لکھن پور میں بندشوںکی وجہ سے 40 فیصدکاروبار ختم ہوا،اب تو بس کریں: ارون گپتا
جموں // حکومت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (سی سی آئی) جموں نے پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کی تجویز کی شدید مخالفت کی۔ سی سی آئی جموں کے نومنتخب صدر ارون گپتا نے کہا’’ہم پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کی اجازت نہیں دیں گے۔ بس اسٹینڈ پارکنگ کے افتتاح کے ساتھ ہی پراپرٹی ٹیکس لگانے کے اشارے ملے۔ تاہم ، ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں ‘‘۔گپتا پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد قائم تمام کاروبار چھ ماہ تک بند رہا اور پھر کوڈ 19 کے سبب کاروبار مزید 4 ماہ تک بند رہا۔گپتا نے کہا’’آج تک لکھن پور (کٹھوعہ) کو ریڈ زون کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے جو متعلقہ حکومتوں کے منظور کردہ ملک گیر اصولوں کے منافی ہے۔ جہاں تک ، بین ریاستوں کی بس خدمات کا تعلق ہے ، لکھن پور میں انہیں اجازت نہیں دی جارہی ہے اور مسافروں کو ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے "۔انہوں نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے بلاجواز ہے جن کا کاروبار مہینوں سے بند رہا اور اب ان پر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ سی سی آئی جموں کے صدر نے کہا "بجائے اس کے کہ حکومت کو کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اقدامات کرنے چاہئے تھے"۔انہوں نے کہا ’’ ہم جموں کی آواز ہیں اور ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کریں۔ پراپرٹی ٹیکس لگانے سے پہلے آپ کو سٹیک ہولڈرز سے بات کرنی چاہئے تھی۔ لیکن ان سے کسی نے بات نہیں کی‘‘۔انہوں نے کہا کہ "بہت سارے لوگ معاشی حالات خراب ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کی سکول فیس ادا کرنے کی بھی حالت میں نہیں ہیں"۔ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا "پہلے ہی ملک کی جن دیگر ریاستوں میں پراپرٹی ٹیکس عائد کیا گیا ہے ، وہاں کی متعلقہ حکومتیں اس کو کم کرنے کی سوچ رہی ہیں اور اس کے برعکس جموں و کشمیر میں اس ٹیکس کو لاگو کرنے کی تیاری ہورہی ہے"۔اُن کا مزید کہناتھا’’چالیس فیصد کاروبارکاانحصار مذہبی سیاحت پر ہے جس کی وجہ سے ہمارے ہوٹل کی صنعت پریشانی کا شکار ہے۔ لہٰذا لکھن پور کو گرین زون قرار دینے کے بعد آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دے کر اس کو کھلا چھوڑ دیا جانا چاہئے‘‘۔