اکیسویں صدی کا دور صحافت اور ابلاغ عامہ کادور ہے۔آج دنیا ترقی کے جس مقام پر کھڑی ہے، اس کا سہرا ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے سرہے۔اس وسیع ترین دنیا کو میڈیا نے ’’گلوبل ولیج ‘‘میں تبدیل کیا۔میڈیا ملک و قوم کو بنانے اور بگاڑنے میں ایک اہم رول نبھاتاہے۔ ملک کی معاشرتی ،اقتصادی ،سیاسی اور سماجی زندگی میں میڈیا نے تعمیری اور یادگار کردار ادا کیا ہے۔لارڈ میکالے نے سب سے پہلے میڈیا کو اقلیم کا چوتھا طبقہ یعنی (Fourth Estate of Realm)کادرجہ دیا۔بعد میں مشہور خطیب اور پارلیمانی ماہرایڈمنڈ برک نے میڈیا کو چوتھے ستون کے امتیازی لقب سے موسوم کیا۔پارلیمنٹ (Legislature)،انتظامیہ (Executive)اورعدالیہ (Judiciary)یہ تین ادارے پورے ملک میں اہمیت رکھتے ہیں۔ان کے بغیر کسی بھی ملک کا جمہوری نظام حکومت کا سر گرم عمل رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔پارلیمنٹ ،انتظامیہ اور عدالیہ کے ساتھ ساتھ جمہوری ملک میں میڈیا یعنی پریس کی بڑی اہمیت ہے۔میڈیا کے بغیر جمہوریت کا وجود ناممکن ہے، کیونکہ ان تین اداروں کی تمام سر گرمیوں کی صحیح تصویر لوگوںتک صرف میڈیا ہی پہنچا سکتا ہے۔میڈیا کی نظر اگر ان تین اداروں پر نہ ہو توممکن ہے سرکاری افراد من مانی کرنے لگیں اور عوام کی فلاح و بہودکا کوئی کام وقت پر سلیقہ کے ساتھ ہونہ سکے،ملک کی معاشرتی زندگی میں میڈیا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
آج کے میڈیا کو دیکھتے ہوئے انسان کو شرمندی کا احساس ہوتا ہے۔میڈیا کے ایک بڑے حصہ نے اپنا ضمیر کھودیا ہے۔میڈیا سے منسلک تمام افراد کا برتائو بے حس دکھائی دے رہا ہے۔ آجکل ملک میں کہیں پر جب فسادرونما ہوتا ہے تو کئی نیوز چینل اور کچھ اخبارات نہ صرف غلط رپورٹنگ کرتے ہیں بلکہ فسادات کو اور زیادہ ہوادیتے ہیں اور کسی مخصوص فرقے کو نشانہ بناتے ہیں۔میڈیا نہ صرف جھوٹی خبریں شائع اور نشر کرتے بلکہ گمراہ کن رپورٹنگ سے حالات کو مزید خراب کرانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت ہی خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا میں آج اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ بحث و مباحثہ کے دوران صرف شور غل سننے کو ملتا ہے۔چینل کااینکر چیخ چیخ کر مخالف کی آواز کو دبا کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس بحث و مباحثہ میں کامیاب ہوگئے ۔عالمی میڈیا نے بھی ہندوستانی میڈیا کو جھوٹی رپوٹنگ کرنے والی میڈیا کی لسٹ میں ڈال دیا۔بر طانوی اخبار (ایوننگ اسٹینڈرڈ) نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ جھوٹی اور مضحکہ خیز خبریں بنانے میں بھارتی میڈیا کا کوئی مقابل نہیں کر سکتا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا جھوٹی خبریں نشر ہونے کی وجہ سے چالیس سے زائد افراد کی موت واقعہ ہوئی، شاید یہی وجہ ہے کہGlobal Press Freedom Expressمیںہندوستانی میڈیا 140 ویں نمبر پر پہنچ گیاہے۔قومی میڈیا پر اظہار خیال کرتے ہوئے نور اللہ جاوید اپنے مضمون’’کیا ہندوستانی میڈیا معروضیت سے محروم ہو رہاہے ‘‘میں راقم طراز ہے۔
’’حالیہ دنوں میں میڈیا واچ ڈاگ اور عوام و حکومت کے درمیان رابطہ کار بننے کے بجائے صاحب اقتدارکی ترجمانی کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔چناں چہ ہندوستانی میڈیا کے حوالہ سے یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ ہماری میڈیا اوبجیکٹیو(معرضیت و غیر جانبداریت )سے محروم ہوتا جا رہا ہے ‘‘۔
تاریخ کے اوراق جب پلٹتے ہیں توپتا چلتا ہے کہ میڈیا نے نہ صرف انسانی ذہین کی تربیت کی بلکہ حکومتی ایوانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ہندوستان میں جب ایمرجنسی نافذ ہوئی اس وقت ملک کی وزیر اعظم مسز اندار گاندھی تھی۔ملک کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ پریس کی آزادی کو ختم کر دیا گیا بہت سارے صحافیوں کو ڈیفنس آف انڈیا قوانین کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا،لیکن تب بھی میڈیا نے اپنے فرض سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ بقول مسٹر ایل کے اڈوانی ’’پریس کو جھکنے کے لیے کہا تھا وہ تو رینگنے لگی‘‘یعنی پریس نے عوام کو حقیقت سے روشناس کیااور حکومت وقت کی کوتاہ اندیشی کوپردہ فاش کیا۔ آشوتوش نے اپنے ایک مضمون ’’مضبوط جمہوریت کے لئے میڈیا کی ذمہ داری اہم ‘‘میں لکھا ہے۔
’’ایک وقت تھاجب خود وزیر اعظم کو بھی نہیں بخشا جاتا تھا۔سب سے زیادہ طاقتور وزیر اعظم کی سخت سے سخت تنقید کے بعد بھی ایک صحافی آرام سے سو سکتا تھا اور اگلے دن اپنی کام یا وقار کھونے کے بغیر اپنے آفس آجاتا تھا ،لیکن اب ایسا نہیں لگتا ،خوف اور دہشت کا ماحول ہے۔ میں اسے خاص طوپر بولنے کی آزادی اور عام طور پر جمہوریت کے ماحول میں زہر گھولنے کے برابرکہوں گا ‘‘۔
میڈیا کے اپنے اقدار اور قوانین ہوتے ہیں جیسے غیر جانبداری ،حق گوئی ،بے باکی اورصداقت پسندی میڈیا کے اعلی اقدار کی علامت ہیں۔لیکن میڈیا کے ذمہ دار کارکن ان اقدار اور قوانین سے محروم ہوجائے تو ایسا لگتا ہے کہ میڈیا کسی تنظیم یا ادارے کا ڈھنڈورچی بن گیا۔آجکل قومی میڈیا کے کچھ منفی سوچ رکھنے والے مشہور و معروف اینکر حضرات مذہب اور قوم کے درمیان نفرت اور تخریب کار ی کا بیچ بو رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام نہ صرف تعصب کا شکار ہوتے ہیں بلکہ قومی میڈیا پر بھروسہ ختم ہوجا تا ہے ۔ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز آج کے میڈیا کے بارے میں راقم طراز ہیں :
’’آج ہم جس معاشرہ میں سانس لے رہے ہیں، یہاں اقدار اور قوانین کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ کتابوں میں چھپتے تھے چاہت کے قصے ،حقیقت کی دنیا میں چاہت نہیں ہے۔اقدار اور قوانین کی پامالی ہی صحافت کا وطیرہ بن گیا ہے ،اظہار خیال کی آزادی کا غلط استعمال فیشن بن چکا ہے ‘‘۔
آج واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ جس میڈیا کو ملک کا چوتھا ستون کہا جا تا تھا، اس پر کلنک لگ گیا ہے۔ اب عوام اسے شک و شبہ کی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ چندلوگ اب اقتدار میں آنے کے لیے اس کا غلط استعمال کرتے ہیں کچھ لوگ منصب کی رسائی اور اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔میڈیا نے اپنا مقصد غلط پروپیگنڈہ ،سچ کو جھوٹ میں تبدیل کر نا بنا لیا ہے۔ قومی میڈیا پرتبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد منظور عالم اپنے مضمون ’’میڈیا اور جمہوریت ‘‘میں راقم طرازہے۔
’’ہندوستان میں صحافت کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے جب ملک کا ہر سنجیدہ شہری میڈیا کے رویہ پر نالاں اور افسوس کناں ہے۔اسے ملک کے تئیں خطرے کی علامت کے طور دیکھا جا رہا ہے۔اور ایسا لگ رہا ہے کہ میڈیا ملک کو سنوار نے کے بجائے اسے بگاڑ نے پر آمادہ ہے ،آج کی میڈیا حقائق بتانے کے جائے جذبات سے کھیلنے لگی ہے۔ایک جھوٹ کو اتنی مرتبہ بیباکی اور خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کہ عوام کے ذہن میں وہی سچ بن کر ر چ بس جاتا ہے ،اینکروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ حالت جنگ میں ہے۔اپنے الفاظ ،انداز بیان ،اور باڑی لینگویج سے کسی دوسرے پر حملہ آورہیں۔وہ حکومت سے سوال کرنے کے بجائے اپوزیشن پارٹیوں کے ترجمان سے سوال کرتے ہیں۔بر سر اقتدار پارٹیوں سے احتساب کرنے کے بجائے گذشتہ حکومتوں سے حساب مانگتے ہیں ‘‘۔
شروع میں میڈیا سیکولر اور جمہوری تھا میڈیا نے کبھی بھی فرقہ واریت کی جنگ نہیں کی نہ کبھی بنیاد پرست نظریات کو جنم دیا بلکہ ہمیشہ سچ کا ساتھ دے کر اس کی جدو جہد کی۔آج میڈیا چینل اپنا TRPبڑھانے کے لئے ایک ہی بحث کو کئی بار پیش کرتے ہیں۔عوام کو سچائی اورحقائق سے روشناس کرانے کے بجائے میڈیا اب TRPایجنسی میں تبدیل ہوگئی۔کسی بھی سیاسی پارٹی کو اقتدار میں لانے اور کسی بھی مجرم کو قومی ہیرو بنانے تک کا کام میڈیابڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتاہے۔حال ہی میں میڈیا نے تبلیغی جماعت کو نشانہ بنا کر مذہب کے نام پر جنگ شروع کی۔تحقیق اور کھوج کئے بغیرتبلیغی جماعت کو کرئونا وائیرس جیسے مہلک مرض کا قصووار ٹھہریا بلکہ سچ تو یہ تھا کہ یہ بیماری عالم دینا میں پھیل چکی تھی۔لیکن میڈیا کے کچھ اینکروںنے اس پر غیر ضروری بحث و مباحثہ کر کے فسادات کو ہوا دے کر تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانے میں کوئی کثر باقی نہ چھوڑی۔ گمرہ کن رپورٹنگ نشر کر کے ملک میں حالات کو مزید ابتر بنایا۔ظفر آغااپنے مضمون’’میڈیا اور اس کے پروپیگنڈے ‘‘میں لکھتے ہیں۔
’’موجودہ ہندوستان کے صحافی کی شرم ختم ہوچکی ہے۔ اب صحافت کا مقصد حق و انصاف کے لیے آواز بلند کر نا نہیں بلکہ اب تو صحافت کا دارو مدار حکومت وقت کے لیے ساز گار ماحول بنانے پر ہے۔یہ صحافت نہیں پروپیگنڈہ ہے ۔یہ وہی حکمت عملی ہے جو ہٹلر نے جرمنی میں اختیار کی تھی۔ اس حکمت عملی کا اصول یہ تھا کہ ایک جھوٹ کو اتنی بار دہرائوکہ وہ آخر میں سچ لگنے لگے ۔تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کے تعلق سے اب تک جو شور چل رہا ہے اس کی بھی حکمت عملی وہی ہٹلر پروپیگنڈہ ہے۔کورونا وائرس کو اس قدر تبلیغی جماعت سے جوڈ دو کہ ہر ہندو کو یہ لگنے لگے کہ اس مہلک وبا کی ذمہ داروری طرح مسلم قوم ہے‘‘۔
میڈیا کا رویہ ملک کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے ۔یہ افسوسناک حرکت میڈیا کے لیے زوال کی علامت بن سکتی ہے ۔اس طرح کی صحافت ملک اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔میڈیاسماجی، سیاسی، انتظامی، معاشی، اقتصادی، تاریخی ، ثقافتی ، علمی، سائنسی، قومی ، بین الاقومی اور سب سے بڑھ کر مذہبی ضرورت ہے۔میڈیا کی کامیابی سچائی اورغیر جانب دارانہ حقائق پر مبنی معلومات پیش کرنے کے متعلق ہے۔اس کے ذریعہ معاشرے کی واضح ،سچی اور روشن تصویر عیاں ہو سکتی ہے۔قومی میڈیا عصر حاضر کے تقاضوںاور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ نمٹنے کی تجویز اور مشوروں کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔سماج میں پھیلے ہوئے ناسور، عیب،برائی اور خرابی کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے کا کام میڈیابخوبی انجام دے کرایک صاف ستھر اسماج تشکیل دینے میں مدد کرتی ہے۔ میڈیا کو قومی ترقی،عوام کی رہنمائی اور حکام کی ہدایت کے لیے ایک اہم ہتھیار تسلیم کیاجاتا ہے۔
سماج کی بہترین تربیت کے لیے میڈیا ایک نمایاں کردار ادا کرتاہے۔انتظام اور امن کے قیام میں مدد بھی دیتااورعوام کی رہبری کے ساتھ ساتھ عوام کے حقوق کی حفاظت بھی کرتاہے۔الغرض میڈیاملک و قوم کے تحفظ اور تعمیر وترقی میں ہر ممکن کوشش کرسکتاہے، بشرطہ کہ وہ حق پر مبنی ہو۔
رابطہ : ڈورو شاہ آباد ، موبائل نمبر:9596444868
ای میل : [email protected]