حافظ عبد الرحمٰن
تقویٰ اہل ایمان کا زاد راہ، مومنوں کا شعار اور اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ قرآن مجید و احادیث مبارکہ میں متعدد مقامات پر تقویٰ کی رغبت دلائی گئی ہے اور متقین کے لئے آخرت میں بڑے عظیم درجات کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ارشادہے۔ آپ ؐ کہہ دیجئے، کیا میں تمہیں اس (یعنی دنیا کی زیب و زینت) سے بہت ہی بہتر چیز بتائوں ،تقویٰ والوں کے لئے ان کے ربّ کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی رضا مندی ہے اور سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ ایک مقام پر اہل تقویٰ کی پذیرائی اس طرح بیان کی گئی۔’’ ہاں! البتہ جو شخص اپنا اقرار پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ (سورۂ آل عمران)
تقویٰ دراصل اہل ایمان کی دلی کیفیات کے اظہار کا ذریعہ ہے کہ وہ اپنے ہر عمل کو اخلاص نیت اور سنت کے مطابق محض رضائے الٰہی کے حصول کے جذبہ کے تحت کرتا ہے کہ بس کسی طرح اس کا ربّ اس سے راضی ہو جائے اور کوئی ایسا کام نہ کروں جس سے اللہ کی ناراضی کا خدشہ ہو، لہٰذا جب ایک بندئہ مومن کے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوجائے کہ اس کا ربّ اُسے دیکھ رہا ہے اور وہ جزا و سزا پر قادر ہے تو پھر وہ اپنے عقائد و اعمال ،اخلاق وغیرہ کو اللہ کی مرضی کے تابع کر دیتاہے اور اس کا ہر نیک عمل عبادت بن جاتا ہے۔ تقویٰ اور پرہیز گاری تمام گناہوں کے چھوڑنے، منہیات سے باز رہنے اور حرام اور شک و شبہ والی چیزوں سے بچنے سے حاصل ہوتا ہے، اسی لئے رسول اکرمؐ کا ارشاد ہے۔ حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور اس حلال و حرام کے بیچ میں بعض شبہ والی چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے (کہ آیا وہ حلال ہے یا حرام ہے) جو شک اور شبہ والی چیزوں سے بچا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا۔ جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے،جسے دِل کہتے ہیں، جب وہ درست رہا تو سارا جسم درست رہا اور جب وہ خراب ہو گیا تو سارا جسم خراب ہوا۔ اصل تقویٰ و پرہیز گاری یہی ہے کہ شک والی چیزوں کو بھی چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ نبی کریمؐ کا ارشاد گرامی ہے۔’’ شک و شبہ والی چیزوں کو چھوڑ کر وہ کام کرو جس میں شک و شبہ نہ ہو۔‘‘ دین میں سب سے افضل چیز پرہیز گاری ہے۔ نبی کریم ؐ ارشاد فرماتے ہیں: ’’وہ بندہ سب سےبُرا ہے جس نے اپنے آپ کو سب سے اچھا سمجھا ، لوگوں پر تکبر و گھمنڈ کیا، اللہ کی عظیم ترین ہستی کو بھلا بیٹھا، اُس کی بلند وبالا بزرگی کی کوئی قدر نہ کی۔ وہ بندہ بھی بہت بُرا ہے جس نے جبر و قہر کیا ، لوگوں پر ظلم و ستم کیا اور اللہ کے جبر و قہر کو بھول گیا جو سب سے زیادہ زبردست اور غالب تر عزت والا ہےاور وہ بندہ بُرا ہے جودین کے کاموں کو بھول گیا اور دنیا کے فضول کاموں میں مشغول اورمصروف ہو گیا ۔وہ بندہ بُرا بندہ ہے جس نے لوگوں میں فساد برپا کیا اور حد سے بڑھ گیا اور اپنی ابتدائی حالت کو بھول گیا کہ کس چیزسے پیدا کیاگیا ۔
یعنی جو اپنی ابتدا اور انتہا کو بھول گیا ہو، وہ بُرا بندہ ہے۔ وہ بُرا بندہ ہے جس نے شبہات میں پڑ کر دین کو خراب کر دیا، وہ بندہ بُرا ہے کہ طمع و حرص اسے دنیا داروں کے پاس کھینچ لائی ہے یعنی دنیا کی حرص اُسے دربدر پھراتی رہتی ہے۔ وہ بندہ بُرا ہے کہ ا س کی خواہش نفسانی گمراہ کرتی پھرتی اور دین حق سے برگشتہ کر دیتی ہے، وہ بندہ بُرا بندہ ہے جسے دنیا کی رغبت ذلیل و رُسوا کرتی ہے ۔‘‘(ترمذی، مشکوٰۃ)