جموں//اپنی پارٹی یوتھ ونگ نے جموں وکشمیر میں بڑھتی بے روزگاری اور سرکاری محکمہ جات میں خالی پڑی اسامیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی یوتھ ونگ ریاستی نائب صدر رقیق احمد خان نے کہاکہ بے روزگاری کی شرح تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان مایوسی کا شکار ہیں اور جموں وکشمیر میں روزگار کے مواقعے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے خود کوتنہا محسوس کر رہے ہیں۔یہاں پر نجی وسرکاری سطح پر نوکریاں نہیں، تعلیم یافتہ نوجوان سخت ذہنی تناو¿ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر پولیس کی طرف سے سب انسپکٹروں کی بھرتی کیلئے جو آسامیاں مشتہر کی گئیں، اُس میں کم سے کم عمر 18سال اور زیادہ سے زیادہ 28سال رکھی گئی ہے جوکہ سراسرنا انصافی ہے۔ انہوںنے مطالبہ کیاکہ عمر کی حد پر نظرثانی کر کے یہ 35سال کی جانی چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اِس میں حصہ لے سکیں۔ انہوں نے کہاکہ حکام جموں وکشمیر کے اندر زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے اے سی کمروں میں بیٹھ کر فیصلے لیکر نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ نہ کھیلیں۔ انہوں نے متنبہ کیاکہ اگر فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو اپنی پارٹی یوتھ ونگ سڑکوں پر آئے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ وادی چناب کے اندر پن بجلی پروجیکٹوں ، شاہراو¿وں کے توسیع پروجیکٹوں یا سرکاری ملازمتوں میں مقامی لوگوں کو نظر انداز کیاجارہاہے۔ ہنر اور غیر ہنر یافتہ نوکریوں میں بیرون ِ جموں وکشمیر کے لوگوں کو ترجیحی دی جارہی ہے جوکہ بہت بڑی نا انصافی ہے۔ صنعتوں کے اندر بھی مقامی نوجوانوں کو روزگار نہیں دیاجارہا۔ رقیق خان نے بتایاکہ مختلف سرکاری محکموں میں 93,456نان گزیٹیڈ اور 27,242گزیٹیڈ آسامیاں خالی ہیں جنہیں فاسٹ ٹریک بنیادوں پر پورا کیاجانا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر مختلف محکمہ جات میں آسامیاں مشہتر کی جائیں اور فاسٹ ٹریک بنیادوں پر بھرتی ہوتو جموں وکشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کو کچھ حد تک راحت مل سکتی ہے۔ انہوں نے 3045درجہ چہارم آسامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ کل 8574آسامیاں مشتہر کی گئی تھیں جن میں سے 3045کے نتائج ظاہر نہیں کئے گئے جن ااُمیدواروں نے اپلائی کیاتھا وہ پریشان ہیں اور حکومت کی طرف سے کوئی معقول جواب نہ ملنے پر وہ متفکر ہیں، اس معاملے کی بڑے پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بھرتی عمل میں تیزی لائی جانی چاہئے۔