خدمت ِ خلق
معراج زرگر
’’انسانی خدمت ‘‘آدم علیہ ا لسلام تا آخری شارع نبی کریم صلی ا ﷲعلیہ وسلم الہامی اور آفاقی شریعت کا ایک اہم ترین موضوع رہی ہیں۔ کوئی بھی شریعت جو انسانی نشو و نُما اور فلاح و صلاح کے لئے مِن جانب اﷲ مختلف ادوار میں نازل ہوئی، خدمتِ خلق اس کا ایک اہم باب رہا ہے۔یہاں تک کہ غیر الہامی عقیدے اور اِزم بھی خدمتِ خلق کی اہمیت سے انکاری نہیں۔ تمام مذاہب کے پیام بر اپنے ماننے والوں اور پیروکاروں کو محرومین، مساکین، یتامیٰ، بیوائوں، غریب اور محتاجوں کی امداد اور اِن کے تئیں بہتر انسانی سلوک کی تلقین کرتے ہیں۔بہر حال انسانی تاریخ کے طویل سفر پر جہاں تک بھی نظر پڑتی ہے، وہاں یہ بات ہمیں صریحاً اور مطلقاً نظر آتی ہے کہ خدمتِ خلق مشترکہ طور تمام ادیان اور ملل کا خاصا رہا ہے۔کیونکہ اس بات کو کوئی بھی سلیم الفطرت انسان نظر انداز نہیں کرسکتا کہ سوسائٹی کے پچھڑے ہوئے طبقات کی دلجوئی کرنا، ان کا دُکھ درد بانٹنا ، ان کی ضروریات زندگی کی فی اﷲ و ﷲکفالت کرنا انسانیت کے لئے کس قدر لازم و ملزوم ہے۔ دین ِا سلام جو ہر زمان و مکان میں ہر انسان کیلئے رحمت و موّدت اور شفقت و راحت کا نظام ِ عمل پیش کرتا ہے، کو اس باب میں بلا شبہ تمام سابقہ منسوخ شُدہ ادیان و شرائع پر اس اعتبار سے فضیلت اور فوقیت حاصل ہے کہ یہ خدمتِ خلق ُ ا ﷲ کے ضمن میں واضح احکامات اور فرائض و واجبات کا ایک وسیع ا لجحت اور قابلِ عمل پروگرام عطا کرتا ہے اور اس حوالے سے تمام تفصیلات و جزئیات کی تشریح بھی کرتا ہے۔
قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ نے سابقہ انبیائے کرام کی دعوتی جدوجہد کا جو نقشہ ہمارے سامنے بطورِ اُسوہ پیش کیا ہے، اس میں ہر مسلمان کے لئے انتھک اور مسلسل دعوتِ دین کو تمام تر مشکلات ، مخالفتوں، مصیبتوں اور ابتلائوں کے باوجود حق و صداقت پر کوہِ گراں کی سی ثابت قدمی دکھانے کے علاوہ جس چیز کا مکلّف بنایا ہے ، وہ حتی المقدور اور حسبِ استطاعت خدمتِ خلق ہے۔یعنی انسانوں کو مختلف تکالیف اور پریشانیوں سے نجات دلانا اور وقت کے سماجی مسائل حل کرانا وغیرہ وغیرہ۔
عالمِ انسانیت کے لئے شفیق و رفیق پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ابتدائی نزول سے ہی عبادات اور حلال و حرام سے روشناس فرمانے سے پہلے ا ﷲ رب ا لعزت نے آپؐ کی زبانِ حق بیان سے مسلمانوں کو حقوق ا لعباد ، خدمتِ خلق، صلہ رحمی اور اعلیٰ انسانی قدروں کی اہمیت اور افادیت سے واقف کرایااور ان چیزوں کو حقیقی داعی کے کردار کا ایک لازمی وصف قراردیا۔با لفاظ ِ دیگر داعیء اِسلام کے اخلاق و کردار، صداقت و دیانت، انسان نوازی، جذبہء ایثار ، خدمتِ خلق ا ﷲ کی بے لوث اور بے غرض سرگرمیوں سے مدعوئین اگر واقف اور متاّثر ہوں تو پھر جلد ہی لوگ بھی اس دعوت اور اسکے داعی کے کردار سے متاثر ہوکر رہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیماتِ قرآنی اور خود نبی کریمؐ کی اِخلاقی تربیت سے صحابہ کرامؓ اجمعین کی ایک زبردست جماعت پیدا ہوگئی جنہوں نے آپؐ کی مبارک رہنمائی میں دعوتِ دین ، خدمتِ خلق اور حقوق ا ﷲ کی ادائیگی کا وہ کام سر انجام دیا جسے دیکھ کر آج بھی بڑے بڑے مفکّر اور ناقدین مہر بہ لب ہیں۔انہوں نے سماجی مسائل کا وہ تیر بہ ہدف سادہ حل پیش کیا جس کی نظیر ملنا تاریخ میں ناممکن ہے۔
انسانی ہمدردی، خدمتِ خلق اور خیر خواہی شریعت میں پسندیدہ بلکہ مطلوبہ اعمال ہیں۔اہلِ ایمان کو اِس امر کی نسبت اُبھارا گیا ہے۔اسلامی اخوت و ایثار دینی زندگی کے بنیادی شعار ہیں اور اس کا دائرہء عمل وسیع ہے۔ ا ﷲ کی جانب دعوت دیتے ہوئے جہنم کی آگ سے بندگانِ خدا کو بچانا، صراطِ مستقیم پر لوگوں کو بلانا، دینی علوم کی طرف متوجہ کرنا، غریبوں ، مسکینوں، یتیموں، بیوائوں، ناداروں، مسافروں، کی امداد کرنا، بھوکوں پیاسوں کو کھلانا پلانا، ننگوں کو کپڑے پہنانا، کمزوروں کو سہارا دینا،گرتوں کو سنبھالنا، رشتہ داروں سے ہمدردی کرنا،غرض اسلامی نظریہء حیات کے فریم ورک میں خدمتِ خلق اور انسانی ہمدرد ی اسلامی دستور کی اہم ترین شکلیں ہیں اور ایمان کے جزوِ لا ینفک ہیں۔
خالق ِ کائنات ہر زمانے میں اور موافق و نا موافق حالات میں اپنے بندوں میں سے کسی ایک چہیتے بندے کو شریعت کے اصولوں اور ان کے نفاذ کے لئے چُن لیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس فہرست اِنتخاب میں ہم ہر دہر میں کسی نہ کسی فعال اور پاکباز بندے کو پاتے ہیں۔اگرچہ کُلّی دعوتِ اسلامی اور تبلیغ کے لئے وہ اپنے خاص ا لخاص بندگان کو ذمّہ داری سونپتے ہیں، لیکن وقت کی ضرورت اور اہمیت کے پیشِ نظر کبھی کبھی بارگاہِ ایزدی کچھ خاص بندوں کو بھی شریعت کے کچھ اساسی اصولوں کی پاسداری کرنے کے لئے منتخب فرماتے ہیں۔آج کے جدید اور بے ہنگم دور میں ایسے فلاحی اداروں کا قیام جو خالصتاً رضاکارانہ طور اِسانی خدمات کیلئے معرض ِ وجود میں آئے ہوں، در اصل انہی انبیائی اصولوں کی پاسداری اور اتباع کی عملی شکل ہے۔اس تناظر میں جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کا قیام بھی 1972ء میں مرحوم عبد ا لخالق ٹاک زینہ گیری کے مبارک ہاتھوں ہوا۔مرحوم ٹاک صاحب ایک عظیم ا لمرتبت انسان دوست اور سلیم ا لفطرت تھے۔ اعلیٰ سوچ کے حامل قلمکار اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک ایماندار اور قابل سرکاری آفیسر تھے۔غریب ، نادار اور مفلس عوام کے تئیں ایک ہمدردانہ دل اور محبت بھرا جذبہ رکھتے تھے۔مرحوم موصوف جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کی بنیاد ڈالنے سے پہلے ہی انفرادی طور اور اپنے کچھ رضاکاران کے ساتھ مل کر خدمتِ خلق کے عظیم کام میں ہمہ تن مصروف ِ عمل ہو چکے تھے۔ چونکہ وہ محکمہ مال سے وابستہ تھے اور ایک بنیادی ممبر کی حیثیت سے اکثر دیہات اور دوسری دور دراز جگہوں پر تعینات رہے، اس لئے اُنہیں بنیادی سطح پر محروم اور پچھڑے ہوئے طبقات کی کسمپرسی اور افلاس کا خاصا مشاہدہ تھا۔افرادی سطح پر وہ ایک سنجیدہ اور پُر خلوص دینی خدمت گار کے طور ایک مسلمہ شخصیت کے حامل تھے۔باری تعالیٰ نے اُنہیں اسی مناسبت سے خلوص، نیک نیتی، غریب پروری، یتیم پروری اور مسکین پروری کے سلسلے میں کشادہ قلبی بخشی تھی۔1972ء میں مرحوم نے باظابطہ جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کی شکل میں ایک ادارہ قائم کیا۔24جولائی 1973ء میں جموں و کشمیر سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت اس فعال ادارے کو رجسٹر کیا گیا اورآج کی تاریخ میں یہ اُن چند رضاکار اداروں میں سے ایک ہے جنہیں قانوناً ٹرسٹیز ایکٹ رجسٹریشن حاصل ہے۔ ٹرسٹ کو باظابطہ ایک بورڈ آف ٹرسٹیز چالاتا ہے جس کا سربراہ ٹرسٹ کا سرپرست ہوتا ہے۔تمام ٹرسٹیز رضاکارانہ طور خدمات انجام دیتے ہیں ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جس تاریخ یعنی 24 جولائی کو جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کو رجسٹر کیا گیا، اُسی تاریخ کو سال 1989ء میں وادی کا یہ عظیم سپوت اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملا۔(ا ﷲ اُنہیں کروٹ کروٹ جنّت نصیب فرمائے۔آمین)مرحوم ٹاک صاحب کے بعد کثرتِ رائے سے آپ کے لائق فرزند ظہور احمد ٹاک صاحب کو ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے منتخب کیا گیا۔ موصوف کی ذات محتاج تعارف نہیں اور وہ اﷲ کے کرم سے کامیابی کے ساتھ ٹرسٹ کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔
یہ امر ہم سب کی علمیت میں ہے کہ پچھلی چار دہائیوں سے ریاست جموں و کشمیر عموماً اور وادیٔ کشمیر خصوصاًایک ایسے کربناک دور سے گذری ہے، جس کی روئے زمین پر چند ہی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ نامساعد اور گھمبیر ترین حالات سے پیدا شدہ سماجی مسائل اس قدر زیادہ ہیں کہ انسانی عقل اور کاوش اُن کا احاطہ کرنے کی قطعاً متحمل نہیں ہوسکتی۔ہزاروں گھر اُجڑ گئے، جائیدادیں تباہ ہوئیں، کاروباری سرگرمیاں معطل ہوئیں، ہزاروں کم عمر عورتیں بیوہ ہوئیں، ہزاروں کم عمر بچے یتیمی اور یسیری کی حالت میںپیدا ہوئے، غربت اور مسکنت کا عالم اِنتہا کو پہنچا۔ اِن نا گفتہ بہ حالات میں جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ نے ایک ایسی فلاحی رضا کار تحریک یا تنظیم کی حیثیت سے بفضلِ تعالیٰ ایک منظم اور فعال امدادی آرگنایزیشن کا رول ادا کیا ، جو جان لیوا حالات میں ایک کامیاب اور مستند ادارے کا ہی وصف ہوسکتا ہے۔ یہ اﷲ کا کرم ہی ہے کہ جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ سے وابستہ رضاکاران دینی، ملّی اور انسانی جذبے سے سرشار ہوکر اپنی بساط بھر اور گنجائش کے مطابق ان سنگین اور انتہائی کٹھن حالات کا کماحقہ حتی ا لمقدور حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے۔ جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کی نادار اور لاچار عوام کے تئیں خدمت کو آج 54برس پورے ہوچکے ہیں۔اس پورے عرصے میں یہ اپنی تمام تر مخلصانہ کاوشوںاور کوششوں کے ساتھ میدانِ عمل میں سرگرم رہا۔ جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کا دائرہ کار ریاست کے تینوں خطوں جموں ، کشمیر اور لداخ تک پھیل چکا ہے اور اس وقت ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام پوری ریاست میں 80 سے زیادہ شاخیں کام کر رہی ہیں ۔ یہ سارے یونٹ ہزاروں یتیموں ، بیوائوں ، محتاجوں کی باز آبادکاری اور اِمداد، جسمانی طور ناخیز اور لاچار مریضوں کی امداد اور اُن کی راحت، یتیم اور بے سہارا بچوں اور بچیوں کی تعلیم، تربیت اور کفالت، یتیم اور بے سہارا لڑکیوں کے نکاح کیلئے معاونت، تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نادار یتیم طالب ِ علموں کیلئے تعلیمی امداد، سیلاب میں بے سہارا بیوائوں کیلئے مکانوں کی تعمیر،امداد اور دیر پا راحت وغیرہ وغیرہ کا کام وسیع بنیادوں پر کر رہے ہیں۔ 2025-26مالی سال کے دوران جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ اور اِس سے منسلک شاخ ہا کے ذریعے5 2 کروڑ روپے سے زیادہ کی کثیر رقم خدمتِ خلق ا ﷲ پر صرف کی گئی، جو غیر سرکاری سطح پر ایک بہت بڑی خدمت کہلانے کے لائق ہے۔
جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کی زیرِ نگرانی میں پوری ریاست میں اس وقت 12 یتیم خانے چل رہے ہیں ، جن میں سے چار طالبات اور باقی آٹھ برائے طلباء ہیں۔ ان اقامت گاہوں میں سینکڑوں یتیم طلباء اور طالبات مقیم ہیں ، جن کی اعلیٰ دینی اور مروجہ تعلیم کے انتظام کے ساتھ ساتھ اِن کی بھر پور اور مکمل کفالت کی جاتی ہے۔ ٹرسٹ کے زیرِ اِنتظام گوپال پورہ چاڈورہ میں مرکزی یتیم خانہ برائے طالبات کے متصل ایک شاندار ہائیر اسکنڈری برائے طالبات کا نظام بھی ٹرسٹ کی اہم ترین کڑی ہے۔اس کے علاوہ سینکڑوں طلباء اور طالبات کی اُن کے گھروں میں اور مختلف اسکولوں میں تعلیمی کفالت کی جاتی ہے۔ٹرسٹ ریاست کے طول و عرض میں5000 سے زائد گھروں میں ماہوار بنیادوں پر خوردنی اشیاء فراہم کرتا ہے، جن کے گھر کمائو افراد سے محروم ہیں، یا جن کے پاس آمدنی کا کوئی خاطر خواہ ذریعہ نہیں۔ٹرسٹ ہر سال تقریباٌ 500 سے زائد یتیم اوربے سہارا لڑکیوں کی شادی میں مالی اِمداد کرتا ہے۔ سینکڑوں نادار بیماروں کو حتی ا لمقدور ادویات فراہم کرنا، 13 دستکاری مراکز میں بچیوں کو منافع بخش دستکاری ہنر سکھانا۔ ایک وسیع پیمانے پر ناگہانی آفات سے متاثرہ کنبوں کی باز آبادکاری کرنا، آفاتِ سماوی میں مختلف النوع امداد کی فراہمی، ہر سال 2000 سے زائد تعلیمی وظائف دینا، مختلف سرکاری محکموں اور غیر سرکاری اداروں میںمفلس اور غریب لوگوں کی امداد اور رہنمائی،تعلیمی اور طبّی بیداری مہم چلانا، دیانتدار اور محنتی افراد اور اداروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹاک زینہ گیری میموریل ایوارڈ دینا، عوام الناس اورسرکاری اداروں سے جڑے افراد کی توجہ غریب اور نادار طبقے کی طرف مبذول کرانے کیلئے سیمیناروں ، ورکشاپوں اور کانفرنسوں کا انعقاد کرانا وغیرہ وغیرہ ٹرسٹ کی سرگرمیوں اور پروگراموں میں شامل ہیں ۔
یہ بات اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ا ﷲ کی نظرِ کرم سے ، عوام کے تعاون اور ٹرسٹ وابستگان اور رضاکاران کی جہدِ مسلسل سے جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ نے پچھلے تینتالیس سال میں سماجی خدمات کے محاذ پر ایک قابلِ ذکر رول سر انجام دیا ہے۔اس دوران سینکڑوں یتیموں کو پڑھا لکھا کر اس قابل بنایا ہے کہ معاشرتی زندگی کے مختلف شعبوں میں آج بہ حیثیت عالم، فلاحی کارکن ، ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، ایڈمنسٹریٹر اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر پہنچ کر ملک و قوم کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ کئی سو مستحق کنبہ جات آمدن بخش یونٹ حاصل کرکے خود کفیل بن گئے ہیںاور آج سماج میں عزت دار زندگی گذار رہے ہیں۔ا ﷲ کے کرم سے ٹرسٹ نے حالات کے ستائے ہوئے ہزاروں بچوں اور بچیوں کو مشکل ترین حالات میں پدرانہ کفالت میں لیکر اُنہیں استحصال سے بچایا ہے۔جموں و کشمیر ٹرسٹ اگرچہ اپنی چھوٹی استطاعت اور کم مائیگی اور محدود وسائل کے لحاظ سے سرکاری سطح کے مقابلے میں ایک چھوٹا کام کر رہا ہے ،لیکن ا ﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ نتائج اور وقت کی ضرورتوں کے لحاظ سے اس رضاکار ادارے نے پچھلے تینتالیس سال کے دوران ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔ چونکہ اس فلاحی مرکز کا سارا کام ایک انسانی مسئلے سے جڑا ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ایک دینی اور ملّی مسئلہ ہے، اسلئے ہماراسارا کام صرف اﷲ کی تائید و نصرت کا محتاج ہے۔چونکہ زمینی حالات کی مناسبت سے روز بہ روز ٹرسٹ کے کام اور کاز کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے اور ساتھ ہی انسانی مسائل کا ایک طوفان ہمارے سامنے کھڑا ہے۔لہٰذا ٹرسٹ اس بات کی اشد ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس نیک اور عظیم دینی کام میںجس قدر ممکن ہوسکے، عوام الناس ، خاص کر آسودہ حال طبقے اور دیگر سماجی اور فلاحی تنظیموں کو شامل کرکے خدمتِ خلق کے خدائی مشن کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔اس پسِ منظر میں ٹرسٹ دعوتِ دین کا کام کرنے والی تمام تنظیموں اور افراد سے ملتمس ہے اور توقع بھی رکھتا ہے کہ مسائل اور مشکلات کے بھنور میں اُلجھے ہوئے بے نوا اور دین دکھیوں کو گلے لگائیں۔ بلکہ اﷲ کی خوشنودی اور انبیائی اسلوب و عمل کی اتباع میں ان محتاج ِ امداد لوگوں کی بنیادی ضروریات اور مسائل حل کرنے میں اپنی مخلصانہ کوشش کریں تاکہ یہ بندگان خد ا پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات پائیں۔ہمیں جہاں عام لوگوں کے اخلاق سنوارنے کیلئے وعظ و نصیحت اور زبانی تلقین سے کام لینا ضروری ہے، وہاں یتیموں، بیوائوں ، ناداروں، مریضوںاور حالات کے ستائے ہوئے بے نوائوں کی دلجوئی کے لئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔تب جاکر کسی داعی کے کردار و گفتار میں مطابقت پیدا ہوگی۔ہم سب کو غور و خوض کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے تئیں بے نیازی اور بے غیرتی سے غیر اقوام کے سامنے ہمارے سر شرمندگی سے جھک جائیں، جو خدمتِ خلق کے میدان میں کار ہائے نمایاں انجام دیتے چلے آرہے ہیں اور ’’ہم گفتار وہ کردار، ہم ثابت وہ سیار‘‘بن کر ہمارے اجتماعی وجود پر قہقہے مار کر طنز کریں کہ یہ ہیں رحمتہ ا للعالمین ؐ کے امتی جو یتیموں اور بیوائوں کے بارے میں قرآنی احکامات کے باغی بن رہے ہیں اور لمبی لمبی تقاریر اور قہر انگیز خطبات سے صرف ماحول کو گرمارہے ہیں اور عملی دنیا سے کوسوں دور ہیں۔لہٰذا یہ وقت اس محاذ پر فقط ٹھوس، نتیجہ خیز اور پختہ عمل کا ہے۔یہی وہ ایک واحد صورت ہے جس کے ذریعہ انشا اﷲ حالات بڑی تیزی کے ساتھ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حق میں بھی ہموار ہونگے۔ہمیں اس آرزوئے خاص کی تکمیل کے لئے دعوتی عمل کی انتھک محنت کے ساتھ ساتھ یتیموں اور بیوائوں کے حریمِ دل سے نکلنے والی دعائوں کی سوغات بھی ملنی چاہیے، جس سے کہ اﷲ کی رحمت بر جوش آئے۔
خیرے کُن اے فلاں و غنیمت شمار عمر
زاں بیشتر کہ بانگ بر آید فلاں نہ ماند
(اے شخص، کوئی نیکی کر اور عمر کو غنیمت جان۔ اس سے پہلے کہ منادی ہو کہ فلاں چل بسا)
[email protected]
�����������������