ہلال بخاری
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
غالب مرحوم نے کیا خوب کہا تھا،یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ شعر ہمارے ہی زمانے کے لیے کہا گیا ہو، ایک ایسی دنیا کے لیے جہاں سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے ہر شے دراصل ایک کھیل، ایک تماشا بن چکی ہے۔ میرےمجھے بابا جی کہا کرتے تھے کہ جب کسی گاؤں کا چودھری بگڑ جاتا ہے تو وہ اپنی طاقت کا نشہ کسی مفلس یا شریف انسان پر اُتارتا ہے۔ اس وقت یہ بات ایک دیہاتی مثال لگتی تھی، مگر آج جب دنیا کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ گاؤں بدل گیا ہے، چودھری بدل گئے ہیں مگر مزاج وہی ہے۔ اب گاؤں کی جگہ دنیا ہے اور چودھریوں کی جگہ طاقتور ممالک۔ جب کسی بڑے ملک کا لیڈر کسی اسکینڈل میں پھنس جاتا ہے تو وہ اپنی بدنامی کو دھونے کے لیے کسی کمزور ملک پر حملہ آور ہو جاتا ہے، اور یوں معصوم انسانوں کے خون سے اپنی روسیاہی کو مٹانے کی اور اپنی سیاست کو چمکانے کی کوشش کرتا ہے۔ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جمہوریت انسان کی شعوری ترقی کا نتیجہ ہے، مگر یہ بھی ایک دلچسپ کھیل ہی معلوم ہوتا ہے۔ جب تک اقتدار اپنے ہاتھ میں ہو، جمہوریت بہترین نظام ہےاور جیسے ہی اقتدار ہاتھ سے نکلے، وہی نظام خامیوں سے بھرپور نظر آنے لگتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت خود کو نجات دہندہ اور اپنے مخالف کو تباہی کا پیامبر سمجھتی ہے۔ ہر جماعت دوسری جماعتوں کو نابود کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔ اصول بدلتے نہیں صرف ان کی تشریح بدل جاتی ہے۔مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جن قوموں نے ہمیں مساوات، انصاف اور انسانی حقوق کا سبق پڑھایا، وہی عالمی سطح پر اپنے مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ انصاف کا ترازو وہیں جھک جاتا ہے جہاں مفاد کا وزن بڑھ جائے۔ گویا اخلاقیات بھی حالات کے تابع ہو چکی ہیں۔
یہ دنیا واقعی عجیب تماشہ گاہ ہے۔ یہاں وہی لوگ امن کے علمبردار بن کر سامنے آتے ہیں جو در حقیقت جنگوں کے معمار ہوتے ہیں۔ امن کے نام پر تباہی پھیلائی جاتی ہے اور انصاف کے نام پر ناانصافی کی جاتی ہے۔ الفاظ اپنی اصل معنویت کھو چکے ہیں اور صرف نعروں تک محدود ہو گئے ہیں۔ اب تو لگتا ہے کہ یہ دنیا ایک ایسی بلا بن چکی ہے کہ جسکا نہ دل ہے نہ دماغ اور نہ روح۔ اس میں ایک عام انسان روز بروز زیادہ سے زیادہ بے بس اور لاچار بنتا جا رہا ہے اور یہ دنیا بے رحم درندے کی طرح کمزوروں کا گھلا گھونٹ دیتی ہے۔مادیت پرستی نے انسان کو اس حد تک خود غرض بنا دیا ہے کہ اب رشتے، اخوت اور انسانیت سب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ہر شخص اپنی سلامتی اور فائدے کے لیے دوسروں کو قربان کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ بھائی بھائی کا ساتھ دینے کے بجائے اسے دشمن کے حوالے کرنے میں عار محسوس نہیں کرتااور سب سے دلچسپ پہلو تو یہ ہے کہ اس دنیا کے بہت سے حکمران، جو دل سے مذہب سے دور ہوتے ہیں، مذہب کا لبادہ اوڑھ کر عوام کے سامنے آتے ہیں۔ وہ مذہب کو ایک ڈھال اور ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ سادہ لوح لوگوں کو اپنے زیرِ اثر رکھ سکیں۔ سچائی کہیں ںپیچھے رہ جاتی ہے اور دکھاوا اصل بن جاتا ہے۔ یہ ملحد ملا کا بھیس بنا کر عام آدمیوں کا خون چوستے ہیں۔جب ان تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو دل یہی گواہی دیتا ہے کہ غالبؔ نے سچ ہی کہا تھا۔ یہ دنیا واقعی ایک کھیل ہے ایک ایسا کھیل جس میں کردار سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں مگر اصل میں سب کچھ ایک ڈراما ہےاور تب انسان مسکرا کر، تھوڑے سے کرب اور تھوڑی سی بے بسی کے ساتھ یہی کہنے پر مجبور ہو جاتاہے۔یہ دنیا واقعی بازیچۂ اطفال ہے۔