محمد حنیف
بھارت کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی میں 8.2فیصدکی متاثر کن جی ڈی پی ترقی درج کی ہے، جو ملک کی حیثیت کو دنیا کی تیز ترین بڑھتی ہوئی بڑی معیشتوں میں سے ایک کے طور پر مزید مضبوط کرتی ہے۔ یہ کارکردگی اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی منڈیوں کو جغرافیائی سیاسی تناؤ، مہنگائی کی لہروں اور ترقی یافتہ معیشتوں میں غیر یکنواں بحالی جیسے مسائل نے غیر مستحکم کر رکھا ہے۔ بھارت کی معاشی کارکردگی، جو گھریلو اعتماد اور ساختی پالیسی تعاون سے چلتی ہے، ایک غیر یقینی عالمی ماحول میں استحکام اور لچک کی علامت ہے۔
مرکزی حکومت نے حال ہی میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کا خیرمقدم کیا ہے اور انہیں ملک کی بڑھتی ہوئی معاشی صلاحیت اور جاری اصلاحات کی مؤثریت کا مظہر قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ ترقی بھارت کی افرادی قوت، کاروباری طبقے اور صنعتوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پالیسی اقدامات کے مثبت نتائج ملک کو طویل مدتی ترقی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
بھارت کی معاشی توسیع متعدد شعبوں میں وسیع بحالی سے عبارت ہے۔ گھریلو طلب اب بھی ترقی کا ایک مضبوط محرک بنی ہوئی ہے۔ شہری کھپت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جسے روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع، ڈیجیٹل سہولتوں کی بہتری اور خرچ کرنے کی بلند تر صلاحیت سے تقویت ملی ہے۔ سفر، مواصلات، ریٹیل اور ہاسپیٹلٹی سے متعلق خدمات نے نمایاں بحالی دکھائی ہے، جبکہ ڈیجیٹل فنانس اور صحت جیسے ابھرتے ہوئے شعبے بھی وسعت اختیار کر رہے ہیں۔دیہی کھپت اگرچہ موسمی عوامل اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر رہتی ہے، تاہم مجموعی طور پر مستحکم رہی ہے۔ زرعی استحکام، دیہی انفراسٹرکچر میں بہتری اور چھوٹے شہروں کی بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمی نے اس استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بھارت کا صنعتی منظرنامہ بھی ایک نئی توانائی سے بھرپور دکھائی دیتا ہے۔ مینوفیکچرنگ میں اضافہ ہوا ہے، جسے گھریلو مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب اور کاروباری اعتماد نے تقویت دی ہے۔ حکومت کی جانب سے مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے دی جانے والی پالیسی مراعات نے الیکٹرانکس، دواسازی، قابلِ تجدید توانائی کے آلات اور آٹو سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔
تعمیراتی شعبہ اس وقت ترقی کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ ہائی ویز، ریل جدید کاری، بندرگاہوں کی اپ گریڈیشن، ہوائی اڈوں کی ترقی اور شہری رہائش کے منصوبے وسیع معاشی سرگرمی پیدا کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں نے نہ صرف تعمیراتی سامان کی طلب میں اضافہ کیا ہے بلکہ روزگار کے بڑے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔
سرمایہ کاری کا ماحول بھی بہتر ہوا ہے۔ سرمایہ تشکیل میں مسلسل اضافہ سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور توانائی کے نظام پر سرکاری سرمایہ کاری نے طویل مدتی ترقی کی بنیاد رکھی ہے۔ بہتر ٹیکس نظام اور انتظامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن نے کاروباری ماحول کو زیادہ شفاف اور پیش گوئی کے قابل بنایا ہے۔
مالیاتی اداروں کی صحت میں بھی بہتری آئی ہے۔ ایس ایم ایز کو قرض فراہمی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ نے مالی شمولیت کو مضبوط کیا ہے۔
عالمی کاروباری ماحول مخلوط نوعیت رکھتا ہے۔ سست عالمی طلب اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بھارتی برآمدات کو متاثر کیا ہے، تاہم انجینئرنگ اشیا، دواسازی، کیمیکلز اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں نے برآمدات کو سہارا دیا ہے۔ سروسز کی برآمدات اب بھی بھارت کی سب سے مضبوط عالمی برتری ہیں، خصوصاً آئی ٹی، کنسلٹنگ اور مالیاتی خدمات۔
روزگار کے رجحانات میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔ تعمیراتی اور صنعتی شعبے میں وسعت نے شہری اور نیم شہری علاقوں میں محنت کشوں کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خدمات کے شعبے نے بھی بڑی تعداد میں ملازمتیں فراہم کی ہیں۔ پلیٹ فارم پر مبنی اور گیگ اکانومی سے منسلک روزگار نے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔مہنگائی اب بھی تشویش کا باعث ہے، بالخصوص غذائی اجناس میں۔ اگرچہ بنیادی مہنگائی میں اعتدال آیا ہے، لیکن خوراک کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ جی ڈی پی کارکردگی اصلاحات کے تسلسل اور نظام کی بہتری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے، توجہ اس بات پر رہے گی کہ ترقی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔
مستقبل کے لحاظ سے بھارت کی معاشی سمت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ مضبوط گھریلو طلب، صنعتی سرگرمی، وسیع ہوتی سروسز اور پائیدار سرمایہ کاری نے آئندہ سہ ماہیوں کے لیے مستحکم بنیاد فراہم کی ہے۔
8.2فیصدجی ڈی پی میں اضافہ نہ صرف مختصر مدتی بحالی کا اشارہ ہے بلکہ ایک وسیع معاشی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ یہ شہریوں اور کاروباروں کی جدوجہد، اور ایک ایسا پالیسی ماحول ظاہر کرتا ہے جو شفافیت، استعداد اور شمولیت کو تقویت دے رہا ہے۔
رابطہ۔9419000507