عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس کی سینئر لیڈر اور وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں تعلیمی نظام کو مضبوط، فعال اور جدید خطوط پر استوار کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019کے بعد جموں و کشمیر کے مختلف شعبوں کی طرح تعلیمی شعبہ بھی شدید متاثر ہوا، تاہم عوام کے بھرپور اعتماد سے قائم ہونے والی موجودہ عوامی حکومت نے اس شعبے کو ازسرِ نو فعال بنانے اور اس کی خامیوں کو دور کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کا آغاز کیا ہے۔وہ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران اظہارِ خیال کر رہی تھیں۔ وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے صدر نذرالاسلام بابا کر رہے تھے جبکہ وفد میں ضلع سرینگر، بڈگام اور گاندربل کے ضلعی صدور بھی شامل تھے۔
اس موقع پر نجی تعلیمی شعبے کو درپیش مختلف مسائل، تعلیمی معیار، پالیسی امور اور دیگر متعلقہ معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے وزیر تعلیم کو اپنے مطالبات اور مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ایک یادداشت بھی پیش کی۔ سکینہ ایتو نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت نجی تعلیمی شعبے کے جائز مطالبات پر ہمدردانہ غور کرے گی اور جہاں ممکن ہوا ان کے حل کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں گے۔سکینہ ایتو نے کہا کہ غیر جمہوری اور افسر شاہی پر مبنی نظام کے باعث تعلیمی شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ تعلیمی کیلنڈر کو بلا جواز تبدیل کرکے پورے نظام کو انتشار کا شکار بنایا گیا، جس سے طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے تعلیمی کیلنڈر کو دوبارہ اکتوبر-نومبر سیشن پر بحال کیا تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سکولی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، متعدد سکولوں کا درجہ بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور تعلیمی اصلاحات کو آگے بڑھانے کیلئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں۔ آج وقت پر امتحانات کا انعقاد ہوتا ہے اور مقررہ مدت کے اندر اندر ہی نتائج شائع کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں پرائیویٹ یونیورسٹیز بل کی منظوری بھی ایک تاریخی اقدام ہے، جس سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نئی راہیں کھلیں گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور نوجوانوں کو اپنے ہی خطے میں معیاری تعلیم کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔