اوشین شوکت
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ترقی کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر انسانیت اکثر کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ بڑے بڑے شہر، بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی اور تیز رفتار زندگی سب کچھ موجود ہے۔ مگر اگر دلوں میں انصاف، رحم اور ایمانداری نہ ہو تو یہ ساری ترقی بے معنی لگتی ہے۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ معاشرے میں ظلم بڑھتا جا رہا ہے اور انصاف کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کسی معصوم بچی کے ساتھ درندگی کی خبر آتی ہے، کبھی کسی عورت کی عزت پامال کی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ درد اس وقت ہوتا ہے جب ایسے واقعات کے بعد انگلی مجرم پر نہیں بلکہ مظلوم لڑکی پر اٹھائی جاتی ہے۔ اس سے سوال کیا جاتا ہے:’’وہ رات کو باہر کیوں نکلی تھی؟‘‘،’’اس نے ایسے کپڑے کیوں پہنے تھے؟‘‘،’’وہ وہاں گئی ہی کیوں تھی؟‘‘،’’کیا وہ اکیلی تھی؟‘‘ گویا قصور اس کا ہو جس پر ظلم ہوا۔ جبکہ اصل سوال اس درندے سے ہونا چاہیے جس نے انسانیت کی ساری حدیں پار کر دیں۔ ایک لڑکی کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اس کے کردار پر سوال اٹھانا معاشرے کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ کئی بار مجرم اپنی طاقت اور دولت کے بل پر سزا سے بچ نکلتا ہے۔ پیسے اور اثر و رسوخ کی وجہ سے کیس دب جاتے ہیں، گواہ خاموش ہو جاتے ہیں اور انصاف کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد وہی مجرم دوبارہ آزاد گھومتا نظر آتا ہے، سر اٹھا کر جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔ جبکہ مظلوم خاندان زندگی بھر اس درد کو اٹھاتا رہتا ہے۔لیکن مسئلہ صرف یہی نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو غور سے دیکھیں تو ہر طرف ایک اور بیماری پھیلتی نظر آتی ہے۔کرپشن رشوت اب صرف ایک لفظ نہیں رہی بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں جائیں تو معمولی سے کام کے لیے بھی لوگ مہینوں انتظار کرتے ہیں۔ لیکن اگر جیب میں پیسہ ہو تو وہی کام چند گھنٹوں میں ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں مگر کم لوگ اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ تعلیم کا شعبہ جو قوم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، وہاں بھی بعض جگہوں پر ناانصافی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کئی باصلاحیت طلبہ صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سفارش یا پیسہ نہیں ہوتا۔ جبکہ کچھ لوگ پیسے یا تعلقات کے ذریعے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جب تعلیم میں ہی انصاف نہ ہو تو مستقبل کی بنیاد کیسے مضبوط ہوگی؟ اسی طرح اگر ہم ہسپتالوں کا رخ کریں تو وہاں بھی کئی غریب مریض مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ کوئی مریض تکلیف میں تڑپ رہا ہوتا ہے مگر اس کا علاج اس وقت تک شروع نہیں ہوتا جب تک کاغذی کارروائی مکمل نہ ہو یا کوئی سفارش نہ آ جائے۔ کئی غریب لوگ صرف اس لیے بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ بیماری اور تکلیف کے وقت انسان کو ہمدردی اور خدمت ملنی چاہیے، نہ کہ بے حسی اور رکاوٹیں۔ ہم روز خبروں میں ایسے واقعات سنتے ہیں جہاں کسی کمزور کو انصاف کے لیے لمبی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ کہیں غریب کی زمین چھین لی جاتی ہے، کہیں مزدور کا حق مار لیا جاتا ہے، کہیں کسی بے گناہ کو صرف اس لیے دبایا جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس طاقت نہیں۔ یہ سب صرف قانون کی کمزوری نہیں بلکہ معاشرتی خاموشی کا نتیجہ بھی ہے۔ جب معاشرہ ظلم کو دیکھ کر خاموش ہو جائے تو ظالم اور بھی طاقتور ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک ملک صرف عمارتوں یا سڑکوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتا۔ اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ہر شہری کو برابر کا انصاف ملے، جب کوئی غریب یا کمزور خود کو تنہا محسوس نہ کرے، جب عورت، مرد، بچہ اور بزرگ سب خود کو محفوظ محسوس کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنے ضمیر کو جگائیں۔ ہمیں صرف شکایت کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری بھی سمجھنی ہوگی۔ اگر ہم کسی ظلم کو دیکھیں تو اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اگر کہیں ناانصافی ہو رہی ہو تو اس کے خلاف کھڑے ہوں۔ کیونکہ ایک خاموش معاشرہ کبھی انصاف نہیں لا سکتا۔ آج ہمیں ایک ہی پیغام اپنے دلوں میں بسانا ہوگا: ’’جاگو! جاگو! اے انسان جاگو! انصاف کے لیے جاگو، انسانیت کے لیے جاگو!‘‘اگر ہم نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں تو آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی کہ جب ظلم بڑھ رہا تھا تو ہم کہاں تھے؟
اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں سچ کی آواز کو دبایا نہ جا سکے، جہاں انصاف صرف کتابوں کی بات نہ ہو بلکہ ہر انسان کی زندگی میں نظر آئے۔ اور شاید اسی دن ہم فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہم واقعی ایک انصاف پسند معاشرے کا حصہ ہیں۔