اِکز اِقبال
دنیا اس وقت قیامت کی گھڑی پر پچاسی سیکنڈ کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ قیامت کی گھڑی کسی مذہبی پیش گوئی کا نام نہیں، نہ یہ قیامت کی تاریخ بتاتی ہے۔( Doomsday Clock) ڈومز ڈے کلاک ایک علامتی گھڑی ہے جسے 1947 میں Bulletin of the Atomic Scientists نے متعارف کرایا تھا۔ اس گھڑی کا مقصد مستقبل کی پیش گوئی کرنا نہیں، بلکہ حال کا محاسبہ کرنا ہے،یہ دیکھنا کہ انسانیت اس لمحے کہاں کھڑی ہے اور اجتماعی فیصلے اسے کس سمت لے جا رہے ہیں۔ اس گھڑی میں آدھی رات کا مطلب مکمل عالمی تباہی ہے اور ہر گزرتا ہوا سیکنڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عقل کے بندھن کمزور اور طاقت کے اوزار بے لگام ہوتے جا رہے ہیں۔اس تصور کی فکری بنیاد انہی سائنس دانوں نے رکھی تھی جو ایٹم بم کی تیاری کے بعد اس کے اخلاقی اور انسانی نتائج سے خوفزدہ ہو گئے تھے۔ جن میں Albert Einstein اور J. Robert کے قریبی رفقا شامل تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے طاقت تو بنا لی، مگر پھر اس کے بوجھ تلے دب گئے۔ آج، ان کے جانشین سائنس دانوں ‘ بلیٹن کے سائنس اینڈ سکیورٹی بورڈ کی سالانہ جانچ کے مطابق، جنوری 2026 میں یہ گھڑی آدھی رات سے محض پچاسی سیکنڈ پہلے—یعنی تاریخ کے سب سے خطرناک مقام پر لا کھڑی کی گئی ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ انسانی شعور پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔
قیامت کی گھڑی ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ کل کیا ہونے والا ہے بلکہ یہ یاد دلاتی ہے کہ آج کیا ہو رہا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کس قدر لاپرواہی سے خود کو خطرات کے دہانے پر دھکیل رہی ہے۔ بدقسمتی سے یہ پہلی بار نہیں کہ ہمیں خبردار کیا گیا ہو۔ ایک برس قبل بھی دنیا کو متنبہ کیا گیا تھا کہ انسانیت خطرناک حد تک قریب پہنچ چکی ہے۔ مگر اس انتباہ کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے عالمی طاقتوں نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا۔امریکہ، روس اور چین سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں مزید سخت، مزید بداعتماد اور مزید خودمرکز ہوتی چلی گئیں۔ وہ معاہدے جنہوں نے کبھی عالمی نظام کو کسی حد تک سنبھال رکھا تھا یا تو ختم ہو گئے یا عملاً بے اثر بنا دیے گئے۔ مکالمے کی جگہ مقابلے نے لے لی اور تعاون کو کمزوری سمجھا جانے لگا۔اس بگاڑ کے مرکز میں ایک بار پھر ایٹمی خطرہ پوری شدت کے ساتھ ابھر آیا ہے۔ سرد جنگ کے بعد جو نظام ایٹمی تصادم کو روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، وہ اب بکھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایٹمی ہتھیار اب آخری دفاع کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ طاقت کے اظہار، سیاسی دباؤ اور نفسیاتی برتری کے اوزار بنتے جا رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ان کے استعمال کا تصور اب ناقابلِ تصور نہیں رہا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم تباہیاں اکثر دانستہ فیصلوں سے نہیں، بلکہ غلط فہمیوں، غلط اندازوں اور لمحاتی اشتعال سے جنم لیتی ہیں۔ آج کے ماحول میں، جہاں سفارت کاری کمزور اور زبان تلخ ہو چکی ہے، ایک معمولی غلط تشخیص بھی ناقابلِ تلافی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ایٹمی خطرے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی بحران پوری شدت سے اپنا وجود منوا چکا ہے۔ برسوں سے سائنس مسلسل خبردار کر رہی ہے، مگر سیاست اب بھی بہرے پن کا شکار ہے۔ عالمی درجۂ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے، موسم شدت اختیار کر چکے ہیں، سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی معمول بنتی جا رہی ہے۔ پانی اور خوراک کے مسائل سنگین ہو رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی اب مستقبل کا اندیشہ نہیں بلکہ حال کی تلخ حقیقت ہے۔ماحولیاتی تبدیلی اب محض ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ تنازعات کو بڑھاتی ہے، عدم مساوات کو گہرا کرتی ہے اور کمزور معاشروں کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس بحران کی سب سے بھاری قیمت وہ خطے ادا کر رہے ہیں جو اس کے ذمہ دار بھی نہیں—مگر عالمی ردعمل اب بھی منتشر اور ناکافی ہے۔حیاتیاتی خطرات اس تصویر کا ایک اور تشویشناک پہلو ہیں۔ کووڈ۔19 نے واضح کر دیا کہ دنیا کی اجتماعی طور پر تیاری کتنی کمزور ہے۔ عالمی نگرانی کے نظام ناکافی ثابت ہوئے، اعتماد مجروح ہوا اور ردعمل غیر مربوط رہا۔ وبا تو گزر گئی، مگر اس کے اسباق اب بھی فائلوں اور رپورٹوں میں دفن ہیں۔ صحتِ عامہ میں سرمایہ کاری غیر مساوی ہے، اور غلط معلومات کا زہر آج بھی معاشروں میں زہر گھول رہی ہیں۔اسی دوران، ٹیکنالوجی کی بے مثال رفتار نے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، سائبر جنگ اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا ایسے میدان بن چکے ہیں جہاں قوانین اور اخلاقیات پیچھے رہ گئے ہیں۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے اور خودکار نظام ایسے فیصلوں کے دہانے پر ہیں جن کے نتائج انسان کے کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔
ان تمام خطرات کے اوپر ایک گہرا سیاسی زوال سایہ فگن ہے۔ عالمی ادارے کمزور پڑ رہے ہیں، مکالمہ تصادم میں بدل چکا ہے، اور قوم پرستی اجتماعی ذمہ داری پر غالب آتی جا رہی ہے۔ ہر ریاست اپنی بقا کی جنگ اکیلے لڑنے کی کوشش کر رہی ہےاور یہی طرزِ فکر بالآخر سب کو کمزور کرتا ہے۔
کشمیر جیسے خطوں کے لیے یہ محض ایک عالمی بحث نہیں۔ یہاں عدم استحکام، عسکری کشیدگی اور غیر یقینی روزمرہ حقیقت ہیں۔ عالمی طاقتوں کے فیصلے براہِ راست مقامی زندگیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جب دنیا عدم توازن کی طرف بڑھتی ہے تو اس کی پہلی اور گہری ضرب ایسے ہی خطوں کو لگتی ہے۔قیامت کی گھڑی ہمیں یہ یاد دلانے نہیں آئی کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے، بلکہ یہ بتانے آئی ہے کہ سب کچھ ابھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔سوئیاں وقت ناپتی ہیں، نیت نہیںاور اگر انسان چاہے تو ایک لمحہ بھی تاریخ کا رخ موڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔یہاں قیامت کی گھڑی کا پیغام واضح ہو جاتا ہے۔ پچاسی سیکنڈ قیامت کا اعلان نہیں،یہ ایک انتباہ ہے۔ ایک سمت ہے، اور سمت اب بھی بدلی جا سکتی ہے۔ مگر اس کے لیے محض تشویش کافی نہیں۔ توجہ درکار ہے، ہمت درکار ہے اور سب سے بڑھ کر اجتماعی شعور درکار ہے۔ خاموشی لاپرواہی کو جنم دیتی ہے، جبکہ سوال جواب دہی پیدا کرتے ہیں۔ ووٹ، قلم اور آوازیہ سب طاقت رکھتے ہیں۔قیامت کی گھڑی خوف نہیں مانگتی۔وہ بیداری مانگتی ہے۔ اور جب تک دنیا سننے کو تیار نہیں ہوتی، سوئیاں خاموشی سے آگے بڑھتی رہیں گی۔ابھی صرف پچاسی سیکنڈ باقی ہیں۔
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ۔7006857283
[email protected]