حق گوئی
شفیع نقیب
تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں تلوار سے نہیں بلکہ کردار سے زندہ رہتی ہیں۔ عمارتیں اینٹوں سے بنتی ہیں مگر معاشرے انسانوں کے رویوں سے تعمیر ہوتے ہیں۔ جب کسی شہر کی فضا میں نفرت کا دھواں پھیلنے لگے، جب مذہب کو ذاتی غراض کے حصول کے لئے ایک ذریعہ کے طور استعمال کیا جائے ، جب ذات، پات، فرقہ اور قبیلہ انسان کی پہچان بن جائیں اور انسانیت پس منظر میں چلی جائے، ایسے میں اگر کوئی ایک فرد بھی محبت کا چراغ جلائے تو وہ چراغ محض روشنی نہیں دیتا بلکہ اُمید کا اعلان بن جاتا ہے۔ دہلی کی تاریخی اور عظیم الشان عبادت گاہ جامع مسجد کے صحن میں روزانہ کی بنیاد پر افطار تقسیم کرنے والی ایک ہندو لڑکی کا عمل اسی اُمید کا استعارہ ہے۔ یہ کوئی معمولی منظر نہیں کہ ایک غیر مسلم لڑکی نیہا بھارتی روزہ دار مسلمانوں کے درمیان کھڑی ہو کر ان کے لئے افطار کا انتظام کرے۔ یہ تصویر محض چند لمحوں کا کیمرائی عکس نہیں بلکہ ایک عہد کی ضرورت کا عملی جواب ہے۔
جامع مسجد دہلی، جسے مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے سترھویں صدی میں تعمیر کروایا، صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ، ثقافت اور روحانیت کی علامت ہے۔ اس مسجد نے سلطنتوں کا عروج و زوال دیکھا، تحریکوں کی صدائیں سنیں اور وقت کے بدلتے رنگوں کو محسوس کیا۔ اسی تاریخی پس منظر میں اگر ایک ہندو لڑکی کا روزہ داروں کو افطار کرانا سامنے آئے تو یہ منظر تاریخ کے تسلسل میں ایک نئی سطر کا اضافہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ سطر جس میں مذہب دیوار نہیں بلکہ پل بن جاتا ہے۔رمضان المبارک، جو مسلمانوں کے لئے صبر، تقویٰ، ایثار اور ہمدردی کا مہینہ ہے، دراصل بھوک اور پیاس کے ذریعے انسان کو دوسروں کے درد کا احساس سکھاتا ہے۔ جب ایک روزہ دار سارا دن بھوکا پیاسا رہ کر شام کو افطار کرتا ہے تو اس کے دل میں محتاجوں کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی فلسفہ اگر کسی غیر مسلم کے دل میں بھی جگہ بنا لے تو سمجھ لیجیے کہ انسانیت نے نفرت کی سرحدوں کو عبور کر لیا۔ نیہا بھارتی کا عمل اسی عبور کی علامت ہے۔ وہ شاید روزہ نہیں رکھتی، اس پر رمضان کی شرعی پابندیاں لاگو نہیں، لیکن اس نے روزے کے اصل پیغام کو سمجھ لیا ہے اور وہ پیغام ہے انسان کی خدمت اور فاقہ کشوں کی تڑپ۔
افسوس کہ آج کا زمانہ مذہب کو روحانیت کے بجائے شناخت کی سیاست میں استعمال کر رہا ہے۔ مذہب کو ایک ہتھیار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،حالانکہ مذہب محبت کا ہی دوسرانام ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹی خبروں، اشتعال انگیز تقاریراور جذباتی نعروں نے لوگوں کے دلوں میں فاصلے پیدا کئے ہیں۔ ایک معمولی واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پیش کرنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ ایسے ماحول میں یہ لڑکی نہ کوئی تقریر کرتی ہے، نہ کسی بحث میں اُلجھتی ہے، نہ کسی کو طعنہ دیتی ہے۔ وہ بس خاموشی سے افطار تقسیم کرتی ہے۔ اس کی خاموشی کسی مقرر کی تقریر سے زیادہ بلند ہے۔ اس کا عمل کسی مضمون سے زیادہ مؤثر ہے۔
ہم نے اپنی تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات دیکھے ہیں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے ایک دوسرے کے دُکھ سکھ میں شرکت کی۔ برصغیر کی ملی جلی تہذیب اسی باہمی احترام کا نتیجہ تھی۔عیدمیںہندو شرکت کرتے تھے، دیوالی پر مسلمان ہندوں بھائیوں کو خوش آمدید کہتے تھے اور رمضان میں کئی غیر مسلم افطار کا اہتمام کرتے تھے۔ یہ سب کچھ کسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ خالص انسانی جذبے کے تحت ہوتا تھا۔ آج اگر ایک لڑکی اسی روایت کو زندہ کر رہی ہے تو ہمیں اسے ایک استثنا نہیں بلکہ ایک مثال کے طور پر دیکھنا چاہئے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ لوگ مذہب کے نام پر نفرت کی تجارت کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ تقسیم رہیں تاکہ ان کی دُکان چلتی رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر واقعہ کو فرقہ واریت کی عینک سے دیکھا جائے۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ نفرت دیرپا نہیں ہوتی۔ نفرت شور مچاتی ہے مگر محبت خاموشی سے دل جیت لیتی ہے۔نیہابھارتی نے کسی کے خلاف نعرہ نہیں لگایا، کسی کو برا نہیں کہا، کسی مذہب پر تنقید نہیں کی۔ اس نے صرف یہ بتایا کہ اگر آپ کسی کے عقیدے سے متفق نہیں بھی ہیں تو بھی آپ اس کے احترام میں شریک ہو سکتے ہیں۔
اسلام کی تعلیمات میں بھی غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کی واضح ہدایات موجود ہیں۔ قرآن کریم عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح دیگر مذاہب بھی محبت، رواداری اور خدمتِ خلق کا درس دیتے ہیں۔ اگر ہم مذہب کی اصل تعلیمات کو سامنے رکھیں تو ہمیں کہیں بھی نفرت کا جواز نہیں ملتا۔ نفرت دراصل انسان کے اندر کے تعصب کا اظہار ہے، مذہب کا نہیں۔ یہ لڑکی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مذہب کا اصل چہرہ وہ ہے جو انسان کو انسان کے قریب لائے۔
یہ منظر ہمیں اپنے معاشرے کا جائزہ لینے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ کیا ہم اپنے اپنے مذہبی دائروں میں بند ہو کر دوسروں سے کٹتے جا رہے ہیں؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو یہ سکھایا ہے کہ دوسرے مذہب کا احترام کیسے کیا جاتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کسی دوسرے مذہب کے تہوار یا عبادت کے موقع پر ہم کس طرح خیر سگالی کا اظہار کر سکتے ہیں؟ اگر ایک نوجوان لڑکی یہ قدم اٹھا سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں؟ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ایسے واقعات کو محض جذباتی تحسین تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں سماجی تحریک میں تبدیل کیا جائے۔ اسکولوں اور کالجوں میں بین المذاہب ہم آہنگی پر پروگرام ہوں۔ محلوں میں مشترکہ خدمت خلق کے منصوبے بنیں۔ مذہبی رہنما اپنے خطبات میں دوسرے مذاہب کے احترام کی تعلیم دیں۔ میڈیا ایسے مثبت واقعات کو نمایاں کرے تاکہ نفرت کے بیانئے کو کمزور کیا جا سکے۔
یہ لڑکی کسی ایوارڈ یا شہرت کی طلبگار نہیں ہوگی، مگر اس کا عمل خود ایک اعزاز ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ انسانیت کا رشتہ سب سے بڑا رشتہ ہے۔ اگر ہم واقعی اس دنیا کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں مذہب کو نفرت کا نہیں بلکہ محبت کا پیغام بنانا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اختلاف فطری ہے مگر عداوت اختیاری۔ ہم مختلف ہو سکتے ہیں مگر دشمن نہیں۔
آج دنیا کو ایسے ہی انسانوں کی ضرورت ہے جو عملی طور پر دکھائیں کہ رواداری کیا ہوتی ہے۔ تقریروں اور تحریروں سے زیادہ اثر کردار کا ہوتا ہے۔ جب ایک ہندو لڑکی جامع مسجد کے صحن میں کھڑی ہو کر روزہ داروں کو افطار کراتی ہے تو وہ دراصل یہ اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ واقعی محبت فاتح عالم ہے۔ وہ ہمیں آئینہ دکھا رہی ہوتی ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اس دنیا کو واقعی جنت بنا سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مثال کو سراہنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی جھانکیں۔ کہیں ہم بھی تو تعصب کے کسی نہ کسی درجے کا شکار نہیں؟ کہیں ہم نے بھی تو انجانے میں نفرت کے کسی بیج کو پانی نہیں دیا؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اس لڑکی سے سبق لینا چاہئے۔ محبت بانٹنے سے کم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھتی ہے۔ احترام دینے سے وقار گھٹتانہیں، بلکہ بلند ہوتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ مذہب کو لڑائی کا میدان بنانے کے بجائے اسے اخلاقی بلندی کا ذریعہ بنایا جائے۔ اگر ہر شخص اپنے دائرے میں رہتے ہوئے دوسرے کے عقیدے کا احترام کرے، اگر ہم ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہوں، اگر ہم نفرت پھیلانے والوں کو رد کریں اور محبت بانٹنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں، تو یقیناً معاشرہ بدل سکتا ہے۔ دنیا جنت نہ بھی بنے تو کم از کم جہنم کا منظر نہیں رہے گی۔انسانیت کے جذبے سے لبریز انیہابھارتی کے بارے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ یہ لڑکی محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور پیارے مشن کی نمائندہ ہے۔ وہ سوچ جو انسانیت کو عروج بخشتی ہے اورانسانیت کو مذہب کے خلاف نہیں کھڑا کرتی۔ وہ سوچ جو کہتی ہے کہ آئیں، محبت اور پیار سے ایک ساتھ دنیائے انسانیت کی خدمت کریں۔ اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں ایک بہتر معاشرہ دینے پر ہمارا شکریہ ادا کریں گی۔
(رابطہ ۔9622555263)
[email protected]