جی کیو کامران
زراعت ہماری معیشت کی شہ رگ اور روزگار کا بڑا وسیلہ ہے۔ جموں و کشمیر کی دو تہائی آبادی کا گزر بسر براہِ راست زراعت، باغبانی، فلوریکلچر پشو پالن، بھیڑ پالن اور ماہی گیری جیسی سرگرمیوں پر منحصر ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر، انتظامیہ اور زرعی یونیورسٹی سکاسٹ کشمیر (SKUAST-K) کسانوں کی علمی و عملی معاونت کے لیے کوشاں ہے۔ اس سلسلے کی تازہ اور سب سے اہم کڑی شالیمار کیمپس میں منعقدہ تین روزہ ’’زرعی میلہ گونگل 2026‘‘کا انعقاد ہے۔جب میں نے اپنے والد کے ہمراہ اس میلے میں شرکت کی، تو وہاں کا منظر دیکھ کر دل میں ایک غیر معمولی عزم اور ولولہ پیدا ہوا۔ اعلیٰ معیار کے بیج، نایاب پودے اور لائیو اسٹاک کی بہترین اقسام سے سجے اسٹالز محض نمائش ہی نہیں، بلکہ جدید سائنسی ترقی کا جیتا جاگتا ثبوت تھے۔ اس ہجوم اور گہما گہمی نے میرے ذہن میں ’گونگل‘کی وہ سنہری یادیں تازہ کر دیں جو کبھی کشمیر میں بوائی کے موسم کے آغاز کی مقدس علامت ہوا کرتی تھی۔روایت سے جڑا ‘گونگل محض زمین پر ہل چلانے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک تہوار کی طرح ہوتا تھا۔ مارچ کے آخری ایام، بالخصوص نوروز کے بعد جب وادی میں بہار دستک دیتی، تو کسانوں کے گھر اور کھیت کھلیان خوشیوں سے مہک اٹھتے تھے۔ روایتی لباس میں ملبوس کسان اپنے بیلوں کو لے کر کھیتوں کا رُخ کر کے زمین کے ایک مخصوص حصے پر پہلا ہل چلا کر بوائی کا باقاعدہ آغاز کرتے تھے۔ باہمی بھائی چارے اور جشن کے اس دن گھروں میں خاص پکوان تیار ہوتے تھے اور بچوں میں اخروٹ، چاول اور چینی کا تبرک نما آمیزہ اس امید کے ساتھ تقسیم کیا جاتا کہ خالقِ کائنات اس سال وافر فصل عطا فرمائے گا۔ کشمیر کی مٹی سے جڑے اس روایتی عمل کی اہمیت پر کشمیر کے عظیم صوفی بزرگ شیخ نور الدین نورانیؒ نے فرمایا ہے کہ’’یُس کَرے گُونگل سُئے کَرے کَراو‘‘ (جو محنت سے بیج بوئے گا، وہی فخر سے فصل کاٹے گا)
روایتی کاشتکاری سے جدید ‘ایگرو ٹیک فارمنگ کی جانب انقلابی سفر میں، سکاسٹ کشمیر (SKUAST-K) کا شالیمار کیمپس اب زرعی جدت اور نئی ایجادات کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے،جہاں 14 فروری 2026 کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 11ویں ایگرو ٹیک میلے کا افتتاح کیا، جس کا عنوان ’’نیکسٹ جن ایگریکلچر: میری پیداوار، میرا دام ‘‘رکھا گیا۔14 سے 16 فروری تک جاری رہنے والے اس تین روزہ میلے کا بنیادی مقصد قدیم زرعی روایات کو عصرِ حاضر کے سائنسی اور تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ ان اقدام کا مقصد کسانوں کو مٹی کی زرخیزی اور انسانی صحت کے تحفظ کے لیے ‘نامیاتی حل (Organic Solutions) فراہم کرنا اور ‘ایگری انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا تھا۔ یونیورسٹی کی اس کاوش نے کسانوں اور باغبانوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے، اور بہت سارے لوگ اب کاشتکاری اور باغبانی کو محض مشقت اور مزدوری کے بجائے ایک جدید، باوقار اور انتہائی منافع بخش تجارت کے طور پر اپنا رہے ہیں۔ایگرو ٹیک میلے گونگل 2026 کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کسان طبقے کے ساتھ حکومتِ وقت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انتظامیہ جدید ٹیکنالوجی اور نامیاتی (Organic) حل کو براہِ راست کسانوں کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور اس عظیم مقصد کے حصول میں ‘سکاسٹ کشمیر اور ‘سکاسٹ جموں جیسے تعلیمی و تحقیقی ادارے کلیدی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔افتتاحی تقریب کے فوراً بعد، وزیر اعلیٰ نے وزیر صحت و تعلیم سکینہ یتو اور وزیر زراعت جاوید احمد ڈار کے ہمراہ میلے کا معاینہ کرتے ہوئے 400 اسٹالز میں سے 100 کا تفصیلی جائزہ لیا اور وہاں موجود نوجوان ‘ایگروپرنیورز (Agropreneurs) کے ساتھ براہِ راست مخاطب ہو کر ان کے زرعی ‘اسٹارٹ اپس میں گہری دلچسپی لینے کے علاوہ ان ٹیکنالوجیز کے زمینی سطح پر مرتب ہونے والے عملی اثرات اور پائیداری کے بارے میں بھی سیر حاصل گفتگو کی۔سکاسٹ کشمیر کے وائس چانسلر، پروفیسر نذیر احمد گنائی نے 11ویں ایگرو ٹیک میلے کی تزویراتی (Strategic) اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے ‘ٹیکنالوجی کم ٹریڈکا ایک منفرد سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ عوامی دلچسپی اور شرکاء کے ریکارڈ توڑ رش کے پیشِ نظر، میلے کا دورانیہ دو دن سے بڑھا کر اس سال تین دن کر دیا گیا۔ وائس چانسلر نے ایک پرعزم اقتصادی وژن پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر کی زرعی معیشت، جو اس وقت 37 ہزار کروڑ روپے ہے، کو 2030 تک 1 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس معاشی ہدف کے حصول اور زرعی ڈھانچے کی تبدیلی میں حکومتی اقدامات، بالخصوص ‘ہولسٹک ایگریکلچر ڈویلپمنٹ پروگرام (HADP) اور ‘جے کے-سی آئی پی (JK-CIP) بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ اسکیمیں کسانوں کو روایتی کاشتکاری سے تجارتی زراعت کی طرف منتقل کرنے کے لیے نہ صرف مالی مراعات فراہم کر رہی ہیں بلکہ انہیں جدید ترین انفراسٹرکچر اور تکنیکی مدد بھی میسر کر رہی ہیں۔اس میلے کا ایک کلیدی اور اہم مقصد استحصالی ‘درمیانہ داروں (Middlemen) کے روایتی تسلط کا خاتمہ ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت ‘فارمر پروڈیوس آرگنائزیشنز (FPOs) کے قیام پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، تاکہ کسان مختلف گروہوں اور کلسٹرز کی صورت میں متحد ہو کر اپنی پیداوار خود جمع کریں۔ اس سے وہ نہ صرف اپنی پیداوار کا ‘ویلیو ایڈیشن (Value Addition) کر سکیں گے بلکہ اپنی مصنوعات کی برانڈنگ اور پیکیجنگ بھی خود سنبھالنے کے قابل ہو سکیں گے۔اس میلے کی سب سے خوش آئند بات یہ رہی کہ پہلی بار کسانوں نے اپنی محنت کے ثمرات یعنی اپنی پیداوار کی قیمت خود مقرر کر کے حقیقی معنوں میں خود کو ‘بااختیار محسوس کیا۔ اس حکمتِ عملی کا براہِ راست فائدہ یہ ہے کہ مارکیٹ کے منافع کا بڑا حصہ کسی تیسرے فریق کے پاس جانے کے بجائے براہِ راست محنت کش کاشتکار کی جیب میں پہنچ جائے گا۔
وادی میں ہائی ڈینسٹی (High-Density) باغات، بالخصوص سیب کی جدید کاشت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان نے معیاری پودوں کی مانگ میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ اس مثبت تبدیلی نے مقامی نرسری مالکان کے لیے کاروبار کے نئے اور وسیع امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ تاہم، یہ پیش رفت صرف سیب تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس میلے نے سبزیوں کی کاشت، گل بانی (Floriculture) اور ‘فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں چھپے غیر معمولی امکانات کو بھی نمایاں کیا ہے۔یونیورسٹی کے تحقیقی شعبوں اور کامیاب ‘اسٹارٹ اپس نے ایسی جدید اور قابلِ عمل ٹیکنالوجیز متعارف کرائی ہیں، جنہیں اپنا کر نوجوان اپنے لیے روزگار کے خاطر خواہ اور باوقار مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، معروف زرعی کمپنیوں کی جانب سے جدید ترین مشینری کا عملی مظاہرہ کیا گیا، جبکہ مختلف اسپانسرز کو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے ایک بہترین اور بااثر مارکیٹنگ پلیٹ فارم میسر کیا گیا۔
ایگرو ٹیک میلے ‘گنگل 2026’ کی یہ شاندار کامیابی وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی کی متحرک قیادت اور سکاسٹ کشمیر کی پوری انتظامیہ کے اجتماعی کوششوں کا ثمر ہے۔ اس عظیم الشان ٹیکنالوجی کم ٹریڈ میلے کی بہترین نظم و نسق اور کآرڈینیشن میں ڈائریکٹر ایکسٹینشن ایجوکیشن پروفیسر ریحانہ حبیب کانٹھ کا کردار انتہائی نمایاں رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر ریسرچ، تمام فیکلٹیز کے ڈینز، تھیم کآرڈینیٹرز اور یونیورسٹی کے سینئر افسران کی انتھک محنت اور باہمی اشتراک نے اس میلے کو ایک نئی بلندی عطا کی، جس کے نتیجے میں یہ محض ایک نمائش نہیں بلکہ زرعی برادری کے لیے ایک تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
سکاسٹ کشمیر کا شالیمار کیمپس ہزاروں کسانوں، باغبانوں اور پرعزم نوجوانوں کی آمد سے بھرپور گہما گہمی کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں وادی کے کونے کونے سے لوگ جوق در جوق کھچے چلے آ رہے تھے۔ یہ میلہ محض ایک نمائش تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک ایسی ‘ہائی ٹیک مارکیٹ کی شکل اختیار کر گیا جہاں جدید ترین پھلوں، سبزیوں، اناج اور لائیو اسٹاک کی سائنسی بنیادوں پر نمائش کی گئی۔ عوامی جوش و خروش اور اس بے مثال ردِ عمل نے اب ایک نئی تحریک کو جنم دیا ہے۔ عوامی حلقوں میں اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ان میلوں کا دائرہ کار ضلعی سطح تک پھیلایا جائے تاکہ دور دراز کے کسانوں کو نہ صرف شرکت کرنے میں آسانی ہو، بلکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی ان کی دہلیز تک پہنچ سکے اور مقامی سطح پر زرعی شعبوں کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق استوار کیا جا سکے۔