بنی // بنی بسوہلی سڑک پر بیکن کے مقام پر اسکولی بچوں نے اسکولی بس کے مطالبے کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور زوردار نعرے بازی کی ۔اس دوران مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسکول کے درمیانی اوقات میں اسکول جانے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کوکوئی بھی سہولیات دستیاب نہیں ہے ۔انہوں نے مزیدکہا بیکن سے بنی تک 10 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اسکولی طلبہ روزانہ 10 کلو میٹر کی مسافت پیدل طے کر کے اسکول جاتے ہیں۔ بنی سے بیکن تک سڑک اسقدر خراب ہے کہ گھر سے اسکول جانا بے حد مشکل ہوگیا ہے ۔اس سڑک کا ڈبل لائن کا کام چل رہا ہے جس کے سبب سڑک دھول مٹی میں تبدیل ہو چکی ہے اور نہ ہی گریف اس سڑک کو جلد مکمل کر وارہی ہے اور نہ ہی گریف کا کوئی اہلکار سڑک پر پانی ڈالنے کی زحمت کر رہا ہے ۔گریف کی عدم توجہی کے سببعام راہگیروں اور طلبہ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل کئی مرتبہ اسکولی بچوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا تھا کہ اسکولی طلبہ کو اسکولی اوقات پر گاڑی مہیا کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہر بار طلبہ کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن یقین دہانی کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ۔انہوں نے بنی ٹرانسپورٹروں پر الزام بھی عائد کیا کہ بنی کی تمام گاڑیاں بنا روٹ پرمٹ کے چل رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کا روٹ جس سڑک کا ہوتا ہے تاہم اس سڑک پر گاڑیاں نہیں چلتی ہیں اور گاڑیوں کا کوئی بھی ٹائم ٹیبل نہیں ہے جسکی وجہ سے بھی اسکولی طلبہ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث ا نہوں نے بنی بسوہلی سڑک کو تین گھنٹوں تک بند کر کے احتجاج کیا اور نعرے بازی کی اس دوران سڑک پرچلنے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی معطل بن کر رہ گئی۔ بعد میں ایس ایچ او بنی محمد شریف راتھر ، اور تحصیلدار بنی سْدیش کمار پہنچے اور احتجاج کر رہے طلبہ کو ان کے مطالبات کی جانکاری حاصل کی اور موصوف نے یقین دلایا کہ آپ کے مطالبات کو جلد از جلد حل کیا جائے گا ۔