احمد ایاز
کشمیر، جو صدیوں سے اپنی زرخیز زمین، وافر پانی اور زرعی خود کفالت کے لیے جانا جاتا رہا ہے، آج ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ترقی کے نام پر کیے جا رہے غلط فیصلے اس کی بنیادوں کو خاموشی سے کمزور کر رہے ہیں۔ خصوصاً دھان کی کاشتکاری میں مسلسل کمی اور آبی اوّل زرعی زمین کو تعمیرات کے لیے استعمال کرنا ایک ایسا بحران ہے جو بظاہر نمایاں نہیں، مگر اس کے اثرات نہایت گہرے، دیرپا اور تباہ کن ہیں۔
دھان صرف ایک فصل نہیں، تہذیب کا حصہ:
کشمیر میں دھان محض ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ خوراک، معیشت اور تہذیبی شناخت کا لازمی جز رہا ہے۔ دیہی معیشت کا بڑا حصہ دھان کی کاشت پر انحصار کرتا رہا ہے، جس نے نہ صرف مقامی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کو باعزت روزگار بھی فراہم کیا۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ دھان کے کھیت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ کنکریٹ کے بے روح جنگل اُگتے جا رہے ہیں۔
آبی اوّل زرعی زمین کی اہمیت:
آبی اوّل زمین وہ زرعی رقبہ ہوتا ہے جو قدرتی طور پر دھان جیسی فصل کے لیے نہایت موزوں ہوتا ہے۔ اس زمین کی بنیادی خصوصیات میں پانی کو روکنے کی صلاحیت، قدرتی زرخیزی اور مستقل پیداوار شامل ہیں۔ ایسی زمین صدیوں میں تشکیل پاتی ہے، مگر بدقسمتی سے چند ہی دنوں میں رہائشی کالونیوں، تجارتی مراکز اور سڑکوں کی نذر ہو جاتی ہے۔
ایک بار جب آبی اوّل زمین پر تعمیرات ہو جائیں تو وہ زمین ہمیشہ کے لیے زرعی استعمال سے خارج ہو جاتی ہے۔ یہ صرف موجودہ نسل کا نقصان نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حق پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔
تعمیرات کا بے لگام رجحان:
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کشمیر میں تعمیرات کا رجحان غیر معمولی حد تک بڑھا ہے۔ آبادی میں اضافہ، دیہی علاقوں میں شہری طرزِ زندگی کا پھیلاؤ اور زمین کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ—ان سب عوامل نے زرعی زمین کو سب سے آسان ہدف بنا دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ زیادہ تر تعمیرات آبی اوّل زرعی زمین پر ہی کی جا رہی ہیں کیونکہ یہ زمین ہموار، نسبتاً سستی اور آسانی سے دستیاب ہوتی ہے۔یہ رجحان نہ صرف غیر سائنسی ہے بلکہ غیر اخلاقی بھی، کیونکہ ترقی کے نام پر خوراک کی بنیاد کو دانستہ کمزور کیا جا رہا ہے۔
غذائی خود کفالت کو لاحق خطرات:
دھان کی کاشت میں کمی کا سب سے بڑا اور براہِ راست اثر غذائی خود کفالت پر پڑ رہا ہے۔ آج کشمیر اپنی بنیادی غذائی ضرورت کا بڑا حصہ بیرونی ریاستوں سے حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال، قدرتی آفت یا سڑکوں کی بندش کی صورت میں یہی انحصار ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ایک ایسا خطہ جو کبھی اپنی خوراک خود پیدا کرتا تھا، آج درآمد شدہ اناج پر انحصار کر رہا ہے،یہ صورتحال کسی بھی ذمہ دار حکومت اور معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے۔
ماحولیاتی توازن کی بربادی:
دھان کی کاشت صرف خوراک کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ یہ ماحولیاتی توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دھان کے کھیت قدرتی واٹر ریزروائر کا کام کرتے ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھتے ہیں اور درجۂ حرارت میں اعتدال پیدا کرتے ہیں۔ جب ان کھیتوں کی جگہ کنکریٹ لے لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جاتی ہے، درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے اور نکاسیٔ آب کا قدرتی نظام متاثر ہو جاتا ہے۔سری نگر اور دیگر شہری علاقوں میں حالیہ برسوں کے دوران پانی جمع ہونے اور سیلابی صورتحال کے واقعات اسی بے منصوبہ تعمیراتی رجحان کا واضح نتیجہ ہیں۔
معاشی اثرات:دھان کی کاشتکاری میں کمی اور آبی اوّل زرعی زمین کے تیز رفتار خاتمے کے اثرات صرف ماحول یا خوراک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ کشمیر کی مجموعی معیشت کو بھی خاموشی سے کمزور کر رہے ہیں۔ زرعت کسی بھی خطے کی معیشت کی بنیاد ہوتی ہے، اور جب یہی بنیاد متاثر ہو تو اس کے اثرات ہر شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
سب سے پہلا معاشی نقصان مقامی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت اور عوام دونوں کو بیرونی منڈیوں سے اناج خریدنا پڑتا ہے۔ اس سے سرکاری وسائل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور وہ سرمایہ جو مقامی زرعت، روزگار اور ترقی پر خرچ ہو سکتا تھا، باہر منتقل ہو جاتا ہے۔دوسرا بڑا نقصان دیہی روزگار کے سکڑاؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ دھان کی کاشت سے وابستہ کسانوں کے ساتھ ساتھ زرعی مزدور، بیج فروش، ٹرانسپورٹر اور دیگر معاون شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجتاً دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف ہجرت بڑھتی ہے، جس سے شہری انفراسٹرکچر پر دباؤ اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔زرعی زمین کو تعمیرات میں تبدیل کرنا وقتی طور پر رئیل اسٹیٹ کے منافع کا ذریعہ تو بن جاتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ غیر پیداواری اور غیر پائیدار سرمایہ کاری ثابت ہوتی ہے۔ کھیت ہر سال پیداوار دیتے ہیں، جبکہ کنکریٹ کی عمارتیں معیشت میں مستقل قدر پیدا نہیں کرتیں۔
کسان سب سے زیادہ متاثرہ فریق:
زرعی زمین کے خاتمے کا سب سے بڑا اور براہِ راست نقصان کسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بظاہر زمین بیچ کر حاصل ہونے والی رقم وقتی سہولت فراہم کرتی ہے، مگر جلد ہی یہ رقم ختم ہو جاتی ہے اور کسان کے پاس نہ زمین بچتی ہے اور نہ مستقل ذریعۂ معاش۔یوں ایک خود کفیل کسان آہستہ آہستہ مزدور یا بے روزگار بن جاتا ہے، جو دیہی سماج کو کمزور اور غربت کو مزید گہرا کرتا ہے۔
قوانین موجود، مگر عملدرآمد ناپید:
جموں و کشمیر میں زرعی زمین کے تحفظ سے متعلق قوانین موجود ہیں، جن میں آبی اوّل زمین کو غیر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر واضح پابندیاں شامل ہیں۔ مگر اصل مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ عملدرآمد کی کمی ہے۔کمزور نگرانی، سیاسی دباؤ، بدعنوانی اور انتظامی بے حسی نے ان قوانین کو محض کاغذی کارروائی بنا کر رکھ دیا ہے۔ نتیجتاً آبی اوّل زمین روزانہ کی بنیاد پر خاموشی سے ختم ہو رہی ہے۔
ترقی کا غلط اور محدود تصور:
ترقی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کھیتوں کو ختم کر کے عمارتیں کھڑی کی جائیں۔ حقیقی اور پائیدار ترقی وہی ہے جو زرعت، ماحول اور انسانی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں ترقی کو صرف سڑکوں، عمارتوں اور ہاؤسنگ کالونیوں تک محدود کر دیا گیا ہے—اور یہی سوچ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
ممکنہ حل اور آگے کا راستہ: اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ آبی اوّل زرعی زمین کو ناقابلِ تبدیل قرار دے کر اس پر ہر قسم کی تعمیرات پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ دھان کی کاشت کو سرکاری سرپرستی فراہم کی جائے، جس میں سبسڈی، معیاری بیج اور جدید آبپاشی سہولیات شامل ہوں۔ زمین کے استعمال سے متعلق قوانین پر سخت، شفاف اور غیر جانبدار عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ کسان کو زمین بیچنے پر مجبور کرنے والے معاشی دباؤ کو کم کیا جائے اور عوام میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ زرعی زمین کا تحفظ دراصل ان کے اپنے مستقبل کا تحفظ ہے۔
نتیجہ :کشمیر میں دھان کی کاشتکاری میں کمی اور آبی اوّل زرعی زمین پر بے لگام تعمیرات کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وجودی خطرہ ہے۔ اگر آج اس پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو کل پچھتانے کے سوا کچھ باقی نہیں بچے گا۔اب بھی وقت ہے کہ ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کیا جائے، ورنہ کنکریٹ کے یہ جنگل ہمیں خوراک، ماحول، معیشت اور شناخت سب سے محروم کر دیں گے۔