہوں۔ خط و کتابت سے معذور ہوں۔ باقی شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلاتکلف وہ رْباعی، جو آپ کو پسند آگئی ہے، اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔    فقط
لاہور: ۱۹ فروری۱۹۳۷ء      محمد اقبال
علامہ کی یہ عطا، جنابِ عطائی کے لیے توشہ ٔ دو جہاں بن گئی۔ علامہ نے یہ رْباعی اپنی نئی کتاب’’ ارمغانِ حجاز‘‘ کے لیے منتخب کر رکھی تھی، مگر عطائی کی نذر کر دینے کے بعد انھوں نے اسے کتاب سے خارج کرکے، تقریباً اسی مفہوم کی حامل ایک نئی رْباعی کہی جو ’’ارمغانِ حجاز‘‘ میں شامل ہے   ؎
بہ پایاں چوں رسد ایں عالمِ پیر
شَود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکْن رْسوا حضورِ خواجہؐ مارا
حسابِ مَن زچشمِ او نہاں گیر
(اے میرے رب! جب (روز قیامت) یہ جہانِ پیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے تو اْس دن مجھے میرے آقا ومولاؐ کے حضور رْسوا نہ کرنا اور میرا نامۂ اعمال آپ ؐکی نگاہوں سے چھپا رکھنا۔)
ایک معمربزرگ نے علامہ سے مصافحہ نہ کیا
(بقیہ اگلی بدھ کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)
رابطہ نمبرات8825051001,9622022292