سید سرفراز احمد
مشہور فلسفی کرو پاؔٹکن کا قول ہے کہ ’’لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس ملک میںجتنے’ قوانین‘پاس ہوتے جائیں گے ،اتنے ہی کم جرائم سرزد ہوں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ قوانین کی تعداد میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ جرائم کی تعداد میں بھی خوب اضافہ ہوتا ہے ،بلکہ اکثر قوانین پر ہی مجرموں کے پیدا ہونے کی ذمہ داری ہے‘‘۔اسی طرح آسکر وائلڈکا کہنا ہے کہ ’’روئے زمین پر آج تک جو قانون بنائے گئے ہیں ،ان قوانین کا کام چھلکوں کی حفاظت کرنا اور دانوں کو دور پھینک دینا ہے۔‘‘ظاہر ہے قانون جمہوریت کا وہ مضبوط ستون ہے جوانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنےکا آخری دروازہ ہے۔ اگر یہاں سے بھی انصاف کو تابدان میں رکھکر انصاف کے منتظر رعایا کو نا انصافی کی مالائیں پہنائی جائیں تو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مضبوط ستون بھی کمزوری کی حالت میں کروٹیں بدل رہا ہے۔اپنے اس وطن عزیزمیںناانصافی مسلمانوں کے حق میں ایک ایسا لفظ بن چکا ہے جو بار بار دستک دے کرآتے رہتا ہے بلکہ یہ لفظ ان کیلئے بھی عام ہوچکا ہے جو حق پرستی کا ساتھ دیتے ہوں، بھلے ہی انکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ یہ نا انصافی کبھی شاہ بانو کے روپ میں آتی ہے تو کبھی بلقیس بانو بن کر، کبھی گوری لنکیش کے روپ میں آتی ہے تو کبھی سنجیو بھٹ بن کر۔ اسی طرح اگر ناموں کوایک ایک کرکے گنا جائے تو ایک طویل فہرست تیار ہوجائے گی ۔ملک میں جب کبھی بھی منظم انداز میں فسادات ہوئے، ہر بار صرف اور صرف مسلمانوں کی بلی چڑھائی گئی۔ قتل و غارت گری کا کھیل کھیلا گیا، مسلم خواتین کی عزتوں کو تار تار کیا گیا ،جس کا وحشیانہ ماڈل 2002 کے گجرات فسادات کا ہے، جسکو درندگی میں صف اول میں رکھا جاسکتا ہے اور کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح 2013 کا مظفرنگر فسادات جو گجرات کی طرز پر مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی گئی اور 2020 دہلی فسادات جس میں منظم انداز میں مسلم بستیوں کو اُجاڑا گیا، مسلمانوں کی املاک کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا ۔ہر بار فسادات میں مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کردیا گیا، تمام فسادات میں نشانہ پر اور حاشیہ پر صرف مسلمان ہی تھا۔ ایک تو یہ کہ مسلمانوں کے لہو سے ہر بار زمین سرخ کی گئی ، دوسرایہ کہ ان ہی معصوم مسلمانوں پر نا انصافی کی شکل میں ظلم کی بجلیاں گرائی جاتی ہیں۔
15؍اگست 2022 کا دن ،تاریخ کے اوراق میں دوسری بار ضرور درج کیا جا سکتا ہے،بلا شبہ اول تو یہ دن بھارت کی آزادی کی نسبت سے اہم ترین اور تاریخ سازحیثیت کے ساتھ درج ہے ۔دوسرا، اس دن کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہےکہ گجرات فسادات کے درندہ صفت انسان نما مجرمین کو گجرات حکومت نےآزاد کردیاہے۔ اسی دن جب ایک طرف پورابھارت آزادی کی 75 ویں سالگرہ منارہا تھا تو دوسری طرف گجرات فسادات کے اصل گیارہ مجرمین کی رہائی عمل میں آتی ہے جو پورے بھارت کیلئےتاریخ کا ایک بدنما اور شرمندہ کرنے والا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ در اصل انصاف کا قتل کرنے کے مترادف ہے کیونکہ دیش کا ہر شہری اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ گجرات فسادات میں مسلمانوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا گیا۔ اگر پھر سے ان وحشت ناک مناظر کو یاد کیا جائے تو جسم کے رونگھٹے جذبات سے مغلوب ہوجاتے ہیں۔یہ وہی بلقیس بانو ہے جو پانچ ماہ کے حمل سے تھی، جس کے ساتھ یہی درندے اجتماعی عصمت ریزی کرتے ہیں اور اس خاتون کی تین سالہ بیٹی کو اس سے چھین کر قتل کردیا جاتا ہے،اسی پر بس نہیں کیا جاتابلکہ اسکے خاندان کے سات افراد کا بھی قتل کردیا جاتا ہے، تو کیا ایسے قاتل اور ایسے مجرمین کو معاف کیا جاسکتا ہے؟ ایسے مجرمین کو تو حکومت اور عدالت پھانسی کا طوق پہنا کر ہی بلقیس بانو سے انصاف کرسکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ان گیارہ سفاک مجرمین میں سے صرف ایک نے معافی کی درخواست دائر کی تھی، اسی ایک کے معافی نامہ کی آڑ میں گیارہ مجرمین کو رہا کردیا جاتا ہے، اس سے بڑا شرمناک فیصلہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ حالانکہ ممبی کی سی بی آئی عدالت نے 2008 میں ان گیارہ مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جسکو ممبی ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا جبکہ قانون کے مطابق عمر قید کی سزا کا مطلب آخری سانس تک سزا کاٹنی پڑتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان مجرمین کو کونسی عمر قید کی سزا دی گئی تھی؟یاد رہے کہ دہلی میں جب نربھیا ؔکی اجتماعی عصمت ریزی کی جاتی ہے تو اُن خاطیوں کو پھانسی کی سزا دی جاسکتی ہے، تو ایسے وحشی نما انسانوں کو کیوں سماج میں کھلا چھوڑا جارہا ہے؟کیا ایسے خاطیوں کو کھلے عام آزاد کرنے سے سماج میں خوف و وحشت نہیں پھیلے گی ؟اگر اسطرح سے فیصلے آئیں گے تو کیاعدلیہ عوام کا اعتماد حاصل کر پائے گی؟ ان مجرمین کی رہائی کے بعد،نمایاں طورپر مجرمین کی رہائی میں گجرات حکومت کی زیادہ خواہش نظر آئی ہے،کیونکہ اگر گجرات حکومت نہ چاہتی تو یہ رہائی ہرگز نہیں ہوپاتی ۔
بلقیس بانو کیس کے گیارہ مجرمین کی اچانک رہائی کئی سوالات اُبھار تی ہے۔ اول یہ کہ گجرات کے ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں، برسرِاقتدار پارٹی اپنی گدی کو برقرار رکھنے کیلئے بلقیس بانو کا گھر اُجاڑ کر اپنی منفی سیاست کا کھیل رچا رہی ہے، کیونکہ گجرات کی موجودہ سرکار زوال پذیری کی طرف جارہی ہے، ایسے میں ہندو طبقہ کے رائے دہندوں کو اپنی جانب پر کشش بنانے کیلئے ان مجرمین کا سہارا لے رہی ہے تاکہ تخت کی راہ ہموار ہوجائے، دوم یہ کہ مسلمانوں کی نسل کشی کرنا اور نسل کشی کرنے والوں کے معاونین بننا،اُن کی نظریاتی منشاء کا اہم حصہ ہے ۔ چونکہ آر ایس ایس کے نظریہ میں نہ سیکولرزم کا نام شامل ہے نہ جمہوریت کا۔ تو بھلا یہ کیسے جمہوریت اور قانون پر عمل کرسکتے ہیں۔ سوم یہ کہ اگر ایسے مجرمین کو معافی کی آڑ میں آزاد کردیا جائے تو جرائم میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہونے کا احتمال ہے، وہ اس لئے کہ جب اتنے بڑے جرم کے مرتکب مجرمین کو چھوڑا جاسکتا ہے تو معمولی جرم کرنے والے کیا اپنےجرائم سے بچ نہیں پائیں گے؟۔تعجب اور حیرانی تو اس بات کی ہورہی ہے کہ کس طرح خواتین ان درندہ صفت مجرمین کی پیشانی پر تلک لگاکر منہ میٹھا کرتے ہوئے ان کی رہائی کا استقبال کررہی ہیں؟ کیا ان خواتین کو بلقیس بانو پر گذرنے والی تکلیف اور درد کا کوئی احساس نہیں ہے؟کیا انہوں نے بلقیس کی جگہ اپنے آپ کو رکھکر ایک لمحہ بھی نہیں سوچا ہے؟ اور جو حکومت ناری کے تحفظ کا نعرہ بلند کرنے والی ،خواتین کو عزت بخشنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے منہ پر آج کیوں قفل لگ گیا ہے؟کیا وہ اپنی خاموشی کے ذریعہ مجرمین کا تعاون کرنا چاہتے ہیں یا پھر درد اور کرب میں لپٹی ہوئی بلقیس کو جیتے جی مارنا چاہتے ہیں، جو خود کو اب غیر محفوظ بھی سمجھ رہی ہے۔ بلقیس کیس کے معاملہ میں عدالت اعظمیٰ کو فوری مداخلت کرتے ہوئے مجرمین کو نربھیا کے مجرمین کی طرز پر سزا تک پہنچانا چاہئے، تب ہی بلقیس بانو سے انصاف کے پیمانے کو مکمل کیا جاسکتا ہے اور عوام کا بھی عدلیہ پر اعتماد برقراررہ جائے گا بلکہ جمہوریت کی بھی لاج رہ جائے گی ۔ تمام غیوراور باضمیر بھارتی شہریوں کو بلقیس سے انصاف کیلئے بیک وقت متحدہ آواز بلند کرنی چاہئے ورنہ کل کوئی اور خاتون بلقیس کی طرح انصاف کیلئے ایسے ہی آہ بکا کرتی رہ جائے گی۔
<[email protected]>