جی کیو کامران
موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ کے عالمی بحران کے سنگین دور میں شجرکاری محض ایک ضرورت نہیں بلکہ کرہ ارض کے تحفظ اور بقا کا موثر حل ہے۔شجرکاری کرہِ ارض پر موجود تمام جانداروں کو زندگی عطا کرنے کے مترادف ہے۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ درخت زمین کے محافظ اور زندگی کے پیامبر ہیں۔اسلام میں شجرکاری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ کریم میں درختوں کا تذکرہ جابجا ملتا ہے، جہاں انہیں ‘زینت الارض (زمین کی خوبصورتی) اور ربِ کائنات کی عظیم نعمت قرار دیا گیا ہے۔ احادیثِ نبویؐ اس حوالے سے ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپؐ کا ارشادِ گرامی ہے،’’جس کے پاس زمین ہو، اسے چاہیے کہ وہ اس میں درخت لگا۔‘‘ ایک اور مقام پر شجرکاری کو صدقہِ جاریہ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص درخت لگائے اور کوئی انسان یا چرند پرند اس کے پھل یا سائے سے فائدہ اٹھائے، تو وہ لگانے والے کے لیے اجر کا باعث ہے۔ یہاں تک کہ آپ ؐ نے تاکید فرمائی کہ ’’اگر قیامت برپا ہونے والی ہو اور تمہارے ہاتھ میں ایک پودا ہو، تو اسے لگانے میں دیر نہ کرو۔‘‘ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ شجرکاری صرف ایک دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت بھی ہے۔
دنیا بھر کی طرح وادیِ کشمیر میں بھی شجرکاری کی مہمات کا ایک قدیم اور حسین تسلسل موجود ہے، جہاں ہر سال 21 مارچ یعنی نوروز کے دن سے اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جاتا ہے رواں برس جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات نے ‘جنگلات کے عالمی دن کی مناسبت سے ‘جنگلات اور معیشت کے عالمی موضوع کے تحت متعدد مہمات کا انعقاد کیا۔ ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد معاشی خوشحالی کے فروغ اور پائیدار ترقی میں جنگلات کے کلیدی و تزویراتی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
جنگلات کے عالمی دن کی مناسبت سے پیر پنچال فارسٹ ڈویژن بڈگام نے دودھ گنگا فارسٹ رینج کے نیل ناگ بلاک میں ایک پروقار شجرکاری مہم اور ‘ٹری ٹاک(درختوں پر گفتگو) کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول گگجی پتھری کے طلبہ، محکمہ جنگلات کے عملے، جموں و کشمیر کلائمیٹ ایکشن گروپ اور آر ٹی آئی (RTI) تحریک کے اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کلائمیٹ ایکشن گروپ کے چیئرمین اور جموں و کشمیر آر ٹی آئی تحریک کے بانی ڈاکٹر راجہ مظفر بٹ نے وادی میں بڑھتی ہوئی خشک سالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شجرکاری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضا میں ہوا کا معیار تیزی سے گر رہا ہے اور اس سنگین صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے درخت ہی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دودھ گنگا رینج کے فارسٹ آفیسر ظہور احمد خان نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں شجرکاری مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تاکید کی تاکہ وہ مستقبل میں ‘گرین ایمبیسڈر بن کر ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
عالمی یومِ شجرکاری کی مناسبت سے محکمہ جیولوجی اینڈ مائننگ نے بھی ہریالی کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کیا۔ ڈائریکٹر سورج پرکاش رکووال نے تقریب کے دوران ملازمین کی محنت کی تعریف کی اور ‘گرین مائننگ (Green Mining) کے تصور کو تقویت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سینئر ڈرلنگ انجینئر عبدالحمید وانی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں واضح کیا کہ درختوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہی موسمیاتی تبدیلیوں کا پائیدار حل ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی پارٹی کے زیرِ اہتمام شروع کی گئی شجرکاری مہم میں سرگرمی سے شرکت کی۔ اس موقع پر پودا لگانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے شجرکاری کو ایک انسانی اور مذہبی فریضہ قرار دیا۔ محبوبہ مفتی نے مذہبی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ درخت لگانا ‘صدقہِ جاریہ ہے اور موجودہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنی مذہبی و اخلاقی اقدار کو بروئے کار لانا ہوگا۔
شجرکاری کرہِ ارض پر ہریالی اور مقامی ماحولیات کی بہتری کا ضامن ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے خلاف ایک مضبوط دفاع ہے، جو ہوا کے معیار کو بہتر بنانے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ درخت فضا سے مضرِ صحت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جو گلوبل وارمنگ اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کا قدرتی ذریعہ ہے۔ مزید برآں، درختوں کا جال نما جڑوں کا نظام مٹی کے کٹاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جس سے زمین کی سطح سے پانی کا بے جا بہاؤ رک جاتا ہے اور پانی زیرِ زمین جذب ہو کر واٹر لیول کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف سیلاب کے خطرات کو ٹالتا ہے بلکہ بخارات کے ذریعے بادل بننے میں بھی مدد دیتا ہے، جو بارشوں کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔ جنگلات جنگلی حیات کے لیے قدرتی مسکن فراہم کر کے ایک متوازن ماحولیاتی نظام (Ecosystem) تشکیل دیتے ہیں۔ ان ہی خصوصیات کی بنا پر وادیِ کشمیر کے مایہ ناز ولیِ کامل حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ (علمدارِ کشمیر) نے صدیوں پہلے جنگلات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے آفاقی قول فرمایا کہ ’’اَن پوشہ تیلہ ییلہ وَن پوشہ‘‘ یعنی اناج تبھی تک میسر رہے گا جب تک جنگلات محفوظ ہیں۔
جموں و کشمیر کا محکمہ جنگلات ہر سال مارچ کے مہینے میں ‘جموں و کشمیر گرین ڈرائیو کے زیرِ اہتمام شجرکاری کی وسیع تر مہمات کا انعقاد کرتا ہے۔ ان مہمات کا بنیادی محور وادی کے ‘ڈی گریڈڈ (متاثرہ)جنگلاتی رقبے کی بحالی اور تعلیمی و دیگر اہم اداروں میں ہریالی کو فروغ دینا ہے۔ ان مہمات کا کلیدی مقصد نہ صرف ‘گرین کور (سبزے کے رقبے) میں اضافہ کرنا ہے، بلکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھ کر کشمیر کی اس قدیم شناخت کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہے جسے دنیا زمین پر جنت کے نام سے جانتی ہے۔
اگرچہ جموں و کشمیر میں 48 فیصد جنگلاتی رقبہ قومی پالیسی کے 33 فیصد کے ہدف سے بظاہر بہتر نظر آتا ہے، لیکن یہ ہمارے جغرافیائی تقاضوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ بین الاقوامی معیارات کے مطابق پہاڑی علاقوں میں 66 فیصد رقبہ جنگلات پر محیط ہونا ضروری ہے، جس کے حصول میں ہم ابھی پیچھے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ اور بدلتے ہوئے موسمی مزاج کے پیشِ نظر، ہمیں ‘گرین مشن کے تحت بنجر زمینوں کی بحالی کو اولین ترجیح دینی ہوگی تاکہ تنزلی کا شکار زمین کے ایک ایک انچ کو ہرا بھرا بنایا جاسکے۔
جنگلات کے کٹاؤ کے اثرات آج موسموں کے بگڑتے ہوئے مزاج، غیر یقینی صورتحال، جنگلی حیات کی تباہی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کی صورت میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگا کر اس حقیقت کا ادراک کریں۔ آج جو پودے ہم لگا رہے ہیں، وہ دراصل آنے والی نسل کے لیے ایک وعدہ ہے کہ انہیں بھی وسائل کی وہی مقدار میسر ہوگی جو ہمیں حاصل تھی۔ مستقبل ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے، آئیے مل کر جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری میں شامل ہو کر زمین کو سرسبز بنائیں۔