ایس معشوق احمد
اس سائنسی دور میں جہاں اے آئی(AI) نے تہلکہ مچایا ہواہے اور ہر گلے کوچے سے مصنوعی ذہانت کی بدولت ادیب پیدا ہورہے ہیں،ایسے میں کوئی نوعمر بچی اپنی حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے احساسات،جذبات اور خیالات کو کتاب شکل دے کر ہمارے سامنے لائے تو اس کی تخلیقیت ،ذہانت اور جذبے کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔میں شیبا اشرف کی بات کررہا ہوں جن کی حال ہی میں”اے مشت خاک“نامی کتاب شائع ہوئی ہے۔اس کتاب کی دو خوبیاں مجھے پسند آئی اول یہ کہ کم عمری کے باوجود مجھے شیبا کے خیالات اور نظریات میں پختگی نظر آئی۔وہ اپنی بات اعتماد سے کرتی ہے۔اگر انہوں نے مطالعہ اور مشاہدہ جاری رکھا تو قوی امید ہے کہ ان کا شمار تاریخ رقم کرنے والوں میں ہوگا۔ویسے انہوں نے چھوٹی سی عمر میں تاریخ رقم کردی ہے کیونکہ اس کی عمر کی بچیاں گڈا گڈی کے کھیل میں مصروف ہوتی ہیں لیکن شیبا نے لفظوں سے کھیل کر کتاب کا محل تعمیر کیا ہے۔اس محل میں وہ خود ملکہ ہے اور اپنی رعایا کو نصیحت آمیز باتیں سنائی رہی ہے تاکہ وہ کان لگاکر اس کی باتیں سن لے اور ان پر عمل پیرا ہوکر اپنی زندگی کو بہتر اور آخرت کو خوش تر بنا سکے۔وہ انسان کے وجود پر بھی بات کررہی ہے اور تنبیہ بھی کررہی ہے کہ خاک کو غرور نہیں کرنا چاہیے،انہوں نے دور حاضر میں انسانیت جو گراوٹ کی شکار ہے کو کیسے زندہ رکھا جاسکتا ہے پر بھی لکھا ہے اور خاک اور محبت کے علاوہ خدا کے بندے سے رشتے یعنی خدا اور محبت پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔کتاب کی دوسری خوبی یہ ہے کہ شیبا اشرف کا قرآن کریم سے رشتہ مضبوط ہے۔کتاب کا کوئی بھی مضمون آپ پڑھ لیجیے آپ کو جابجا قرآن کریم کی آیات سے واسطہ پڑے گا۔شیبا نے ان آیات کو کوٹ کرکے اپنی بات کو موثر اور باوزن بنایا ہے اور اپنا مدعا سمجھانے میں بھی وہ کسی حد تک کامیاب ہوئی ہے۔
کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے لگا کہ شیبا جو کچھ کہنا چاہ رہی ہے کہہ نہیں پاتی اور وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے بعض دفعہ کوشش کے باوجود ان کا مدعا سمجھ میں نہیں آتا۔ ظاہر ہے زبان و بیان پر اس کی گرفت مضبوط نہیں ہے اور نوعمری میں اس کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے۔اس لئے مناسب ہے میں شیبا اشرف کو ایک دو مفت مشورے دوں۔یوں تو میں مفت مشورے دینے کا قائل نہیں ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ کسی کو مشورہ دینا اپنے دشمن کو جوان کرنے کے بعد اس کے ہاتھ میں تلوار دینے کے برابر ہے۔کسی کو مفت مشورہ دینے سے دنیا میں رسوائی ہوتی ہے اور عاقبت خراب۔اس جوکھم کے باوجود میں اس بچی کو دو مشورے ضرور دوں گا۔لکھنے کے لئے ضروری ہے پڑھنا، مطالعہ کرنے سے اس بچی کے ذہن میں وسعت آئی گی اور یہ زبان کا صحیح استعمال سیکھ لے گی اور یہ سلیقہ بھی کہ ایک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے کیسے باندھا جاسکتا ہے۔دوسرا اور اہم مشورہ یہ ہے کہ شیباجلدبازی سے باز رہے۔ایک سال میں سینکڑوں کتابیں شائع ہوتی ہیں لیکن ان میں کتنی شاہکار کا درجہ پاتی ہے۔ اگر یہ بچی جلدبازی کو ترک کرے گی تو یقینا اچھا لکھنا شروع کرے گی۔ذاتی طور پر مجھے لگا کہ یہ کتاب جلدبازی میں شائع ہوئی ہے۔اگر شیبا نے یہ مضامین اپنے کسی استاد کو دکھائے ہوتے جو ان کی زبان اور خیالات کے ربط کو درست کرتا تو اغلب ہے یہ کہ اے مشت خاک کا شمارعمدہ کتابوں میں ہوتا۔جتنا ضروری بات کرنا ہے اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ بات کس سلیقے اور انداز میں کہی جائے تاکہ اثردار ہو۔ شیبا کو ابھی اصناف کی صحیح پہچان نہیں ہے۔ہر شئے کی اپنی ایک ساخت ہوتی ہے جس طرح ہم کھڑکی کو دروازہ نہیں کہہ سکتے اور دروازے کو کھڑکی، اسی طرح ہم ادبی دنیا میں مضمون کو افسانہ نہیں کہہ سکتے۔جب شیبا مضامین کا مطالعہ کرے گی تو اس کی سمجھ میں مضمون کیا ہے؟ اور اس کے لوازمات کیا ہیں؟ کی سمجھ آجائے گی اور افسانوں کا مطالعہ کرے گی تو ظاہر ہے افسانے اور مضمون کے تفاوت کو سمجھ پائے گی۔بہرکیف یہ خوش بختی کا مقام ہے کہ کانڈی وارہ ساگام کے خاک سے اٹھنے والی آواز’’اے مشت خاک‘‘سے مخاطب ہے۔بہتر ہوگا کہ اس کی آواز کو سنا جائے اور نہ صرف سنا جائے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔دعا ہے کہ اللہ رب العزت شیبا اشرف کو مزید کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازے۔
رابطہ۔8493981240
[email protected]