آصف حسین الکشمیری
قوموں کی ترقی صرف کتابی تعلیم سے نہیں ہوتی بلکہ علم اور ہنر کے امتزاج سے جنم لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی معاشرے مضبوط ہوئے جنہوں نے قلم کے ساتھ ہنر کو بھی اپنایا۔ آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نوجوان تعلیم یافتہ تو ہیں مگر بے روزگار ہیں، ڈگریاں ہاتھ میں ہیں مگر ہاتھ ہنر سے خالی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مایوسی بڑھ رہی ہے، احساسِ محرومی جنم لے رہا ہے اور نوجوان طبقہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہتا جا رہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ہنر کو آج بھی کمتر سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ہنر سیکھنے کو عیب اور محنت کو ذلت خیال کرتے ہیں۔ ہر نوجوان دفتر کی کرسی کا خواب دیکھتا ہے مگر اپنی صلاحیتوں سے کچھ بنانے کا حوصلہ کم نظر آتا ہے۔ حالانکہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اسکل بیسڈ ایجوکیشن یعنی ہنر پر مبنی تعلیم کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں۔
کشمیر کی تاریخ میں بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ جب میر سید علی ہمدانی کشمیر تشریف لائے تو وہ صرف مبلغین ہی نہیں لائے بلکہ اپنے ساتھ درزی، کاریگر، ہنرمند اور تاجر بھی لائے تاکہ کشمیری عوام کو صرف دینی شعور ہی نہیں بلکہ معاشی خود کفالت بھی حاصل ہو۔ ان کے ذریعے قالین بافی، دستکاری، کشیدہ کاری اور تجارت کو فروغ ملا اور کشمیر کی معیشت نے نئی سانس لی۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دین اور ہنر کبھی ایک دوسرے کے مخالف نہیں رہے بلکہ ہمیشہ ساتھ ساتھ چلے ہیں۔آج اگر ہم اپنے نوجوانوں کو صرف نصابی تعلیم تک محدود رکھیں گے تو بے روزگاری کا طوفان مزید شدت اختیار کرے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور مدارس میں ہنر کو لازمی حصہ بنایا جائے۔ کمپیوٹر، ٹیکنیکل تعلیم، زراعت، تجارت، دستکاری اور دیگر فنی مہارتیں نوجوانوں کو خود کفیل بنا سکتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے ہنر ترک کیا وہ فکری اور معاشی طور پر کمزور ہوئے اور زندگی میں پیچھے رہ گئے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو محض نصابی اور دینی علم تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں کسی نہ کسی عملی ہنر سے بھی آراستہ کریں۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہنر انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔حضرت ادریسؑ کو کپڑا سینے اور کتابت کا ہنر عطا ہوا۔حضرت نوحؑ نے کشتی سازی کا عظیم فن اپنایا۔حضرت ابراہیمؑ کھیتی باڑی اور تجارت سے وابستہ رہے۔حضرت داودؑ لوہے کو نرم کر کے زرہیں بنایا کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی کمائی سے رزق حاصل کرتے تھے۔حضرت عیسیٰ ؑ علاج و معالجہ اور شفا کے فن سے وابستہ رہے۔یہ تمام مثالیں اس بات کا واضح پیغام دیتی ہیں کہ محنت، ہنر اور روزگار دین سے جدا نہیں بلکہ دین کا حصہ ہیں۔ اسلام نے کبھی بے کاری کو پسند نہیں کیا بلکہ اپنے ہاتھ سے کمانے کو افضل قرار دیا۔خصوصاً دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ کسی ہنر یا تجارت میں مہارت حاصل کریں۔ اگر مدارس کے طلبہ صرف وعظ و تبلیغ تک محدود رہیں اور معاشی اعتبار سے کمزور ہوں تو وہ مستقبل میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ دینی علم کے ساتھ کمپیوٹر، طباعت، خطاطی، تجارت یا کسی فنی شعبے میں ماہر ہوں تو وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔صحابہ کرام نے بھی ہنر اور تجارت سیکھی تھی۔ جب وہ مدینہ ہجرت کر کے آئے تو انہوں نے نہ صرف دینی زندگی کو فروغ دیا بلکہ معاشی نظام کو بھی مضبوط بنایا۔ مدینہ ریاست ہنر اور معاشی اعتبار سے مضبوط تھی، جس کا سہرا صحابہ کرامؓ کی محنت، ہنر اور عملی بصیرت کو جاتا ہے۔
یہ بات نہایت اہم ہے کہ تعلیم کے ساتھ ہنر کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان آنے والے وقت میں معاشی پریشانیوں کا سامنا نہ کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو محض نصابی اور دینی علم تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں کسی نہ کسی عملی ہنر سے بھی آراستہ کریں۔ جب تعلیم کے ساتھ ہنر کو فروغ دیا جائے گا تو بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا، خود کفالت پیدا ہوگی اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا قائم ہوگی۔ ہمیں لینے والے نہیں بلکہ دینے والے بننا ہوگا، کیونکہ خود دار قومیں دوسروں پر بوجھ نہیں بنتیں بلکہ دوسروں کے لیے سہارا بنتی ہیں۔اگر تعلیم کے ساتھ ہنر کو لازم کر دیا جائے تو بے روزگاری کم ہوگی، معاشی خود اعتمادی بڑھے گی اور نوجوان ذہنی دباؤ سے محفوظ رہیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمارے اسلاف نے اختیار کیا اور یہی وہ حکمت ہے جو آج بھی ہمیں ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
آج ہمیں ایک ایسی تعلیمی سوچ کی ضرورت ہے جو نوجوان کو صرف ملازم نہ بنائے بلکہ خود روزگار پیدا کرنے والا بنائے۔ ہمیں بچوں کو شروع سے یہ سکھانا ہوگا کہ محنت میں عزت ہے، ہنر میں عظمت ہے اور خود کفالت میں وقار ہے۔ والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو عملی زندگی کے لیے تیار کریں، نہ کہ صرف امتحان پاس کرنے کے لیے۔نوجوانوں اپنے اندر محنت کا جذبہ پیدا کریں، اللہ راستہ ہموار کریں گے، رزق میں وسعت ہوگی اور دنیا کی خوشیاں آپ کے قدم چومیں گی۔
رابطہ۔ 9797888975
[email protected]
������������������