راجوری//راجوری کی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے صرف دو ہفتوں کے اندر پروفیسر اکبر مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ ادارہ میں ورک کلچر کو فروغ دینے اور ملازمین کے مسائل کا ازالہ کرنے کیلئے کئی ایک اقدامات کئے گئے ہیں۔ نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر اکبر مسعود ، جنہوں نے حال ہی میں جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے تین سال کے لئے تقرری کا حکم جاری کرنے کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھال لیا تھا ،نے کہا کہ عملے کی مجموعی پیشہ ورانہ ترقی ، طلباء کے لئے بہتر سہولیات اور ورک کلچر میں بہتری ان کی ترجیحات ہیں۔وائس چانسلر نے کہا"میں کچھ مسائل سے واقف ہوں جیسے راجوری ٹاؤن اور یونیورسٹی کیمپس کے مابین مناسب آمدورفت کا مسئلہ ، عملے کے لئے مطلوبہ رہائش کا فقدان اور ہم ان بنیادی امور کو دیکھ رہے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لئے مطلوبہ کام کرنے کی امید کر رہے ہیں" ۔ انہوں نے یونیورسٹی کے طلباء، جو یونیورسٹی کی طرف جاتے ہوئے نجی بسوں کی سیڑھیاں لٹکاتے نظر آتے ہیں، کی حالت زار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا"یونیورسٹی پر مبنی ٹرانسپورٹ ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ کافی نہیں ہے اور ہم اس کا حل نکالیں گے"۔وائس چانسلر پروفیسر مسعود نے کہا کہ انہیں مناسب پراموشن پالیسی کے لئے تدریسی اور نان ٹیچنگ دونوں طرف سے ملازمین کے مطالبے کے بارے میں پتہ چل گیا ہے جس کے لئے ہم اقدامات کررہے ہیں اور جلد ہی تدریسی اور غیر تدریسی دونوں شعبوں کے لئے مناسب پراموشن پالیسی لائیں گے۔ پروفیسر مسعود نے کہا"ہم کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری درخواست پر ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی جو ایک مشق کرے گی اور اس ادارے کے اندر مناسب ترقی کی پالیسی بنانے میں ہماری مدد کرے گی۔" ورک کلچر کو اپنی ترجیح قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے ہر حصے اور محکمہ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر ٹیبل پر موجود ہر کاغذ کونپٹادیں اور کوئی بھی اہلکار کسی کاغذ کو کسی بھی جواز کے بغیر تاخیر کے موڈ میں رکھنے کیلئے جوابدہ ہوگا۔انہوں نے یونیورسٹی کے اندر ٹرانسفر پالیسی کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ اس معاملے کو دیکھیں کیونکہ داخلی منتقلی کی پالیسی ہمیشہ کام کی بہتری میں مدد کرتی ہے۔وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں غیرقانونی نوعیت کے کچھ واقعات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا"طالب علم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم ان کے والدین اور سرپرستوں کی طرح ہیں اور ہر لمحہ میں ان کیساتھ کھڑے ہوں گے لیکن ہر چیز قانون کے ماتحت رہنی چاہئے۔"انہو ں نے مزید کہا"یہ واضح ہونا چاہئے کہ کسی بھی غیر قانونی فعل کیلئے ادارے میں صفر رواداری ہوگی اور اس میں انتظامیہ سخت ہے۔" ۔