عاداتِ بد
محمد امین اللہ
انسان کے اندر موجود مختلف عادات فرد کی فطری جبلت کا حصہ ہیں جو موروثی بھی ہوتے ہیں مگر بیشتر کا تعلق گھر ، اسکول کالج اور ماحول کے ذریعے تربیت کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ انسان جب دنیا میں تولد ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کی ماں کی گود حاصل ہوتی ہے اور ماں کی عادت ، لہجہ ، عادت و اطوار کو دیکھ اور سن کر سیکھتا ہے ۔ پھر خاندان کے افراد میں والد ، دادا ، دادی ، نانا نانی ،چچا چچی ، پھو پھو وغیرہ اس کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد جب بچے اسکول یا مدرسے میں داخل ہوتے ہیں تو اساتذہ کی تربیت اور اپنے کلاس کے دوستوں کی صحبت سے کچھ اچھی اور بری عادتوں کی لت انہیں لگ جاتی ہے ۔ پھر فارغ اوقات میں کھیل کُود کے دوران محلے کے بچوں کی صحبت متاثر کرتی ہے ۔ اب تو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا سریع الاثر کھیل اور جوا اور ذہنی پرداختگی کے ایپس ہیں، جس نے زمانہ قدیم کے جادو گروں کے سحر کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے اور معصوم بچوں کو بھی اسکرین کا عادی بنا دیا ہے ۔
انسان کی تربیت ہی اس کو اچھے اور برے عادات کا خوگر بنا دیتی ہے ۔ مع بعد الطبیعیات تعلیمی بنیادیں دیکھنے اور سننے سے منسوب ہے یہی اچھی اور بری عادتوں کو راسخ کرتے ہیں ۔ اگر ایک بچہ دانت سے ناخن کاٹتا ہے اور اس کو ابتداءمیں میں نہ سمجھایا گیا اور روکا گیا تو وہ تا عمر اس عمل کو کرے گا اور یہ عادت اس کی رسوائی کا سبب بنے گی ۔ پیر ہلانا ، ناک میں انگلی ڈال کر گندگی صاف کرنا ، بڑوں کے سامنے پیر پھیلا کر بیٹھنا ، کھاتے وقت یا چائے پیتے وقت منہ سے چپڑ چپڑ کی آواز نکالنا ، چلتے وقت پیر گھسیٹنا ، چیخ چیخ کر بات کرنا ، کھڑے ہوکر پیشاب کرنا ، پانی پینا ، استنجا نہ کرنا اور نا پاکی کی حالت میں رہنا ، بڑے بوڑھوں کی قدر نہ کرنا ، ہر چیز کے لئے ضد کرنا ، صبح دیر تک سونا ، یہ سب عادتیں بچپن میں اگر لگ جائیں تو بوڑھاپے تک یہ پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں ۔ جسم کی گندگی چھوٹ جاتی ہے مگر عادت نہیں چھوٹتی ہے ۔
سورۃ المائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔’’اے ایمان والویہ شراب ، جوئے ، پانسے اور آستانے سب نجس ہیں اور شیطانی کام ہیں ۔‘‘اس آیت مبارکہ میں لفظ خمر آیا ہے جس کا لغوی معنی شراب ہے اور شراب کی حرمت قائم کی گئی ۔ مگر تفصیلی معنی ہر وہ چیز جو نشہ آور ہے وہ شریعت میں حرام ہے ۔ جس شخص کو شراب یا کسی بھی نشہ آور چیز کی لت لگ جائے وہ سب سے پہلے اخلاقی اور روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوکر اپنی صحت کو برباد کر دیتا ہے ۔ شریعت میں اس کے عادی شخص کو 80 کوڑے مارنے کی سزا ہے ۔ دنیا کے تمام مذاہبِ اور آسمانی کتابوں میں اس کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ شراب کشید کرنا ، شراب کا کاروبار کرنا ، شراب لے جانا سب حرام اور مجرمانہ فعل ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب کا پورا مٹکا یا ایک بوند سب حرام ہے ۔
حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے دور خلافت میں اس بستی کے مکانوں کو جلوا دیا جہاں چوری چھپے شراب کشید کی جاتی تھی ۔ اکثر شراب پینے والے فعل بد میں مبتلا ہوتے ہیں اور شراب کے نشے میں دھت ہوکر جھگڑا فساد تو معمولی بات ہے ۔ لیکن زمانے کی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ شراب بنانے کی صنعت دنیا کی بڑی صنعتوں میں سے ایک بڑی صنعت شمار ہوتی ہے ۔ اسلامی ممالک میں شراب پینا مسلمانوں کے لئے تو عملاً ممنوع ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا ۔ یہ اشرافیہ اور دولت مندوں کی محفلوں کا اسٹیٹس گردانا جاتا ہے ۔ اکثر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ شرابی جب نشے میں دھت ہوتا ہے تو اس میں جنسی ہیجان پیدا ہو جاتی ہے اور وہ رشتوں کے تقدس کو بھی پامال کر دیتا ہے ۔ قتل و غارتگری اور جنسی جرائم کرنے والوں کی اکثریت شراب کے نشے میں دھت رہتی ہے ۔
اس کے علاوہ درجنوں نشہ والی ادویات اور ڈرگز ہیں جس میں دنیا کے انسانوں کی بڑی تعداد عادی ہو کر اپنا اور اپنے خاندان کی زندگیوں کو برباد کر رہے ہیں ۔ افیم جو خود اک نشّہ ہے جو ادویات کی تیاری کے ساتھ ساتھ نشہ کرنے والوں کے لئے ایک پر کشش چیز ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ برطانیہ نے چین پر قبضے کے دوران پوری چینی قوم کو افیم کا عادی بنا چکا تھا ،آزادی کے بعد چینی حکمرانوں نے سخت سزاؤں کے ذریعے اس نشے سے اپنی قوم کو نجات دلانے میں کامیاب ہوئے ۔ ہیروئن ، شیشہ ، وائلن ، وڈ ، چرس ، گانجا ، بھنگ اور اب ماوا اور گٹکے کے نشے نے ہر عمر کے لوگوں کو اپنا عادی بنا دیا ہے ۔ نشہ کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ نشہ کرنے والے کا ذہن ماؤف ہو جاتا ہے اور وہ چند سالوں میں مختلف لا علاج جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو کر عبرت ناک انجام کو پہنچ جاتا ہے ۔ چونکہ یہ نشے قانوناً ممنوع ہیں ۔لہٰذا اس کے خرید وفروخت کرنے والے اور نشہ کرنے والے اکثر گرفتار بھی ہو کر جیل کی ہوا کھاتے ہیں ۔ یہ نشے آدمی کے مالی حالات کو بھی برباد کر دیتے ہیں اور مہنگیں بھی ہوتے ہیں، لہٰذا اس کے حصول کے لئے نشئ لوگ چوری چکاری اور مختلف جرائم کا ارتکاب بھی کرتے ہیں ۔ بلکہ زیر زمین جرائم پیشہ گروہ ان نشئ لوگوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال بھی کرتے ہیں ۔
مشہور زمانہ حسن بن صباح اپنے مریدوں کو حشیش کے نشے کا عادی بنا کر بڑے بڑے جرائم کرواتا تھا اور دنیا کے نامور شخصیات کا قتل بھی کروایا ۔ نشے کا کاروبار آج اک بین الاقوامی ریکٹ بن چکا ہے ۔ یورپ ، امریکہ اور دنیا کی منظم ریاستیں ایسے گروہوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں ۔سگریٹ نوشی بھی ایک ایسی بری عادت ہے جس میں دنیا کے 20 فیصد مرد و خواتین مبتلا ہیں ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے شدید احتجاج کے بعد سگریٹ بنانے والی کمپنیوں نے سگریٹ کے ڈبے پر جلے ہوئے سیاہ پھیپھڑوں کی تصویر لگا کر یہ لکھ دیا ہے کہ یہ صحت کے لئے نہایت مضر ہے اور اس کے پینے سے پھیپھڑوں کے سرطان ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود کروڑوں لوگ سیگریٹ نوشی میں مبتلا ہیں ۔W.H.O کے رپورٹ کے مطابق آئندہ سالوں میں سب سے زیادہ اموات سگریٹ نوشی سے ہوگی ،مگر انسان جان بوجھ کر اپنی قبر اپنے ہاتھوں کھود رہا ہے ۔ حکومتیں اس پر پابندی عائد نہیں کرتیں کیونکہ یہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کے کارخانوں میں بنتے ہیں ۔اس ناچیز نے ایسے مریضوں کو مرتے ہوئے دیکھا جو سگریٹ نوشی کی وجہ سے پہلے سانسوں کے مریض بنے، پھر پھیپھڑوں کے سرطان سے فوت ہوئے ۔ یہی حال گٹکا خوروں کی ہے جن کے جبڑے گل کر گر جاتے ہیں اور منہ کی ایسی گندی حالت ہو جاتی ہے جیسے ریلوے اسٹیشن کے کموڈ ہوں۔ ہیروئن اور دیگر نشہ کرنے والے ہزاروں نوجوان گندی حالت میں گندی جگہوں اور پلوں کے نیچے کسم پرسی کی موت مر رہے ہیں ۔ نہ گھر والے اور نہ رشتہ دار ان کی داد رسی کرتے ہیں کیونکہ وہ اس عادت کی وجہ سے والدین اور رشتہ داروں کی شفقت و محبت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ اللّٰہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ’’ ہم نے انسان کو بڑا تھڈلا پیدا کیا ہے ،یہ جان بوجھ کر غلطی کرتا ہے، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو بلبلانے لگتا ہے اور جب ٹل جاتی ہے تو اکڑنے لگتا ہے ۔‘‘( سورہ ۔ المعارج۔19)
حکومتیں Revenue کے لئے ، سرمایہ دار دولت کی ہوس میں اور پولیس و انتظامیہ رشوت کی خاطر لوگوں کا اجتماعی قتل کر رہے ہیں ۔جوا یا قمار بازی ایسی لت ہے کہ آدمی کو اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کو ایک جھٹکے میں دیوالیہ کرکے فٹ پاتھ پر بیٹھا دیتی ہے ۔ اس فعل بد کی سزا بھی اسلام میں 80 کوڑے ہیں ۔ مگر نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں اس قمار بازی کے بڑے بڑے کیسینو کا اہتمام ریاستوں کی سر پرستی میں قائم ہیں ۔ جہاں روزانہ کی بنیاد پر اربوں ڈالر کے جوئے کھیلے جانے ہیں ۔ عام لوگوں کے علاوہ ہر قماس کے لوگ یہاں موجود ہوتے ہیں ۔ انڈر ورلڈ کے لوگوں کے بھی بڑے پیمانے پر جوئے خانے موجود ہیں ۔ جواری اکثر چور یا فراڈی ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو جواری اپنی بیویوں کو بھی جوئے میں ہار جاتے ہیں ۔ بھارت میں کروکچھتر کی لڑائی جو کورو اور پانڈووں کے درمیان ہوئی تھی ،وہ اس لئے کہ پانڈو اپنی بیوی دروپدی کو کورو کے ہاتھوں ہار کر دیدیئے تھے ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے یہ جانتے ہیں ۔ لوگ لاٹری کو جوا نہیں سمجھتے مگر تمام مفتیان کرام بلا امتیاز ہر مسلک کے یہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ لاٹری حرام ہے اور ایک طرح جوئے کی شکل ہے ۔ آج تک کسی جواری کو امیر بننے نہیں دیکھا گیا ہے ۔
یہ انصاب جو بت پرستی کی ایک شکل ہے ،چاہے وہ شخصیت پرستی کی صورت میں ہو یا مورتی کی شکل میں ہو ۔ بت پرستی نوح علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوئی، جن پانچ بتوں کی پرستش ہوئی جن کا ذکر سورہ نوح میں آیا ہے ۔ وہ ود، سعاع ، یعوق ، یعوث اور نسر تھے جو اپنے زمانے میں برگزیدہ ہستیوں میں شمار ہوتے اور لوگ ان سے عقیدت و محبت کرتے تھے، اسی عقیدت و محبت کا سہارا لے کر شیطان نے ان کے بتوں کی پرستش کرانا شروع کرایا ۔
ازلام یعنی فال کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرنا ۔ عربوں نے خانہ کعبہ میں تین تیر رکھے تھے، ایک پر ہاں ، دوسرے پر نا اور تیسرا خالی تھا ۔جب عرب کوئی کام شروع کرتے تو اس کے ذریعے مہورت نکالتے تھے ۔ آج نجومیوں سے اور دیگر ذرائع سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں اور ایمان ضائع کرتے ہیں ۔ مگر آج ان تمام بری عادتوں کا ماسٹر مائنڈ اور استاد اعظم انٹرنیٹ اور موبائل ہو چکا ہے، جس پر ہر طرح کے جرائم کے ہنر سکھائے جاتے ہیں ۔
گوگل اور دوسرے انٹر نیٹ ورژن دور جدید کے رئیس الاستاذ ہیں۔ اس پر دنیا جہاں کے معلومات اور ٹکنک کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے جرائم اور بد اخلاقی و انسانیت سوز آڈیو ویڈیو موجود ہیں اور جس کو اس کی لت پڑ گئی ہے، وہ ذہنی خبط میں مبتلا ہو گیا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر ضعیف ا لعمر افراد اس کے عادی ہو چکے ہیں ۔ جوا ، نا پسندیدہ کھیل ، جنسی بے راہ روی ، فحش ویڈیوز ، آوارہ گردی ، چوری ڈاکہ زنی کے طریقے ، نشہ کرنے کے معلومات ، حتیٰ کے خودکشی کرنے پر آمادہ کرنے والے ویڈیوز اور گیم بھی موجود ہیں ۔ یہ ایسا جال ہے جس میں پھنسنے والا خود ہی شکار ہوتا ہے ۔ یہ دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے ۔ گویا یہ لیلیٰ ہے اور اس کے عادی مجنوں بن گئے ہیں ۔ یہ وہ صحبت ہے جس نے معاشرے کے ہر شعبے کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ۔
دیکھتے دیکھتے دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
جانور شرمندہ ہوں گے آدمی کے کرتوت پر