جموں//بی جے پی جموں و کشمیر اور دیگر مختلف تنظیموں نے 75 واں یوم الحاق جموں بھر میں قومی تہوار کے طور پر منایا۔تقریبات کو منانے کے لیے جموں و کشمیر بی جے پی نے اس کے صدر رویندر رینا اور دیگر سینئر لیڈروں کی قیادت میں یوم الحاق جوش و خروش کے ساتھ، مہاراجہ ہری سنگھ جی پارک دریائے توی جموں کے قریب منایا۔مرکزی وزیر راؤ اندرجیت سنگھ بھی اس موقع پر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ شامل ہوئے اور مہاراجہ ہری سنگھ جی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پرمہاراجہ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قومی پرچم بھی لہرایا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رویندر رینہ نے پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی پر ''طالبانی نظریہ'' رکھنے کا الزام لگایا اور کہا کہ جس نے بھی ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان کی حالیہ جیت کا جشن منایا اسے ملک کے خلاف ''سازش'' کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ''کچھ لیڈروں کو سیکورٹی کور کی ضرورت ہے اور انہیں ہماری افواج چوبیس گھنٹے محفوظ رکھتی ہیں لیکن ان کا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔ محبوبہ طالبانی نظریات کی حامل ہیں اور وہ ایک دشمن قوم کی حمایت کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے جوابدہ ہیں جو مسلح بندوق برداروں کو آگے بڑھا رہی ہے، ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے اور جموں و کشمیر کا خون بہا رہی ہے۔ اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ’’ پاکستان کی جیت کا جشن منا کر ملک کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو بخشا نہیں جا سکتا۔جو بھی ہمارے مادر وطن کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے خطرہ بنے گا اسے کچل دیا جائے گا‘‘۔رینہ نے کہا کہ پورا جموں و کشمیر اس دن کو منا رہا ہے کیونکہ یہ بھارتیہ جن سنگھا اور پرجا پریشد کے قوم پرست کارکنوں کی بہت سی قربانیوں کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے پہلی اور دوسری گول میز کانفرنسوں میں مہاراجہ کے کردار اور این سی اور کانگریس کی سازشوں کو یاد کیا۔انکا کہناتھا''وجے دیوس ہمارے لیے یوم جمہوریہ اور یوم آزادی جیسا ہے کیونکہ یہ وہ دن تھا جب ہمارے مہاراجہ نے جموں و کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنایا تھا۔ جموں و کشمیر کے کچھ حصے اب بھی پاکستان اور چین کے غیر قانونی قبضے میں ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ہم وہاں بھی ترنگے کی میزبانی کریں گے‘‘۔راؤ اندرجیت سنگھ نے جموں و کشمیر کے آخری ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے الحاق پر دستخط کی تاریخی حرکت اور سری نگر کے ہوائی اڈے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی حملہ آوروں کی شکست کو یاد کیا اور کہا کہ مہاراجہ کی طرف سے شروع کیا گیا کام وزیر اعظم نریندر مودی نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ آج ایک بہت ہی مبارک دن ہے جب جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ بنا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان، چین یا پاکستان جموں و کشمیر کو ہم سے چھیننے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔دریں اثنادیویندر سنگھ نے کہا کہ پاکستان تاریخ سے سبق نہیں سیکھ رہا ہے اور بار بار جموں و کشمیر کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی کی موجودہ حکومت نے جموں و کشمیر اور ملک کو مضبوط کیا ہے۔اس کے علاوہ جے اینڈ کے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموںنے صدر ایم کے بھردواج کی قیادت میںجانی پور میں جے اینڈ کے ہائی کورٹ کمپلیکس میں یوم الحاق منایا۔بیان میں کہا گیا ہے’’اس دن اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے الحاق کے دستاویز پر دستخط کیے اور اس کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر نے ہندوستان سے الحاق کرلیا‘‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس موقع پر وکلاء اور سول سوسائٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اجتماع کو یونین آف انڈیا کے ساتھ ریاست کے الحاق کے دن کی تاریخی اہمیت کے بارے میں روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا "جموں اور کشمیر کی ہستی کے بارے میں یونین آف انڈیا کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ تمام ممبران نے اس تقریب کے انعقاد کے لیے ایسوسی ایشن کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ۔اس دوران یوا راجپوت سبھا نے بھی مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمہ پر گلباری کرتے ہوئے یوم الحاق منایااور الحاق کے ضمن میںمہاراجہ کے کردار کواجاگر کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ابھی تک بھی مہاراجہ کے یوم پیدائش پر سرکاری تعطیل کا اعلان نہیں کیاگیا۔دریں اثناء آل جموںوکشمیر پنچایت کانفرنس نے بھی صدر انیل شرما کی سربراہی میں تنظیم کے صدر دفتر پر جوش و جذبہ کے ساتھ یوم الحاق منایااور مہاراجہ کی خدمات کو یاد کیا۔