بلال احمد پرے
بیت المال آج کے دور میں ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں موجود ہیں ۔ حتیٰ کہ اب محلہ سطح پر دیکھنے کو بھی ملتا ہے ۔ بیت المال کا تصور دین اسلام سے ملتا ہے ۔ اسلام کے معاشی نظام کی اساس بیت المال پر ہے ۔ جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ معاشرہ کے نادار، معذور، بیوہ، مستحق اور ضرورت مند افراد کی کفالت کرنا لازمی ہے اور اس کا ڈھانچہ، نظام، قوائد و ضوابط اور دیگر ضروری اصول بھی قرآن و حدیث اور کُتب سیرت میں موجود ہیں ۔ یہاں تک کہ مُصرفین کو الگ الگ آٹھ مختلف زمروں میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔
بیت المال ضرورت مندوں کی ایک امید ہے، یہ غریبوں کا خزانہ ہے، یہ بے روزگاروں کے لیے سرمایہ اعانت ہے، یہ معذور و ناتواں، اپاہجوں، بیماروں، یتیموں اور بیواؤں کے لیے بنک سے بڑھ کر ہے، یہ لاوارثوں کا وارث ہے، یہ نکاح کا طاقت نہ رکھنے والے نوجوانوں کا ہمدرد ہے، یہ مقروضوں کے لیے ایک غم خوار ادارہ ہے، یہ بے بس و بے سہارا بزرگوں کے لیے احاطہ وقار ہے، یہ معاشی بحراں کا آسان حل ہے ۔
بیت المال مسلمانوں کے لئے موجودہ دور کی کوآپریٹیو سوسائٹی ہے ۔ یا محکمہ فلاح و بہبود (Social Welfare) سے بڑھ کر وہ فلاحی ادارہ ہے، جہاں اثر و رسوخ کے بغیرمذہب و ملت، جنس، رنگ و نسل اور علاقہ جات کے بغیر مستحقین کی مالی امداد کی جاتی ہیں۔ یہ مسلمانوں کی انشورنس کمپنی اور جی پی فنڈ سے بھی بڑھ کر مددگار ادارہ ہے ۔ جو مستحقین کی باز آبادکاری کے لئے مؤثر اقدامات پیش کرتا ہے ۔یہ معاشرے کے بے سہارا افراد اور بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی کفالت کی ذمہ داری لینے والا ادارہ ہے ۔ ایسے اداروں کے ذمہ داروں کو خصوصاً اور عوام الناس کو عموماً موجودہ دور میں ضرورت کے مطابق مندرجہ ذیل تجاویز پر غور و فکر کر کے عملانا چاہئے اور جہاں اس طرح کے اقدام اٹھائے گئے ہیں، انہیں مزید وسعت دے کر فعال کردار ادا کرنا چاہئے ۔
۱۔ ہنرمند اور ٹیکنکل تعلیم میں معاونت :۔موجودہ وقت کے مطابق نوجوانوں کو رسمی تعلیم سے آگے نکل کر ہنرمند اور ٹیکنکل تعلیم کی طرف گامزن کرنا چاہئے ۔ اس کے لئے انہیں ضروری فیس، کتابیں و دیگر ضروری آلات بہ آسانی بیت المال جیسے اداروں میں مہیا رکھنا چاہئے ۔ مزید اپنی اپنی بستی میں تلہ ورک، سلائی سینٹر، ہینڈی کارفٹس، قالین بافی، آری ورک وغیرہ جیسی ہنر سے آراستہ کرنے کے مراکز کا انعقاد کرنا چاہئے، تاکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم اپنے بچوں کو ہنرمند بنا کر ان کے لئے روزگار حاصل کرنے کے مواقع کھل دیں گے ۔
۲۔ میرٹ اسکالرشپ کا اہتمام :۔وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ضرورت مندوں بچوں کو اپنی تعلیم مستقل رکھنے اور اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے اسکالرشپ کو متعارف کرنے کی ضرورت آپہنچی ہے ، تاکہ ایسے بچے تعلیم کی طرف راغب ہوں اور ان کے اندر مزید دلچسپی پیدا ہو جائے ۔ جس میں بجٹ کے اعتبار سے ابتدائی جماعت سے لے کر پوسٹ گریجویشن تک کے غریبوں، یتیموں، دیگر ضرورت مند بچوں سے درخواست طلب کریں اور ان کے کورس فیس کے مطابق سبھی درخواست دہندگان کی درخواستیں منظور کرے ۔مزید محدود وسائل اور ہونہار طلاب کو اپنے اپنے دلچسپی والے میدان میں اسپانسر کریں ،یہاں تک کہ وہ اپنی ڈگری مکمل کرے اور یہی اسپانسرڑ طلاب واپس اس ادارے کو لائف ٹائم ممبرشپ دے کر مزید مضبوط بنائیں گے ۔
۳۔ ماڈرن کیمپوٹررائڑڈ لائیبریریوں کا اہتمام : ۔بیت المال پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ مسجدوں اور مکاتبوں کے اندر غیر استعمال شدہ جگہ کو ایک مارڑرن طرز کی لائیبریری میں منتقل کریں ۔ جہاں جدید دور کی تمام تر سہولیات میسر ہوں اور بستی کے خواہشمند افراد مطلوب علم کو گھر بیٹھے ہی مفت حاصل کر سکیں ۔ اس کی تازہ مثال حال ہی میں جامع مسجد شریف سونم، پٹن (بارہمولہ) نے پیش کی ہے ۔ اس طرح کے اقدام سے وہ نہ صرف اپنا مطلوب علم حاصل کریں بلکہ وہ مساجد کی طرف بھی شوق رکھیں گے ۔
۴۔ بے روزگاروں کے لئے روزگار فراہم کرنا : ۔بیت المال کے ذمہ داروں کو اپنی بستی کے بے روزگار نوجوانوں کی فکر لاحق ہونی چاہئے ۔ انہیں اس طرح کے لوگوں کے لئے کسی معقول اور تسلی بخش روزگار فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنا چاہئے ۔ پڑھے لکھے غریب نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے کے لئے مختلف اداروں سے نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی درخواست جمع کرنے کے لیے مطلوب فیس مہیا رکھنا چاہئے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ خواہشمند امیدوار اپنی درخواست جمع کر سکیں ۔ اور انتخاب ہونا بھی زیادہ شرکت پر ہی منحصر ہے ۔اس کے علاوہ سیول سروسز جیسے ملکی (Civil Services Examination) اور یوٹی (Jammu & Kashmir Civil Services Examination) سطح کے مسابقتی امتحانات میں شرکت کرنے کے لئے انہیں ذہنی طور پر تیار کرے، ان کے لئے آگاہی کیمپ منعقد کرے اور سب سے بڑھ کر کوچنگ کا خرچہ برداشت کرے ۔
۵۔ دُکان و دیگر خود روزگار یونٹس فراہم کرنا : ۔بیت المال کے ذمہ داروں کو اپنی بستی کے ان نوجوانوں کی فہرست بنانی چاہئے جو دکان یا دیگر چھوٹی خود روزگار یونٹس ڈالنے کے لیے تیار ہوں ۔ اس کے لئے انہیں قرضہ حسنہ کے تحت سافٹ لون کی شکل میں قوائد و ضوابط کے تحت فارم طلب کرے اور میرٹ کی بنیاد پر بجٹ کے مطابق ایسے درخواست دہندگان کو منظوری دے کر روزگار کے ضروری یونٹس دیں دے اور واپسی پر ان سے آسان ماہانہ قسطوں کی شکل میں منظور شدہ رقم وصول کرے ۔ اس طرح کے اقدام سے بستی کا پیسہ اپنی ہی بستی میں گھوم پھر (circulation) کر معاشی ترقی کی راہ کھول دے گا ۔ اور نوجوان بھی مختلف جرائم میں مبتلا ہونے سے بچائیں جا سکتے ہیں ۔
۶۔ سادہ اور آسان نکاح کی ترغیب : ۔روزگار کے ساتھ ساتھ حیا اور پاکدامنی کا معاشرہ بنانا امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے زمرے میں سب سے اعلیٰ مقام رکھتا ہے ۔ لہٰذا بیت المال کے ذمہ داروں کو اپنی اپنی بستیوں میں بے نکاح نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بَر وقت آسان نکاح کرنے پر آمادہ کرنا چاہئے ۔ اس کے لئے علماء دین سے رابطہ کریں تاکہ وہ انہیں شریعت کی رو سے آسان نکاح کے فضائل بیان کر سکے ۔ تاکہ بستی میں بے حیائی جیسی برائیوں کا قلع قمع کیا جا سکیں ۔
۷۔ ذہنی و نفسیاتی مریضوں کی مفت کونسلنگ : ۔منشیات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے لوگ ذہنی، جسمانی و نفسیاتی مریض بن چکے ہیں ۔ ایسے سبھی افراد کی کونسلنگ کے لیے رضاکارانہ طور پر کونسلرز (Counsellor) کی سروس دستیاب رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، تاکہ اپنی اپنی بستیوں کو مضبوط و مستحکم بنانے میں ہمارا ذاتی کردار ادا ہو جائے ۔ مزید عوام الناس کو غیرقانونی خشخاش و بھنگ کی کاشتکاری کرنے کے بجائے لہسن یا دوسری جائز فصل کی کاشت کاری کے لئے تیار کرے، تاکہ نوجوانوں کو منشیات کے وباء سے دور رکھا جا سکیں ۔
۸۔ طویل بیماروں کے لئے ضروریات : ۔موجودہ دور میں اس طرح کے اداروں میں ضروری بیڈ، ویل چیئر اور آکسیجن کنسنٹریٹر رکھنے کی ضرورت آپہنچی ہے، تاکہ محلوں کے اندر طویل بیماروں کو اس طرح کی ضروریات گھر بیٹھے مفت دستیاب رکھی جا سکیں ۔ مزید ان کی دیگر ضرورتوں کے لیے وقتاً فوقتاً ڈاکٹر و پیرامیڈیکل سروس کے علاوہ گاڑی دستیاب رکھنا بھی بیت المال کی ذمہ داری ہے ۔
۹۔ ماہانہ پنشن اسکیم کا مختص رکھنا : ۔اپنی اپنی بستیوں میں موجود بے سہارا بزرگوں کے لئے سرکاری طرز پر ماہانہ پنشن مختص رکھنا بیت المال کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، تاکہ ایسے معمر افراد کو عزت و آبرو سے جینے کا حق دیا جائے اور ضروریاتِ زندگی بہ آسانی مہیا ہو سکیں ۔ یہ پنشن کسی بھی طرح ہر ماہ انہیں اپنے در پر واجب الادا ہونا ضروری ٹھرایا جائے، تاکہ انہیں ذمہ داروں کے پاس آنے کی نوبت نہ آئیں اور یہ راز ہمیشہ رازدارانہ ہی رہے ۔
۱۰۔ ناگہانی آفات میں ہمدردانہ کردار :۔زلزلہ، سیلاب، تیز آندھی و دیگر قدرتی و انسانی آفات کے اوقات بیت المال کو ہمدردانہ کردار ادا کرنا چاہئے ۔ اور ایسے اوقات میں اپنے متاثرکن بھائیوں کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ الغرض اس طرح کے ٹھوس اقدامات سے ایک فلاحی معاشرہ وجود پاتا ہے اور انفاق کے تمام مطالبات اسی سے متعلق ہیں ۔ اسلام میں فاضل، زائد جیسی اپنی ذاتی ضروریات جو عیاشی اور نمائشی نہ ہوں کو خرچ کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے ۔ لہٰذا اصحابِ خیر جیسے لوگوں کو آگے آنا چاہئے اور اس طرح کے اداروں کو مضبوط و مستحکم بنانے میں اپنا مالی تعاون خوش دلی سے پیش کرنا چاہئے ۔ بیت المال کے ذمہ داروں سے رابطہ کر کے آپ ماہانہ یا سالانہ طور پر لائف ٹائم ممبرشپ حاصل کر کے اس طرح کے ٹھوس اقدامات اٹھانے میں اپنا کردار ضرور ادا کرے ۔ اللہ پاک ہم سب کو انسانیت کے لئے نفع بخش بنائے ۔ آمین
رابطہ ۔ 9858109109