شمع فروزاں
مقصوداحمدضیائی
معروف دانش گاہ جامعہ ضیاءالعلوم پونچھ میں تکمیل بخاری شریف کا عظیم الشان اجتماع بتاریخ ٢٢ / رجب المرجب ١٤٤٧ھ مطابق ١٢ جنوری ٢٠٢٦ء بروز پیر صبح دس بجے بمقام مرکزی جامع مسجد بگیالاں میں شروع ہوکر نماز ظہر پر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوگیا۔ جس میں کثیر تعداد میں خطہ کے علماء کرام ، ارباب فکر و دانش ، جمیع اساتذہ و طلبہ جامعہ اور ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس شریک ہوئے۔ اس پُر نور مجلسِ تقریب میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری نے جامعہ کے شعبہ عالمیت سے فراغت پانے والے طلبہ عزیز کو بخاری شریف کی آخری حدیث مبارکہ کا درس دیا۔ آپ نے اس طویل اور پرمواد تقریر میں کلمتان حبیبتان الخ پر مفصل ، مدلل اور مکمل کلام فرمایا۔ آپ کا درس عالمانہ و مصلحانہ اور ناصحانہ تھا۔ حضرت والا نے بخاری شریف کی احادیث ، ان کی ترتیب اور تراجم پر بھرپور کلام فرمایا۔ اس روح پرور مجلس کو دیکھ کر دل خوش اور آنکھیں نم ہیں۔ ماشاءاللّٰہ ہمارے طلبہ عزیز نے علم کے اس بابرکت سفر کا ایک اہم مرحلہ مکمل کیا۔ آٹھ سالہ مسلسل محنت ، صبر ، قربانی اور طلبِ علم کی وہ زندگی جو آسان نہیں ہوتی آج اپنے ظاہری اختتام کو پہنچی۔ یہ سفر “نورانی قاعدہ ” سے شروع ہو کر امام بخاری کے مجموعہ احادیث کی آخری حدیث “کلمتان حبیبتان” پر ختم ہوا، مگر حقیقت میں یہ اختتام نہیں بلکہ ایک نئی ذمہ دارانہ شروعات ہے۔ ایک تعلیم گاہ میں گزرے آٹھ سال اپنے نفس کی تربیت ، وقت کی پابندی ، اساتذہ کے ادب اور علم کے ساتھ اخلاص سیکھنے کے سال تھے۔ جامعہ کے سرسبزوشاداب غنچوں میں رہ کر جو کچھ سیکھا گیا، وہ ایک امانت ہے جسے اب ان عزیزوں نے آگے پہنچانا ہے۔ عمل کی روشنی میں اور اخلاق کی خوشبو کے ساتھ ، سند فراغت پانے والے خوش نصیب طلبہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش ہے جاننا چاہیے کہ
نئے عنصر نہیں آتے چمن میں گل کھلانے کو
یہی مٹی سنورتی ہے یہی ذرے ابھرتے ہیں
اب آپ میدان عمل میں جا رہے ہیں جو آسان نہیں ہے یاد رکھیں! ” صبر و اخلاص” کو ہمرکاب رکھنا۔بوئے گل کا باغ سے اور گلچین کا دنیا سے سفر اس عالم گیر قانون کا اثر ہے۔ جس سے نہ کوئی بچا ہے۔ نہ بچے گا۔ بخاری الامام کو زندگی میں محبتوں کے جھونکے بھی نصیب ہوئے اور نفرتوں کے طوفان سے بھی سابقہ پڑا ؛ عقیدت کے پھول بھی ملے اور حسد کے کانٹے بھی ہاتھ لگے ؛ امام گئے۔ امام کے حاسد گئے وہاں، جہاں سب گئے اور سب کو جانا ہے۔ پر امام ہمام کا علم باقی رہا اور باقی رہے گا کہ یہ کائنات کی اس بہترین ہستی کے کلام کا علم تھا۔ جس کے فیضِ عام نے صحرائے عرب کے بدویوں کو اور حبشہ کے گمنام حبشیوں کو حیات جاوداں بخشی۔ امام بخاری نے اپنی “صحیح” کے گلشن کو جن پھولوں سے آباد کیا۔ تروتازگی ان پھولوں کے لیے فطرت کا انعام ہے تاکہ
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعت شان ورفعنا لک ذکرک دیکھے
اسی گلشن بندی کا صلہ ہے کہ صدیاں گزر گیئں ، امام بخاری کی یادیں زندہ رہیں اور زندہ رہیں گی!
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
بہرحال! تکمیل بخاری شریف کی عظیم الشان تقریب میں مولانا مفتی صغیراحمد ،شیخ الحدیث جامعہ مرکزالمعارف بٹھنڈی جموں کا خطاب بھی ہوا جو علمی و اصلاحی تھا۔ مفتی صاحب نے وقت کی قدر و قیمت ؛ علماء سلف کے تحصیل علم ،مشغولیت،تدریسی و تصنیفی، انہماک ان کی شب بیداری،سحری خیزی ،جاں سوزی اور افادہ و استفادہ کے حیرت انگیز و سبق آموز واقعات کثیرالتصانیف و نابغہ روزگار شخصیات کے معمولات وقت کو کار آمد بنانے کے طریقے مؤثر اور دلنشیں انداز میں سامعین کی سماعتوں کی نذر کئے اور حاضرین ہمہ تن گوش رہے۔ دوران خطاب متعدد بار اپنے استاذ مکرم مفسر قرآن حضرت اقدس مولانا مفتی فیض الوحیدکے نصائح کو بھی عظمت و شرافت کے ساتھ ذکر کیا۔ اہل نظر کہتے ہیں کہ شیخ اگر کامل ہو، اس کی تعلیم و تربیت ناصحانہ ہو اور اساسی ہو تو بہت دور تک اس کے آثار مبارکہ نظر آتے ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ مفتی فیض الوحیدوسیع النظر معلم بہترین مصلح اور خطہ میں اہل حق کے فخر مفخر تھے۔ آپ کی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں جو افراد تیار ہوئے انہوں نے اپنے استاذ مکرم کی نقوش قدم پر چل کر اپنے کردار و عمل سے ایک معیار قائم کیا ہے بطور خاص تعلیمی میدان میں اپنی مثال آپ دکھائی دیتے ہیں۔ خداوند متعال جملہ تلامذہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور اپنے دین متین کا مطلوب کام لے۔
شیخ الجامعہ مولانا غلام قادر کی طرف سے فراغت پانے والے طلبہ کو فریم کردہ اہم ترین ہدایات دی گئیں جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
فرمایا ……… عزیزم! آپ نے صرف ایک نصاب مکمل کیا ہے ؛ جب کہ علم کا حصول ابھی بہت باقی ہے۔ خود کو ہمیشہ طالب علم ہی سمجھیں اور طلبِ علم میں خود کو سرگرداں رکھیں نیز اب آپ کی شناخت ایک عالم دین کی ہے۔ اپنی اس پاکیزہ اور عالی شان نسبت کی لاج رکھنا۔ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے اپنے اعمال و افعال ، چال چلن میں درستگی اور عمدگی رکھیں۔ اپنی مادرعلمی کے بے شمار احسانات کو یادرکھیں۔ “ضیائی” نسبت پر اللّٰہ رب العزت کے احسان مند رہیں۔ اوراپنی مادرعلمی سے رابطہ برقراررکھیں۔ خودکواہل اللّٰہ سے مربوط رکھیں۔ حتی الامکان دنیاوی مشغولیات سے خود کو بچائے رکھیں۔ اللّٰہ رب العزت آپ کو دینِ متین کا بے لوث اور حقیقی خادم بنائے علم و عمل اور اخلاص و تقویٰ اور للّٰہیت کی دولت سے مالا مال فرمائے”۔ والسلام
آخری بات :جامعہ ضیاءالعلوم کے اساتذہ کرام اور انتظامیہ بجا طور پر قابل مبارکباد ہیں کہ جن کی باکمال کوششوں کی بدولت اہلیان خطہ کو سنہرے مواقع میسر آتے رہتے ہیں،بلاشبہ جن کے پیچھے بانیِ جامعہ کا خلوص جذبہ ، لگن و للّٰہیت ہے۔ ناسپاسی ہوگی اگر مولانا سعیداحمدحبیب کا نام نہ لیا جائے جو حضرت مہتمم صاحب کے ادھورے خوابوں کی تعبیر ثابت ہو رہے ہیں جامعہ کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے آپ کی اعلٰی اور خوبصورت فکروں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اللّٰہ پاک حوصلوں میں مذید بلندی عطا کرے۔ بڑے ہی نصیبہ ور اور مبارک بادی کے مستحق ہیں وہ والدین کہ جنہوں نے اس دور پر آشوب میں اپنے جگر گوشوں کو مدرسہ میں بھیجا اور طلبہ کی شبانہ روز محنت شاقہ کی بدولت یہ بہاریں دیکھنے کو مقدر ہوئیں۔ دعا ہے اللّٰہ تعالٰی جامعہ کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا کرے مخلصین ، معاونین اور محبین کو دارین کی سعادتوں سے مالا مال کرے۔