باپ دنیا کی وہ عظیم ترین ہستی ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور ان کی راحت کے لئے ہمہ وقت کوششوں، کاوشوں اور مشقتوں میں مصروف عمل رہ کر زندگی گزارتاہے اور ضرورت پڑنے پر جان تک کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں بہتر طور پر اپنا کردار ادا کرسکے۔ پیارے مذہب اسلام میں باپ کوبڑارتبہ حاصل ہے جبکہ احادیث مبارکہ میں باپ کی ناراضگی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور باپ کی خوشنودگی کو ربّ تعالیٰ کی خوشنودگی قراردیا گیا ہے۔باپ اللہ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے، خوش نصیب اور خوش بخت ہیںوہ لوگ جنہیںیہ عظیم نعمت ابھی میسر ہے۔ باپ ایک سایہ دار شجر ہے جس کے سایہ میںبچے محفوظ ہوتے ہیں، ہر غم اور ہر ستم سے آزاد ہوتے ہیں،نہ فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کا ڈر، باپ حوصلہ ہوتا ہے اک ایسا حوصلہ جو صرف اور صرف باپ کے ہونے تک ہی ہوتا ہے۔
ہائے شومئی قسمت… آج سے تقریباً 17برس قبل 15نومبر2003،بمطابق19رمضان المبارک ،بوقت نمازِ مغرب جب میںاِس حوصلے ، اِ س سائے سے اوراِس عظیم ترین نعمت سے محروم ہوگیا۔جب مجھ بدنصیب کے سر پہ آسمان ٹوٹ پڑا ،پائوں تلے زمین کھسک گئی، یہ وہ سیاہ شام تھی جس شام نہ ہمارے لئے کوئی باقی رہا نہ ہم کسی کے لئے رہے، وہ زندگی جہاں بہاریں ہی بہاریں تھیں،وہاںاک ایسی خزاںنے ڈھیرے ڈالے کہ خوشیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روٹھ گئیں، یوںمسرتوںکی کھلکھلاتی شادمانیوںمیںمست معصوم سی زندگی پر اک ہمالہ جیسا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔وقت ِنادانی میںوالد محترم کی وفات میرے لئے ایک چیلنج بن کر سامنے آگئی۔مشکلوں، دُکھوں،مصیبتوںاور قدم قدم پر کٹھنائیوںنے اِس قدر گھیر لیا کہ اِن سے مقابلہ کئے بغیر بچ کر باہر نکل آنے کے تمام راستے بند تھے۔زندگی واقعی ایک امتحان ہوتی ہے، اِس کا مجھے شدت سے احساس ہوا،ایک طرف کٹھن حالات تو دوسری جانب معاشرے کی مصنوعی تسلیاں ،سمجھ میںنہیںآرہا تھا کہ زندگی کو کس طرح بسر کیا جائے۔ایسا لگ رہا تھا کہ بیچارگی،بے سہارگی ،مایوسی اور بے بسی جیسے اب اپنا مقدربن چکی تھیں۔موت کے فرشتے نے سر سے سایہ کیا چھین لیا تھا کہ وہ بچپن جو ہنسی، خوشی اور شرارتوں میںگزرنے کا ہوتا ہے آنسوں بہانے میںبیت گیا،ہنسی بستی زندگی پر ویرانی سی چھا گئی،چہار سو اندھیرا ہی اندھیر برپا ہوگیا،خوشیوں، مسرتوںاور محبتوںکے چمکتے دمکتے آباد گھر میںاک ختم نہ ہونے والا سناٹا چھا گیا، اک مستقل تاریکی نے اک روشن گھر کو اندھیرے میںدھکیل دیا،مقدر نے ایسا کھیل کھیلا جس کا وہم و گمان نہیںتھا، کبھی سوچا بھی نہیںتھا کہ یوںمیرے بچپن میںہی میرے سر سے سایہ اُٹھ جائیگا اور اک معصوم سی زندگی کو دنیا کی نفرتوں ، کدورتوں، رنجشوں، طعنوں اور ٹھوکروں کی زد میں گزارنا پڑے گا۔وقت نے ایسی کروٹ بدلی کہ وہ سب کچھ خود کرنا پڑا جو ایک باپ لاکھوںستم و غم اٹھا کر اپنے بچے کیلئے کرتا ہے۔میںبچپن میںضرور تھا لیکن وہ سخت لمحات جن میںمیرے والد مرحوم نے اپنی زندگی کے ایام گزارے، ایک ایک کر کے یاد ہیں۔والد محترم نے تقریباً۳۰ برس بطور ِ امام اپنی محلہ مسجد میں فرائض انجام دیئے ۔ دوران ِ امامت اُس محلہ مسجد کو آباد کرنے میں والد مرحوم نے جس قدر اذیتیںاُٹھائیں اور مشکلات کا سامنا کیا ،اُن کا ذکر کرنا محال ہے،لیکن والد مرحوم کا زندہ دلی اور دینی جذبے کیساتھ اُن اذیتوں اور مصیبتوںسے ثابت قدمی کے ساتھ گزرنا اور اللہ سے اپنا رابطہ بنائے رکھنا کا ہی صلہ ہے کہ اللہ رب العزت نے موت کے فرشتے کو والد مرحوم کی روح قبض کرنے کیلئے تب بھیجا جب وہ نماز ِ مغرب کی آخری رکعت اللہ کے حضور سجدہ ٔ ریزتھے ۔
اس میںکوئی شک نہیںکہ والدکی وفات اور اِن ہی تلخ تجربات نے مجھے دنیا میںمشکلوںسے لڑ کرجینے کا ہنرتوسکھا دیا لیکن میںوالد مرحوم کی کمی کے باعث زندگی کے کسی بھی اچھے موقع سے لطف اندوز نہیںہوسکا۔ میری خوشیاں، میری دنیا اور میرے دل کی مسکراہٹ والد صاحب کیساتھ منسلک تھی ،لیکن اُن کے جانے کے بعد تمام تر مسرتیں ، رعنائیاں کھوگئیں،سب ویران پڑگیا۔والد محترم گھرکی تمام رونقوں اور رنگینوںکواپنے ساتھ ہی لیکر گئے،تمام تر رونقیں اُنہی کے دم سے تھیں، سب پھیکا پڑ گیا، اک چمن تھا جو اُجڑ گیا۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دُکھ عابیؔ
سنا ہے باپ زندہ ہوتو کانٹے بھی نہیں چبھتے
بلا شبہ میرے والد مرحوم بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہمیں داغِ مفارقت دے گئے اور ایسا بھی نہیں کہ دنیا کا واحد انسان صرف میںہی ہوںجس کے ساتھ اس طرح کا حادثہ پیش آیا ہو ،ہرگز نہیںاِس دنیا میںایسے بہت سارے ہیںجنھوںنے معصوم سی زندگی میںاپنے والدین کوکھویا ہے ،کچھ تو ایسے بدنصیب ہیںکہ جنہیںاپنے والدین کادیدار تک میسر نہیں ہوا ہے۔لیکن سچ کہوں تو جب تک انسان پر والدین کا سایہ ہوتا ہے تب تک انسان بادشاہت کی زندگی گزارتا ہے۔انسان کتنا بھی بڑا ہوجائے لیکن اپنے والدین کے سامنے وہ ایک معصوم بچے کی مانند ہی ہوتاہے۔
جن خوش بخت لوگوںکے والدین ابھی بقید حیات ہیں،وہ اُن کی قدر کریں،اُن کی خدمت کریں،اُن کی فرمانبرداری کریں، اُنکو ہر حال میں خوش رکھیں ،اس پہلے کہ جنت کا دروازے بند ہوجائیں فائدہ اٹھا لیا جائے ،والدین کے حقوق کا خاص خیال رکھیں۔والدین کیساتھ ہر گز ہرگز قطعی کلامی نہ کریں، کیونکہ والدین کی قدر وہی جانتا ہے جو اِس مشکل دور سے گزرا ہو۔باپ وہ سایہ دار درخت ہے جس کی ٹھنڈک بھری چھاؤں میں تمام فکریں ماند رہتی ہیں۔ باپ کا وجود بیٹوں ، بیٹیوں کے لیے ایک سائبان کی حیثیت رکھتا ہے۔ باپ کی خوشی میں میرے رب کی خوشی ہے اور باپ کی ناراضگی میں رب بھی رُوٹھ جاتا ہے۔ باپ کا پیار اور شفقت عظیم نعمت ہے جس کا متبادل کوئی نہیں ہے اور باپ کی سختی کامل ذریعہ نجات ہے۔ باپ کی قُربت خوش بختی کی علامت ہے اور جدائی ایک عظیم سانحے سے کم نہیں ، باپ دوست اور دُکھ درد کا ساتھی ہے تو باپ بلا کا حوصلہ اور ہمت بھی ہے۔ باپ دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے تو بیڑے پار ہو جاتے ہیں اور اگر باپ کا دل دُکھ جائے تو خدا کا عرش ہلنے لگتا ہے اور بس اِک کہرام مچ جانے کی دیر ہوتی ہے۔
اس لئے میرے پیار بھائیو اور دوستو!جن کے باپ سلامت ہیں، اُن کا خیال رکھیں، اُن کی ہر بات کی پرواہ کریں، اُن سے دل کی باتیں کریں اُن کے دل کی باتیں سنیں۔ اُن کے سامنے نگاہیںجھکا کر بات کریں اُن کی بات کو ترجیح دیں۔ اُن کے پہناوے ، اور ضروریات کا خیال رکھیں اُنہیں کبھی شرمندہ نہ ہونے دیں۔ باپ کو یہ یقین دلائیں کہ آپکا سارے کا سارا وجود اُن کی ملکیت ہے جو اُن کے ہر حکم پر لبیک کہے گا۔ باپ کے ماتھے پر کبھی بل نہ آنے دیں بلکہ آپ اُن کی چہرے کی رونق کی وجہ بن جائیں۔جن کے والدین ابھی حیات ہیں،اللہ انہیںصحت و تندرستی سے نواز دے اور اُنہیں کامل ایمان و سلامتی نصیب فرما ۔بچوں کو اپنے والدین کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما اور جن جن کے والد یا والدین فانی دنیا سے کوچ کر گئے ہیں اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ارفع مقام نصیب فرما۔ میرے والد مرحوم کو بھی کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرما ۔( آمین ثم آمین یا رب العالمین)
9797110175,7780918848