پس منظر
* یہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کا نو سال میں اسرائیل کا دوسرا دورہ ہوگا۔
* وزیرِ اعظم نریندر مودی کے 4-6 جولائی، 2017 کو دورے کے دوران بھارت اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات کو ’’اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کے درجے تک بلند کیا گیا۔
* بھارت اور اسرائیل کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی، جدت، دفاع و سلامتی، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، پانی اور عوامی روابط کے شعبوں میں مضبوط باہمی تعاون سمیت ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہے۔
وزیراعظم مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ماضی کی ملاقاتیں اور روابط
* وزیرِ اعظم مودی نے بطور بھارتی وزیرِ اعظم پہلی بار اسرائیل کا تاریخی دورہ 4-6جولائی، 2017کو کیا، جس دوران دونوں ممالک کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کے درجے تک بلند کیا گیا۔
* اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے واپس 14-19جنوری، 2018 کو بھارت کا دورہ کیا۔
* 11,جنوری 2023کو وزیرِ اعظم مودی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو فون کر انہیں چھٹی بار وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔
* اگست 24، 2023 کو وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے وزیرِ اعظم کو چاند پر چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا۔
* اکتوبر 10کو، 2023کو وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے 7اکتوبر کے دہشت گردانہ حملے کے بعد اسرائیل کی صورتِحال کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کرنے کے لیے وزیرِ اعظم کو فون کیا۔
* جون 6 کو، 2024 کو وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو فون کر انہیں بھارت کے وزیرِ اعظم کے طور پر مسلسل تیسری مدت کے لیے منتخب ہونے پر مبارکباد دی، اور اگست 16کو بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر بھی مبارکباد پیش کی۔
* 22 اپریل، 2025کو پہلگام دہشت گردانہ حملے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے وزیرِ اعظم مودی کو مورخہ 24 اپریل، 2025فون کیا۔
* جون 13، 2025کو اسرائیل۔ایران تنازعہ کے آغاز کے بعد وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان دو مرتبہ گفتگو ہوئی. اکتوبر 9، 2025کو وزیرِ اعظم نریندر مودی نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو فون کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت ہونے والی پیش رفت پر مبارکباد دی۔
* وزرائے اعظم نے 10دسمبر، 2025کو بھی خطے کی صورتِحال کے حوالے سے گفتگو کی۔
* وزرائے اعظم نے جنوری 7، 2026 کو گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے نئے سال کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور خطے کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
حالیہ وزارتی سطح کی مصروفیت
* سال 2025:میں اسرائیل سے بھارت کے وزارتی سطح کے دورے ہوئے جن میں زراعت کے وزیر، سیاحت کے وزیر، تجارت و معیشت کے وزیر، وزیرِ خزانہ اور وزیرِ خارجہ شامل تھے۔
* سال 2025:میں بھارت سے اسرائیل کا دورہ کرنے والوں میں وزیرِ تجارت و صنعت، وزیرِ خارجہ، اور وزیرِ ماہی گیری و حیوانات شامل تھے۔
سائنس و ٹیکنالوجی اور اینوویشن
مضبوط تعاون میں اسٹارٹ اپس، مشترکہ تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) منصوبے، انڈیا۔اسرائیل صنعتی اختراعی فنڈ (I4F)، انڈیا۔اسرائیل مشترکہ تحقیقی کالز، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی شامل ہے۔
دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون
* دفاع کے شعبےمیں باہمی تعاون بھارت۔اسرائیل شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔
* نومبر 2025میں بھارت کے دفاعی سیکرٹری کے اسرائیل کے دورے کے دوران بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔
تجارت اور معیشت
* نومبر 2025 میں وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل کے دورے کے دوران بھارت اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) مذاکرات کے آغاز کے لیے ٹرمز آف ریفرنس (ToR) پر دستخط کیے گئے۔
* ستمبر 2025 میں اسرائیلی وزیرِ خزانہ جناب بیزلیل سموٹریچ کے بھارت کے دورے کے دوران اقتصادی شعبے میں باہمی تعاون کو وسعت دینے، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور سرحد پار سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی اے) پر دستخط کیے گئے، جس سے گہرے تعلقات اور ممکنہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر مذاکرات کی بنیاد پڑی۔
زراعت اور آبی ٹیکنالوجی
* زرعی شعبے میں دیرینہ تعاون. منظور شدہ 43سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ای) میں سے مجموعی طور پر 35بھارت کی مختلف ریاستوں میں مکمل طور پر فعال ہیں، جہاں جدید زرعی طریقوں، آبپاشی اور آبی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
* اپریل 2025میں اسرائیل کے وزیرِ زراعت کے بھارت کے دورے کے دوران زراعت کے شعبے میں تعاون کے لیے نظرثانی شدہ معاہدے اور چھ 3سالہ مشترکہ ورک پلان (2024-2026) پر دستخط کیے گئے۔
عوام سے عوام رابطے
* اسرائیل میں 41,000سے زائد مضبوط بھارتی برادری مقیم ہے۔
* نومبر 2023میں بھارت اور اسرائیل نے دو طرفہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تاکہ اسرائیل میں بھارتی کارکنوں کو عارضی، محفوظ اور قانونی روزگار کی سہولت فراہم کی جا سکے. اس کے بعد سے20, 000بھارتی اسرائیل پہنچ چکے ہیں، جو حکومت سے حکومت (G2G) کے راستے اور نجی ذرائع دونوں کے ذریعے آئے ہیں۔
علاقائی/کثیر جہتی
* بھارت نے اکتوبر 13,2025کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ تنازعہ کے خاتمے کے لیے اعلان کردہ جامع منصوبے کا خیرمقدم کیا۔
* بھارت خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی کوششوں کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔
* بھارت اور اسرائیل، I2U2گروپ کے رکن ہیں (بھارت، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، ریاستہائے متحدہ امریکہ) — یہ ایک تعاوناتی فریم ورک ہے جو غذائی تحفظ، قابلِ تجدید توانائی، تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
بشکریہ وزارت ِخارجہ ، حکومت ہند
1