جموں و کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک ہے۔ جب سے زندگی میں حساب کتاب رکھنے کی حس پیدا ہوئی ہے، اسی بینک کا نام ذہن و دماغ میں گونجا ہے۔ چھوٹی بڑی جو بھی آمدن ہے، اسی بینک میں پڑی رہتی ہے۔ قرضہ اُٹھانے کی جب بھی مجبوری درپیش آئی تو اسی بینک کا خیال دل میں آیا۔ ہمارے قرضے بھی ہماری اوقات کی مناسبت میں ہوتے ہیں لیکن اُن کے حصول میں جو جو پاپڑ بیلنے پڑے، ہم نے خندہ پیشانی سے جھیلے۔ کیوں نہ جھیلتے؟ جموں کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک جو تھا! چپراسی سے لے کر برانچ منیجر تک سب کی ڈانٹیں کھاتے رہے، سب کے نخرے سہتے رہے، لیکن اُف تک نہ کی۔ وجہ؟ جموں کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک ہے، اس کے بارے کوئی ایسی ویسی بات کرنا قومی غداری کے مترادف ہے۔
جموں و کشمیر بینک ہماری اقتصادی اور مالی آزادی کی ضمانت تھا۔ اور یہ ہمارا بھروسہ ہی نہیں ہمارا عقیدہ تھا۔اور ہم چونکہ اہل عقیدت سے تعلق رکھتے ہیں، ہم نے کبھی بھی جموں و کشمیر بینک کے تئیں کسی شک کو اپنے ذہن کے دریچوں کے آس پاس بھی بھٹکنے نہیں دیا۔ہمیں کتنی بار بھی بینک کے دفتروں میں ذلیل کیا گیا ہو، ہم بینک کے قومی Character کو مد نظر رکھتے ہوئے ان ذلا لتوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ وجہ؟ جموں و کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک ہے!
سرکار پہ تو ہمیں ایک ذرا بھروسہ نہیں۔ جب بھی کسی شخص کو سرکاری نوکری ملتی ہے تو ہم یہی سوچتے ہیں کہ نوکری پیسے کے عوض ملی ہوگی۔ لیکن ہم نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جموں و کشمیر بینک میں بھی سرکار ہی نوکری دیتی ہے اور وہ بھی پیسے کے عوض۔
پھر پتہ چلا کہ یہ تو بہت پرانا سلسلہ ہے جو کئی دہائیوں سے چلتا آرہا ہے۔ بینک کاچیئرمین کوئی بھی ہو، بینک کی چابی سیاست دانوں کے ہاتھ میں ہی رہتی ہے۔ ہم تھوڑا سا گھڑ بڑا گئے۔ پھر اپنے ایم ایل اے سے پوچھا کہ بھائی کیا تم ہی بینک میں نوکریاں دیتے ہو۔ اُس نے بڑی سادگی سے کہا کہ ’مجھ سے تو کسی پارٹی لیڈر نے کوئی ایسی بات نہیں کی‘۔ اُس کی اوقات کیونکہ ہماری جیسی ہی تھی، اس لئے اُسے کچھ خبر نہیں تھی۔ ہم نے تھوڑا سا وقت نکال کے تھوڑی سی Research کی۔ پتہ چلا کہ کچھ نوکریوں کے لئے دس سے بیس لاکھ کی رشوت دی گئی ہے اور کچھ نوکریاں سیاسی فوائد کو مد نظر رکھ کر بغیر رشوت کے دی گئی ہیں۔ میں پھر بھی خاموش رہا۔ سوچا کہ شاید یہ سب کچھ قومی مفاد میں ہو رہا ہے۔
کہیں نہ کہیں مجھے تھوڑا بہت شک ہونے لگا جب کسی دوست نے کہا کہ اگر آپ ایک کروڑ کے بجائے سو کروڑ کا قرضہ لینا چاہیں تو بینک کے افسر آپ سے بہت ہی عزت سے بات کریں گے۔ مجھے سو کروڑ تو چاہئے نہیں تھا، اس لئے یہ مشورہ کسی کام کا نہیں تھا۔ لیکن اب!!!
اب تو سب کچھ پتہ چل گیا ہے۔ ہمارا اپنا بینک ہمیں کو چونا لگا رہا تھا۔ کاروبار تو ہمارے اور ہماری سرکار کے پیسے پر کر رہا تھا لیکن ہمیں یہ اختیار نہیں دے رہا تھا کہ ہم اس سے سوال کریں۔ RTI ہمارے پاس ایک ہتھیار ہے، کمزور سا، لیکن ہے تو۔ بینک تو اسے بھی مان نہیں رہا تھا۔
آج کی بات نہیں، جب سے یہ بینک کام کرتا رہا ہے، اس نے ہمیں ’قومی مفاد‘ کے نام پر بے وقوف بنایا ہے۔ بے وقوف کے بجائے میں شائد کوئی اور لفظ استعمال کرتا لیکن وہ غیر پارلیمانی ہوتا۔ اب جب کہ سرکار نے بالآخر جموں و کشمیر بینک کی طرف توجہ دینا شروع کردی ہے، لازم ہے کہ تمام معاملات کی تحقیقات جلد سے جلد مکمل کی جائے اور ملوثین کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ اگر واقعی بینک میں نوکریوں کے حوالے سے گھوٹالے ہوئے ہیں تو انہیں طشت از بام کیا جائے اور مستحقین کو اپنا حق دیا جائے۔ این۔پی۔اے (NPA) کے بارے میں جو خبریں آ رہی ہیں، اُن کی تحقیقات بھی لازم ہے۔ یہ بھی لازم ہے کہ بینک سے جُڑے تمام معاملات کا شفافیت کے ساتھ جائیزہ لیا جائے اور ریاست کے عام لوگوں کو، جنہوں نے ہمیشہ اس بینک کو اپنا بینک مانا ہے، اس بارے میں با خبر رکھا جائے۔
لازم ہے کہ بینک سے جُڑے تمام معاملات کو جلد سے جلد سدھارا جائے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔ غیر یقینی صورتحال نہ جموں کشمیر بینک کے لئے، نہ جموں کشمیر سرکار کے لئے اور نہ ہی یہاں کے عوام کے مفاد میں ہے۔ یہ بینک واقعی ہمارا قومی اثاثہ ہے اور اس اثاثے کی حفاظت کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ اگر چند گندی مچھلیوں نے بینک کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے تو انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر بینک کو RTI کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ اب امید کی جاسکتی ہے کہ بینک کی کارکردگی میں شفافیت آجائے گی اور یوں عوامی حلقوں میں شک و شبہات کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘