جموں//جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ، جسٹس گیتا متل نے جوڈیشل افسروں پر زور دیا ہے کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ لوگوںکو زیادہ فائدہ حاصل ہوسکے۔چیف جسٹس نے ان باتوں کا اظہار جوڈیشل اداروں میں معیار کو بہتر بنانے میں درپیش چیلنجوں اور مواقعوں سے متعلق دو روزہ نارتھ زون علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد نیشنل جوڈیشنل اکیڈیمی نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ اور سٹیٹ جوڈیشنل اکیڈیمی کے اشتراک سے کیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل افسروں کو اپنے آپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدیدیت سے ہمکنار کر کے اس سے عدالتی نظام میں بروئے کار لانا چاہیئے ۔چیف جسٹس نے اس اعتما د کا اظہار کیا کہ عدلیہ لوگوں تک بروقت انصاف پہنچا نے میں حائل چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے ۔سپریم کورٹ جج جسٹس نوین سہنا اس موقعہ پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔جبکہ ڈائریکٹر نیشنل جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس جی رگھورام نے تقریب کی صدارت کی۔ضلع کورٹ کمپلیکس سری نگر میں حال ہی میں شروع کی گئی ویڈیو کانفرنسنگ سہولیت کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قدم ای۔ کورٹس پروجیکٹ کے تحت عملایا گیا جس کا بنیاد ی مقصد یہ ہے کہ ریاست کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کو بلا خلل کے انصاف فراہم ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ اس نظام کو ریاست بھر کی عدالتوں میں جلد شروع کیا جائے گاتاکہ وقت اور خرچے کے ساتھ ساتھ دیگر محرکات سے بچا جاسکے ۔چیف جسٹس نے ریاست میں انصاف کی فراہمی کے نظا م کو فروغ دینے میں مرکز کی طرف سے ریاستی حکومت کو دئیے جانے والے اشتراک کی تصدیق کرتے ہوئے جوڈیشل افسروں پر زور دیا کہ وہ اپنی قانونی صلاحیتوں کو نکھار نے کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نظام میں کئی چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم اس میں کافی مواقع بھی موجود ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ ان دونوں نے کے لئے تیار ہے ۔چیف جسٹس نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ عدلیہ کے کام کاج کو صرف علم اور ذہانت سے ہی نہیں چلایا جاسکتا ہے بلکہ اس میں عقلمند ی ، دانشمندی اور انصاف کے تقاضوں کو سمجھنا بہت ہی ضروری ہے۔ریاست میں کمرشل کورٹ ایکٹ اور فیملی کورٹ ایکٹ کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ان قوانین کو انصاف کی فراہمی کا موثر ذرائع بنانے کے لئے کوششوں کو تیز کیا جائے گا۔چیف جسٹس ، جسٹس گیتا متل نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس شرکأکو ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرے گا تاکہ وہ اپنے تجربات اور صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے شک و شبہات کو دورکر نے، عدالت ہنرمندی سمجھنے اور اعتماد کے جذبے کو تقویت بخشنے میں مدد ملتی ہے اور قانونی نظام کو چلانے کے لئے درکا ر صلاحیتوں میں بہتر ی آتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ادارہ جاتی استحکام ادارہ جاتی ترقی کے لئے لازمی ہے اور اس طرح کی کانفرنس مذکورہ نشانہ حاصل کرنے کے لئے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔چیف جسٹس نے عدلیہ کو انصاف کی فراہمی کا ایک فعال ادارہ بنانے کی ضمن میں جسٹس سنہا کی کوششوں کوسراہتے ہوئے کہا کہ اس موقعہ پر ان کی موجودگی سے ذیلی عدالتوں کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب جسٹس سہنا کے تجربے اور دانشمندانہ صلاحیتوں سے صحیح معنوں میں مستفید ہوں گے۔جسٹس جی رگھورام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے پندرہ برسوں کے دوران نیشنل جوڈیشل اکیڈیمی جوڈیشل افسروں اور عدالتوں کے منسٹریل افسروں کو لگاتار تربیت اور قانونی تعلیم سے روشناس کراتی آرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ جوڈیشل کنبے میں کئی ایسے معیاری پہلو ہے جنہیں مزید تقویت بخشنے کی ضرورت ہے ۔جسٹس جی رگھورام نے مزید کہا کہ لأ کالجوں میں ججوں اور جوڈیشنل انسٹرکٹروں کے لئے علاحدہ سے تربیتی انسٹی چیوٹ قائم کرنے کے امکانات تلاش کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانونی تعلیم ایک بہت بڑا صلاحاتی کام ہے اورعدالتی دنیا میں مزید جواب دہی اور شفافیت لانے کے لئے ہم سب کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔جسٹس راجیش بندل ، چیئرمین کمیٹی سٹیٹ جوڈیشل اکیڈیمی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکھنا ایک لگاتار عمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ذرائع سے علم میں اضافہ کیا جانا چاہیئے ۔ جسٹس بندل نے مزید کہا کہ جوڈیشل تعلیم اور جوڈیشل نظام کے متعلقین کے مابین استفسار کے مجالس کا انعقاد کی طرف توجہ دینا لازمی ہے تاکہ بروقت انصاف کی فراہمی ممکن ہوسکے ۔کانفرنس کے دوران جن موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا ان میں کانسٹچیویشنل ویژن آف جسٹس ، ہائی کورٹ اینڈ ڈسٹرکٹ جوڈیشری ، بلڈنگ سنرجیز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونکیشن ٹیکنالوجی اینڈ ایکسس ٹو جسٹس ، کورٹ اینڈ کیس منیجمنٹ اور دیگر کئی موضوعات شامل ہیں۔کانفرنس میں کئی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے جج صاحبان نے بھی شرکت کی جن میں ہماچل پردیش ، پنجاب ، تلنگانہ ، اتر اکھنڈ ، آندھرا پردیش، بھوپال ، الٰہ آباد، دلی ، ہریانہ اور جموں وکشمیر شامل ہیں۔علاوہ ازیں ڈائریکٹر ایس جے اے راجیش گپتا ، پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج وی سی کول ، رجسٹرار جنرل سنجے دھر کے علاوہ دیگر افسران اور جوڈیشل افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔بعد میں معزز شخصیات نے اس موقعہ پر سٹیٹ جوڈیشل اکیڈیمی کا ای نیوز لیٹر بھی جاری کیا۔