سنجیدہ سوال
محمد اقبال ڈار
جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (JKBOSE) کے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی ہمارے معاشرے میں ایک پرانی مگر تلخ روایت دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ یہ روایت خوشی بانٹنے کی نہیں بلکہ کریڈٹ حاصل کرنے کی دوڑ کی ہے۔ ہر کوئی اس کوشش میں نظر آتا ہے کہ کامیابی کا سہرا اُسی کے سر بندھے۔اساتذہ اپنی محنت کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہیں، اسکول انتظامیہ اپنی کارکردگی کے دعوے پیش کرتی ہے، کوچنگ اور ٹیوشن سینٹرز نتائج کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بناتے ہیں، جبکہ میڈیا چند ٹاپرز کو نمایاں کر کے ایک محدود تصویر پیش کرتا ہے۔ اس تمام شور میں وہ واحد فریق جو اصل امتحان سے گزرتا ہے، یعنی طالب علم، کہیں پس منظر میں چلا جاتا ہے۔یہ طرزِ عمل صرف غیر منصفانہ نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کی فکری کمزوری اور اخلاقی زوال کی واضح علامت ہے۔
تعلیم ۔مشن یا منافع؟ :
ایک وقت تھا جب تعلیم کو عبادت اور خدمت سمجھا جاتا تھا۔ استاد کو رہنما اور طالب علم کو امانت تصور کیا جاتا تھا۔ مگر آج تعلیم تیزی سے ایک کاروبار میں بدلتی جا رہی ہے، جہاں نتائج اشتہارات بنتے ہیں اور فیصد نمبرز فروخت ہوتے ہیں۔نتائج کے اعلان کے فوراً بعد کوچنگ سینٹرز کے اشتہارات ہر طرف نظر آتے ہیں، جن میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ کامیابی صرف انہی کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ سوچ نہ صرف اسکولوں اور اساتذہ کے کردار کو کمزور کرتی ہے بلکہ طلبہ میں یہ احساس بھی پیدا کرتی ہے کہ بغیر مہنگی کوچنگ کے وہ کچھ نہیں کر سکتے۔یہ رجحان خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے ساتھ ایک خاموش ناانصافی ہے۔
اساتذہ ۔ احترام کے ساتھ احتساب :
اساتذہ کا مقام مسلمہ ہے اور ان کی محنت قابلِ احترام، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف کامیابیوں پر جشن منائیں گے اور ناکامیوں پر خاموش رہیں گے؟اگر کامیاب طلبہ اساتذہ کی محنت کا ثمر ہیں تو ناکام طلبہ کس کی ذمہ داری ہیں؟کیا ہمارا تعلیمی نظام خود احتسابی کی جرأت رکھتا ہے؟تعلیم میں بہتری صرف تعریف سے نہیں بلکہ ایماندارانہ جائزے سے آتی ہے اور بدقسمتی سے یہی عنصر سب سے زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔
طالب علم پر بڑھتا ہوا دباؤ :
کریڈٹ کی اس جنگ میں سب سے زیادہ دباؤ طالب علم پر پڑتا ہے۔ اسکول، کوچنگ، والدین اور سماج سب اپنی اپنی توقعات اس کے کندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم سیکھنے کے بجائے صرف نمبرز کے خوف میں جیتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں تعلیم اپنی روح کھونے لگتی ہے۔
ناکامی، خاموشی اور اصل حق دار کا سوال :
پہلے حصے میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح نتائج کے بعد کریڈٹ کی سیاست تعلیم کے اصل مقصد کو دھندلا دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں وہ طلبہ کہاں کھڑے ہیں جو کامیاب نہیں ہو پاتے؟ہر سال چند ٹاپرز کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر ہزاروں طلبہ جو محنت کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے، ان کا ذکر کہیں نہیں ہوتا۔ کیا وہ ہمارے تعلیمی نظام کا حصہ نہیں؟ کیا ان کی محنت بے معنی تھی؟ناکامی کو چھپانا اور صرف کامیابی کو نمایاں کرنا ایک غیر صحت مند تعلیمی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف کامیاب افراد پیدا کرنا نہیں بلکہ ہر طالب علم کی صلاحیت کو پہچاننا اور نکھارنا ہے۔
اصل مرکز طالب علم:یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ امتحان طالب علم دیتا ہے، پرچہ وہی حل کرتا ہے، دباؤ وہی برداشت کرتا ہے اور نتائج کے اثرات بھی اسی کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے کامیابی ہو یا ناکامی، اس کا اصل حق دار طالب علم ہی ہے۔اساتذہ، والدین، اسکول اور کوچنگ سینٹرز معاون کردار ادا کرتے ہیں، مگر مرکزی کردار نہیں۔ جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے، تعلیمی انصاف ممکن نہیں۔
میڈیا اور سماج کی ذمہ داری :
میڈیا کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کرنا ہوگا۔ نتائج کو سنسنی اور تشہیر کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعلیمی مسائل، ذہنی دباؤ اور نظام کی خامیوں پر بات ہونی چاہیے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نمبرز کی دوڑ میں شامل ایک نسل چاہتے ہیں یا سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے والی نسل۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔نتائج ہر سال آتے رہیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سال اسی کریڈٹ کی سیاست میں الجھے رہیں گے؟ یا ہم تعلیم کو ایک اجتماعی ذمہ داری سمجھ کر طالب علم کو مرکز میں رکھیں گے؟اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تعلیم کو تجارت سے نکالیں، نتائج کو احتساب اور اصلاح کا ذریعہ بنائیں اور طالب علم کو وہ مقام دیں، جس کا وہ حقیقی حقدار ہے۔ ورنہ خدشہ ہے کہ کامیابی کے اعداد تو بڑھتے رہیں گے، مگر تعلیم اپنی اصل روح کھو بیٹھے گی ۔
(مضمون نگار محکمہ تعلیم میں بحیثیت مدرس ہائر سیکنڈری سکول اپنے فرائض انجام دیتے ہیں)