پونچھ//نائب مہتمم جامعہ ضیاء العلوم پونچھ وصدر تنظیم علماء اہل سنت والجماعت پونچھ مولانا سعید احمد حبیب نے برمی مہاجرین کے ملک بدری کے حکومتی فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت کے اس فیصلہ کو انسانی اقدار کے منافی فیصلہ قراردیا اور حکومت کے اس فیصلہ کی مذمت کی اور حکومت سے اپیل کی کہ اس طرح کے فیصلوں سے عالمی سطح پر ملک کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچے گا ۔ایک بیان میںمولانا نے حکومت کے متضاد رویہ پر بھی سوال اٹھایا کہ ایک طرف تمل اور تبت کے مہاجرین کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل ہیں تو دوسری ظلم وزیادتی کا شکار برما کے مظلوموں کو دہشت گرد اور ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ قراردیا جارہا ہے جبکہ حکومت کے اپنے ریکارڈ کے مطابق کوئی ایسے شواہد نہیں ہیں جس سے اس بات کا ثبوت مل سکے کہ یہ لوگ کسی بھی طرح کے فساد یا دہشت گردی میں ملوث ہیں مگر اس کے باوجود نامعلوم وجوہات اور سیاسی منشاء کی خاطر مظلوموں کو بلی کا بکر ابنایا جارہا ہے ،حکومت کو انسانی حقوق جیسے حساس معاملات میں سیاست کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور ہندوستان کی شاندار وسیع القلبی کی روایات سے ناطہ توڑنے کے بجائے اپنی ماضی کے لامثال روایات کو جاری رکھنا چاہئے۔ مولانانے ہندوستان کی آزاد عدلیہ سے بھی اس بات کی امید کہ وہ عالمی ضابطوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئین ہند کے تحت ان مظلوم روہنگیاز کو ملک بدری سے بچائیگی ،ایسے حالات میں جبکہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے بھی برما کے مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور عالمی برادری بھی ان کی مدد کررہی ہے ایسے میں ہندوستان جیسی عظیم جمہوریت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مظلوموں کو تحفظ دے او رعالمی سطح پر اپنی شبیہ کو مزید درست کرے مولانا نے OICاور مسلم ممالک کے حکمرانوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنی خاطر خواہ ذمہ داریاں اداکرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مولانا نے کہا ظلم جہاں بھی ہو وہ قابل مذمت ہے روہنگیا مظلوموں کو فقط انسانی ہمدردی کے ناطے سے دیکھا جانا چاہئے نہ کسی رنگ ونسل کے لحاظ سے ۔مولانا نے کہاکہ جو قوم ایک صدی کے زائد کے عرصہ سے اپنے ملک اور شناخت کی تلاش میں ہیں، وہ کیسے دہشت گردی میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ مولانانے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے ذاتی اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس مظلومین کو ملک بدر نہ کریں، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بدترین ظلم ہوگا اور ہماری روایات کو اس سے شدید نقصان پہنچے گا۔