طبی آگہی
ڈاکٹر زبیر سلیم
کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں لکھنے میں انسان ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ نایاب ہوتی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ تکلیف دہ حد تک عام ہوتی ہیں۔ معاشرے کی بعض حقیقتیں دل پر اتنا بوجھ ڈالتی ہیں کہ انہیں لفظوں میں بیان کرنا بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان زخموں کو ظاہر کیا جا رہا ہو جنہیں بہت سے لوگ چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔
مول موج فائونڈیشن میں ہماری بلا معاوضہ مددگار ٹیلیفون خدمت پر ہر روز کالیں موصول ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر صحت سے متعلق ہوتی ہیں۔ عمر رسیدہ مریض طبی مشورہ چاہتے ہیں۔ گھر والے گھر آ کر معائنہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ مالی تنگی میں مبتلا بزرگ دواؤں، جانچ پڑتال یا معالج سے مشورے کے اخراجات کے لئے مدد مانگتے ہیں۔ کبھی کوئی بزرگوں کے رہائشی مرکز میں داخلے کے بارے میں پوچھ لیتا ہے۔ ان کالوں میں پریشانی ضرور ہوتی ہے، مگر ان کا انداز عموماً عملی نوعیت کا ہوتا ہے۔
لیکن آج کی کال مختلف تھی۔ ایک بزرگ مرد نے فون کیا۔ ابتدا ہی سے ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ زیادہ کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ رونے لگے۔ انہوں نے ابھی ابھی اخبار کے بزرگوں سے متعلق خصوصی شمارے کو پڑھا تھا۔ اس میں شامل ایک کہانی نے انہیں گہرائی سے متاثر کیا تھا۔ اس نے ان کے دل میں دبی ہوئی ایک کیفیت کو جھنجھوڑ دیا تھا جسے وہ مدت سے اپنے اندر دبائے ہوئے تھے۔ صفحے پر لکھی ہوئی باتیں انہیں اپنی ہی زندگی کا عکس محسوس ہو رہی تھیں۔
وہ سسکیوں کے وقفوں کے درمیان بولے’’میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے درد کے بارے میں لکھیں‘‘۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اپنے ہی گھر میں اپنے شادی شدہ بیٹے کے ساتھ رہ رہے تھے۔ کاغذ پر دیکھیں تو ان کی زندگی محفوظ نظر آتی ہے۔ گھر انہی کا ہے۔انہیں پنشن ملتی ہے۔وہ مالی طور پر کسی پر منحصر نہیں ہیںمگر یہ تحفظ دراصل صرف ایک فریب ہے۔
وہ آہستہ آہستہ بول رہے تھے، جیسے کسی ایسی بات کو بیان کرنے میں جھجھک محسوس کر رہے ہوں جسے وہ مہینوں تک خود سے بھی تسلیم نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کی آواز میں اس شخص کی تھکن جھلک رہی تھی جو بار بار کی ذلت برداشت کر چکا ہو۔
انہوں نے کہا’’میرا بیٹا کبھی کبھی مجھے تھپڑ بھی مارتا ہے‘‘۔صرف مار ہی نہیں، گالیاں بھی ہوتی ہیں۔ایسے الفاظ جو کسی جسمانی ضرب سے بھی زیادہ گہرے زخم دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان سے کہا جاتا’’تم تو مرنے کا نام ہی نہیں لیتے‘‘۔کبھی ایک اور طعنہ بھی سننے کو ملتا’’کیا تم یہ گھر قبر میں ساتھ لے جاؤ گے؟‘‘
ان کے مطابق یہ توہین آمیز باتیں صرف بیٹا ہی نہیں کہتا تھا بلکہ بہو بھی اس میں شامل ہو جاتی ہے۔وہ گھر جو انہوں نے پوری زندگی کی محنت سے بنایا تھا، آہستہ آہستہ خوف اور ذہنی گھٹن کی جگہ بن گیا ہے۔
ان کی بات سنتے ہوئے فطری طور پر دل چاہتا ہے کہ کوئی حل پیش کیا جائے۔ قانون اس معاملے میں واضح ہے۔ اگر گھر والدین کے نام ہو تو انہیں قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ بالغ اولاد انہیں زبردستی بے دخل نہیں کر سکتی اور نہ ہی بے خوف ہو کر ان پر ظلم کر سکتی ہے۔ چنانچہ ہم نے نرمی سے انہیں بتایا کہ ان کے حقوق موجود ہیں۔ ان کا بیٹا اس گھر میں اس لیے رہ رہا ہے کیونکہ انہوں نے اجازت دی ہوئی ہے۔ اگر وہ چاہیں تو قانونی اقدام کر سکتے ہیں۔لیکن اس کے بعد انہوں نے جو کہا وہ اس سے بھی زیادہ دل توڑ دینے والا تھا۔
وہ دھیمی آواز میں بولے’’اگر میں اپنے بیٹے کے خلاف شکایت کروں گا تو لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے۔ وہ میرا بیٹا ہے‘‘۔پھر کچھ دیر خاموش رہے اور کہا’’اور اگر وہ چلا گیا… تو میں اکیلا رہ جاؤں گا‘‘۔
اس ایک جملے میں اس ظلم سے بھی بڑی ایک المیہ حقیقت چھپی ہوئی تھی۔ وہی محبت جس کی وجہ سے والدین اپنی اولاد کی حفاظت کرتے ہیں، کبھی کبھی انہیں خاموشی کی زنجیروں میں بھی جکڑ دیتی ہے۔
کال ختم کرنے سے پہلے انہوں نے ایک اور بات کہی’’میں جانتا ہوں کہ میرے جیسے بہت سے لوگ ہیں۔ بہت سے باپ اور مائیں اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں خاموشی سے دکھ سہتے ہیں۔ براہِ کرم لوگوں کو ہمارے درد کے بارے میں بتائیں‘‘۔
بوڑھوں کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں اکثر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ اجنبی لوگوں یا اداروں کی طرف سے ہونے والی غفلت ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تکلیف دہ ہے۔ بعض اوقات یہ سب کچھ ان گھروں کے اندر ہوتا ہے جو باہر سے بالکل معمول کے دکھائی دیتے ہیں۔ بند دروازوں کے پیچھے۔ اپنے ہی خاندانوں کے اندر۔
متاثر ہونے والے اکثر شکایت نہیں کرتے۔ وہ خاموش رہتے ہیں، اور اس خاموشی کے کئی سبب ہوتے ہیں،اپنی اولاد سے محبت، تنہائی کا خوف، معاشرتی بدنامی کا اندیشہ، یا محض یہ امید کہ شاید کل حالات بہتر ہو جائیں۔
بوڑھے والدین کبھی والدین ہونا نہیں چھوڑتے۔ اپنی ہی اولاد سے دکھ پانے کے باوجود وہ ان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔
آج فون کرنے والے اس بزرگ کو انتقام نہیں چاہیے تھا۔ وہ قانونی کارروائی بھی نہیں چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ انہیں ہمدردی کی بھی خواہش نہیں تھی۔وہ صرف ایک سادہ سی خواہش رکھتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ لوگ جانیں کہ ایسا درد بھی موجود ہے۔اور شاید کہیں کوئی بیٹا یا بیٹی یہ تحریر پڑھ کر ایک لمحے کے لیے ٹھہر جائے، اپنے گھر میں موجود بوڑھے چہروں کی طرف دیکھے، اور ایک بہت بنیادی حقیقت کو یاد کرے:
’’وہ کمزور ہاتھ کبھی انہیں زندگی کی راہوں پر اٹھا کر لے گئے تھے‘‘۔