ڈاکٹر فلک فیروز
رہے خیال کہ آئے نہ احترام میں فرق
اگر کسی سے ترا اختلاف ہو جائے
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ قدرت نے دنیا میں مختلف انسان مختلف نسلوں رنگوں زبانوں تہذیب کے ساتھ پیدا کئے،جس کی بنیادی وجہ ان کی پہچان ہے اور اس پہچان کی انفرادیت ان کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا ہے ،گویا مختلف ہونا انسانی سماج کا ازلی اور فطری عمل ہے۔اس رنگا رنگی نے دنیا کو ایک ازلی اختلاف کے ساتھ رہنے کا سبق سکھایا، انسان اسمانی صحیفہ کے مطابق اشرف المخلوقات ہے اور اس اشرف المخلوقیت کی بنیاد اس کے خیال،سوچ،فکر،تجربہ مشاہدات کی صلاحیت،علمی و تحقیقی تجزیہ یا فکر نیز اس کے فنون لطیفہ کی بنیاد پر ہے۔اسی صورتحال کی ایک بنیادی پہچان ہے انسان کا مختلف الخیال ہونا اور اس مختلف الخیال یا رائیے کے دوران اختلاف نظر بنیادی طور پر اللہ اور ابلیس کے مکالمے کے درمیان پیدا ہوا۔ سب سے پہلا اختلافِ رائے شیطان (ابلیس) نے قائم کیا، جب اس نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی رائے کو فوقیت دی اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ نافرمانی تکبر اور اپنی عقل کو وحی پر ترجیح دینے کی وجہ سے تھی، جس نے انسانوں کے درمیان بھی اختلافات کی بنیاد ڈالی۔
آسمانی کتابوں کے مطابق اور سائنسی تجربوں کے حوالے سے یہ بات ثابت آچکی ہے کہ اختلاف رائے کا فائدہ ہونا اور اس کا موجود رہنا علمی سطح پر علمی حوالوں کی بنیاد پر تحقیقی شواہد اور اصولوں کے مطابق انسانی سماج کے لیے ضروری ہے جس سے ترقی کے امکانات وسیع سے وسیع ہو جاتے ہیں۔اس حوالے سے دنیا کی علمی تاریخ میں ایسے مختلف شواہد موجود ہیں چاہے وہ سائنسی علوم کی بات ہو،فلسفہ و فکر کی بات ہو،تہذیب تمدن معاشرت عمرانی اصول یا مذہبی معاملات و مطالعات کی بات ہو۔
معاشرتی کشیدگی اکثر معاندانہ رجحانات کے فروغ سے پیدا ہوتی ہے۔صحت مندانہ مکالمے کے لیے معاندانہ رویے کو ترک کرنا چاہیے تاکہ صحیح سطح پر اختلاف رائے کے تناظر میں مسائل کو سمجھا جا سکتا ہے،معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں،اپنی علمی ضرورت کو وسیع کیا جا سکتا ہے،سماجی معاشی معاشرتی تہذیبی امورات میں ضرورت کے مطابق انفارمیشن مزید حاصل کی جا سکتی ہےاور درپیش مسائل کو بہترین طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔اختلاف رائے کے ساتھ اگر علمی حوالوں،سماجی اصول،مذہبی تعلیمات،سائنسی تحقیقات کے آئینے میں حوالوں کو پیش کیا جائے اور مخاطب الیہ ان تمام چیزوں کو رد کرتے ہوئے محض مخالفت کے لبادے میں بات کرنے کی چاہت رکھتے ہیں یہاں تک کہ اسی کے تحت اپنے بیکار نظریہ کو پیش کرتے ہیں۔
عمومی طور پر دیکھا گیا ہے مشرقی تہذیب اور کلچر میں صحت مند سطح پر اختلاف رائے کو کم حد تک تسلیم کیا جاتا ہے ۔یہاں کے علمی کلچر میں،سماجی رواداری میں،تحقیقی اصولوں کے تناظر میں اکثر بیشتر اختلاف رائے کو مخالفت یا معائندانہ رویہ اور طرز عمل کا لیبل چسپاں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے فرد،افراد ادارے ترقی کرنے سے پیچھے رہ جاتے ہیں ،نیز علمی و تحقیقی سطح پر بھی ہمارے علمی اور تحقیقی اداروں میں کوئی نئی چیز سامنے نہیں آتی ہے، جو کہ قوم کی ترقی یا عروج کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ثابت ہو سکتی ہے۔
اس بات کو سمجھنا ہر ایک فرد کے لیے ضروری ہے کہ اختلاف رائے مخالفت نہیں ہے بلکہ اختلاف رائے اپنے نظریے کو پیش کرنا ہے جس میں فرد کی معلومات شامل ہوتی ہے،اس کا تجربہ شامل ہوتا ہےاور اس کی علمی رواداری سامنے رہتی ہے گویا کسی بھی صورت میں ایک صلاح رائے مخالفت نہیں ہے اور مخالفت اختلاف رائے کے آئینے میں نہیں رکھا جا سکتا ہے، یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں جنہیں پہلے پوری طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اختلاف رائے رکھنا ،اختلاف رائے کو کھلے دل سے قبول کرنا زندہ اقوام کا وطیرہ خاص تصور کیا جاتا رہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے جہاں بھی اختلاف رائے کو کھلے دل سے قبول کیا گیا ہے اور اختلاف رائے کو آزادی عطا کی گئی ہے وہاں وہاں سیاسی سائنسی علوم قومی ترقی کی رفتار اس کی مثال اپنی آپ قایم ہوگی ۔ اسی طرح سے جہاں بھی اختلاف رائے کی کوششوں کو دبایا گیا یا انہیں مخالفت اور عداوت کا لبادہ پہنا کر سر عام رسوائی تھوپی گی، تو اس طرح اجتماعی اور قومی و انفرادی تعمیر و ترقی کے منازل لڑکھڑا گئے، نیز اسی طرح سے علمی رفتار بھی ماند پڑ گئی۔کہا جا سکتا ہے اختلاف رائے وہ شے ہے جس سے قومی ترقی کی رفتار میں بہتری اور بھلائی ممکن بن جاتی ہے۔اسی طرح سے مخالفت یا بے جا عداوت قوموں کی ترقی میں زوال کی علامت ہے اور انفرادی ذات کے تئیں انتہائی منفی جذبوں کی تشکیل اور ترویج کو فروغ بخشنے کا ایک ذریعہ ہے۔
“Disagreement is a state of differing opinions, conflict, or failure to agree, often involving arguments, disputes, or inconsistencies. It signifies opposing viewpoints, such as having a disagreement over, Thought , opinion,money, policies, or decisions. Synonyms include dissent, dispute, conflict, variance, divergence, and discord”.
اختلاف کے بنیادی معنی درمیان میں فرق، عدم مطابقت یا یکسانیت نہ ہونے کے ہیں۔ یہ لفظ نظریاتی تضاد، فکری سطح پر مختلف رائے کے اظہار کے لیے ،علمی ،ادبی،تحقیقی،مذہبی و فقہی احکام کے تئیں مختلف رائے رکھنا،سائنسی علوم کی تحقیقات مشاہداتی علوم کی خاطر دوسروں سے مختلف راے ،تنقیدی ،تجزیاتی افکار کے حوالے سے آراء کے درمیان تفاوت ہونا،کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ غرض اصطلاحی زبان میں اختلاف کو متعلقہ مضمون متن عنوان گفتگو بحث و مباحثہ علمی تنقید و تجزیہ تحقیقی تجربات شواہد مشاہدہ کے آئینے میں ایک دوسروں کی علمی سطح پر رائے کا احترام کرنا اور کھلے دل سے تحقیقی حوالوں کی بنیاد پر یا علمی شواہد کی بنیاد پر دوسرے لوگوں کی رائے اضافے مشوروں کا کھلے دل سے قبول کرنا اختلاف کہلاتا ہے۔
عداوت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لغات میں دشمنی ،اناد، خصوومت ،جھگڑا، نفرت، بیر، سازش اور مخالفت درج ہے، جس کے لیے کسی تحقیقی علمی فکری نظریاتی ادبی مذہبی علوم کی مختلف رائے کا ہونا شرط نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک جذبہ ہے جو بنیادی طور پر شر کے عناصر سے پروان چڑھ جاتا ہے۔
“Hostility is a multidimensional personality trait, the most common components of which are (1) cynicism, or the belief that others are motivated primarily by selfish concerns, and (2) mistrust, or the expectation that people are likely to be hurtful and sources of mistreatment. These traits give rise to a hostile style of interpersonal interaction that is characterized by challenge, evasion, and easily aroused irritation” (Encyclopedia of stress )
عداوت ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کے باطن میں جنم لیتی ہے۔ یہ محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ذہن کی ایک مستقل کیفیت ہے۔ غصہ وقتی جذبات کی آگ ہے اور جارحیت اس آگ کا عملی اظہار، مگر عداوت دل و دماغ میں پلنے والا وہ خیال ہے جو سوچ کے زاویوں کو مسموم کر دیتا ہے۔ عداوت زہریلا جوہر سمجھی جاتی ہے، جو آہستہ آہستہ انسان کی داخلی دنیا کو متاثر کرتی ہوئی جسم پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے اور دل کی شریانوں کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ یوں ایک منفی خیال، جو بظاہر خاموش ہوتا ہے، رفتہ رفتہ انسان کی صحت اور سکون دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ اختلافِ رائے ہمیشہ علم و حکمت کی روشنی میں پروان چڑھا۔ عہدِ رسالتؐ میں بھی بعض معاملات میں صحابۂ کرامؓ کے درمیان آراء کا فرق پیدا ہوتا تھا، مگر یہ اختلاف محبت، ادب اور اخلاص کے دائرے میں رہتا تھا۔ بعد کے ادوار میں بھی اگر کوئی مسئلہ سامنے آتا تو اہلِ علم قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے اور حق واضح ہو جانے پر اسے کشادہ دلی سے قبول کر لیتے۔تابعین اور ائمۂ مجتہدین کے درمیان فقہی مسائل میں اختلاف پایا جاتا تھا، مگر اس اختلاف کو علم کی وسعت اور فکری بالیدگی کا ذریعہ سمجھا گیا۔ اس دور میں اختلاف کو کبھی فرقہ واریت یا دشمنی کا سبب نہیں بنایا گیا بلکہ احترام اور شائستگی کے ساتھ حق کی تلاش کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔ یوں اختلافِ رائے اسلامی تہذیب میں ہمیشہ فکری ارتقا اور علمی وقار کی علامت رہا۔
دنیا کے تعلیمی نظام میں اختلاف رائے،خیالات کا مختلف ہونا اس کے علمی قد اور وقار کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔تعلیمی ادارے ایک سماج یا قوم کا ایک ایسا منبع تصور کیا جانا چاہیے جو فرد اور سماج کے درمیان علم،تربیت،تمیز،تمدن،اصلاحی قوم،انسانی فکر،سیاسی مسائل،سماجی معاملات اور رواداری کے درمیان ایک بنیادی وسیلے کے طور پر کام کرتا ہے۔عصر حاضر میں ہمارے تعلیمی ادارے ان بنیادی لوازمات،ذمہ داریوں،اصولوں سے کوسوں دور ہے۔تعلیمی اداروں میں اب اختلاف رائے پیدا کرنے اور اسے سمجھنے یا اس کو تعمیر کی روح کے طور پر قبول کرنے کے لیے اب کوئی بھی فرد بشر تیار نہیں ہے اس کے بجائے جو بھی افراد،اشخاص اختلاف رائے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں مخالفت کا سامنا رہتا ہے اور مخالفت کے وہی اصول روا ہے جنہیں علمی کتابوں میں دیکھا گیا ہے یا بیان کیا جا چکا ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمیں یہ پتہ دیتی ہے کہ اختلاف رائے سے ہی سائنسی ترقی کے امکانات ممکن ہو چکے ہیں۔اختلاف رائے کو بیان کرنے اس کو قبول کرنے اس پر عمل کرنے کی وجہ سے ہی دنیا کا سیاسی نظام مضبوط ہوا ہے ۔دنیا کا قانونی نظام دن بدن ترقی یافتہ ہوا ہے ،اگرچہ تا حال اس میں مزید اضافے ترمیم اور اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔
طبی میدان میں طبی ماہرین کے یہاں اختلاف رائے انسانی سماج،اس کی جسمانی ضرورت،اس کی نفسیاتی صحت،اس کی ذہنی حالت کے لیے بہت اہم تصور کیا جاتا ہے ،اگر طبی میدان میں دن بدن نئے خیالات تحقیقی اصول یا موجودہ علوم میں جدت پیدا نہ کی جائے تو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ کیونکہ جوں جوں طبیعت بگڑتی گئی توں توں نئی ادویات ایجاد کی گئیں ۔نئی ادویات کا ایجاد ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ طبی میدان میں نئے خیالات نئے مشوروں اور ان مشوروں کو پیش کرنے کے دوران رائے کا اختلاف ہونا فرد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے لازمی ہے۔
(رابط۔ 8825001337)
[email protected]>
������������������