حرف بہ حرف
عشار عبداللہ
زبان انسان کی سب سے بنیادی اور اہم ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ انسان اپنے خیالات، احساسات، تجربات اور مشاہدات کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے زبان کا سہارا لیتا ہے۔ انسانی تہذیب کی ترقی میں زبان نے نہایت بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ابتدا میں انسان صرف بول کر اپنی بات دوسروں تک پہنچاتا تھا، لیکن جیسے جیسے انسانی معاشرہ ترقی کرتا گیا، اسے اس بات کا احساس ہوا کہ خیالات اور معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک مستقل نظام کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے نتیجے میں تحریر کا نظام وجود میں آیا اور انسان نے آوازوں کو علامتوں کے ذریعے لکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ اس طرح ہر زبان کے ساتھ ایک مخصوص تحریری نظام یا رسم الخط بھی پیدا ہوا جو اس زبان کی آوازوں کو تحریری شکل دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔
رسم الخط دراصل علامات اور حروف کا وہ نظام ہے، جس کے ذریعے زبان کی صوتی اکائیوں کو تحریری صورت دی جاتی ہے۔ جب ہم بولتے ہیں تو مختلف آوازیں پیدا ہوتی ہیں اور جب ہم لکھتے ہیں تو انہی آوازوں کو حروف کی شکل میں کاغذ یا کسی اور سطح پر منتقل کرتے ہیں۔ اس طرح تحریر دراصل زبان کی آوازوں کی بصری نمائندگی ہوتی ہے۔ دنیا کی مختلف زبانوں کے مختلف رسم الخط ہیں اور ہر رسم الخط اپنی تاریخی، تہذیبی اور لسانی روایات کا عکاس ہوتا ہے۔
اردو زبان کا رسم الخط بھی ایک طویل تاریخی عمل کے نتیجے میں تشکیل پایا ہے۔ یہ رسم الخط بنیادی طور پر عربی اور فارسی رسم الخط سے ماخوذ ہے اور اسی وجہ سے اس میں عربی اور فارسی کے بہت سے حروف شامل ہیں۔ اردو زبان برصغیر میں مختلف تہذیبوں، زبانوں اور ثقافتوں کے باہمی میل جول سے وجود میں آئی۔ اس میں عربی، فارسی، ترکی اور مقامی ہند آریائی زبانوں کے الفاظ شامل ہوئے۔ چنانچہ اردو کا رسم الخط بھی اسی لسانی اور تہذیبی تعامل کا نتیجہ ہے۔
جب کوئی طالب علم اردو زبان سیکھنا شروع کرتا ہے تو اسے جلد ہی ایک اہم اور دلچسپ حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ اردو میں بعض ایسے حروف موجود ہیں جن کی آواز عام بول چال میں تقریباً ایک جیسی محسوس ہوتی ہے، لیکن لکھنے میں ان کے لیے مختلف حروف استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے عام طور پر’’ہم آواز حروف‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ صورت حال اکثر نئے سیکھنے والوں کے لیے الجھن پیدا کرتی ہے کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ جب آواز ایک جیسی ہے تو پھر مختلف حروف کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔یہ سوال بظاہر نہایت سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے پس منظر میں زبان کی تاریخ، صوتیات اور لسانیات کے کئی اہم پہلو موجود ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اردو زبان کے چند ایسے حروف کا جائزہ لیں جن کی آوازیں عام بول چال میں ایک جیسی محسوس ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر اردو زبان میں ’ز‘،’ ذ‘،’ ض‘ اور’ ظ‘ چار الگ الگ حروف ہیں۔ اگرچہ ان کے تلفظ کی اصل صورت عربی زبان میں مختلف ہے، لیکن اردو کی عام گفتگو میں یہ اکثر ایک ہی آواز یعنی’ز‘ کے طور پر ادا کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ جب ہم الفاظ جیسے زبان، زمین اور زمانہ پڑھتے ہیں تو ان میں حرف’ز‘ استعمال ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض الفاظ میں حرف’ذ‘ استعمال ہوتا ہے جیسے ذکر، ذہن اور غذا۔ بعض الفاظ میں حرف ’ض‘ آتا ہے جیسے ضرورت اور ضمانت، جبکہ بعض الفاظ میں حرف’ظ‘ استعمال ہوتا ہے جیسے ظلم اور ظرف۔اگر ہم ان تمام الفاظ کو بلند آواز سے پڑھیں تو ہمیں عموماً ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو سیکھنے والے طلبہ کے لیے ان حروف کے درمیان املا کا فرق یاد رکھنا کبھی کبھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اردو میں ایک اور گروہ ایسے حروف کا ہے جن کی آوازیں عام طور پر’س‘ کی طرح سنائی دیتی ہیں۔ ان میں’ س‘،’ ص‘ اور’ ث‘ شامل ہیں۔ مثال کے طور پر سلام، سوال اور سامان میں حرف’س‘ استعمال ہوتا ہے، جبکہ صبر، صدق اور صورت میں’ص‘ آتا ہے اور ثواب اور ثابت جیسے الفاظ میں’ث‘ استعمال ہوتا ہے۔ان الفاظ کو بولنے کے دوران عام طور پر ان حروف کی آوازوں میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا، لیکن تحریر میں ان کا فرق برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اردو سیکھنے والے طلبہ کے لیے املا کے حوالے سے ایک خاص چیلنج پیدا کرتی ہے۔انہیں یہ یاد رکھنا پڑتا ہے کہ کون سا لفظ کس حرف کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔
یہاں سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زبان کو آسان بنانے کے لیے ان ہم آواز حروف کو کم نہیں کیا جا سکتا؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ایک ہی آواز کے لیے صرف ایک ہی حرف استعمال کیا جائے تو زبان سیکھنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر’ذکر‘ کو ’زکر‘ اور’ظلم‘ کو’زلم‘ لکھ دیا جائے تو بولنے میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر’صبر‘ کو ’سبر‘ اور’ثواب‘ کو’سواب‘ لکھ دیا جائے تو معنی میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔بظاہر یہ خیال کافی معقول محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس طرح حروف کی تعداد کم ہو جائے گی اور طلبہ کے لیے املا سیکھنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن جب ہم اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زبان کا نظام صرف سادگی کے اصول پر قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی اور تہذیبی پس منظر بھی موجود ہوتا ہے۔
اردو زبان دراصل مختلف زبانوں کے باہمی تعامل سے تشکیل پائی ہے۔ اس میں عربی اور فارسی زبانوں کا اثر خاص طور پر نمایاں ہے۔ عربی زبان میں ذ، ض اور ظ کی الگ الگ آوازیں ہوتی ہیں اور عربی بولنے والے لوگ ان حروف کو واضح طور پر مختلف انداز میں ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر عربی میں’ذ‘ کی آواز کسی حد تک انگریزی کے لفظ this میں آنے والی’th‘ کی آواز سے ملتی جلتی ہے۔جب عربی کے الفاظ اردو زبان میں شامل ہوئے تو وقت کے ساتھ ان کے تلفظ میں تبدیلی آتی گئی۔ اردو بولنے والوں نے ان آوازوں کو نسبتاً آسان بنا دیا اور اکثر انہیں ایک ہی آواز کے طور پر ادا کرنے لگے۔ تاہم ان الفاظ کی اصل املا کو تبدیل نہیں کیا گیا کیونکہ وہ اپنی اصل زبان کی یادگار کے طور پر برقرار رہی۔ اسی وجہ سے آج اردو میں ہمیں ایسے مختلف حروف نظر آتے ہیں جن کی آوازیں عام بول چال میں ایک جیسی محسوس ہوتی ہیں۔اس صورت حال کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ ہم کسی لفظ کو دیکھ کر اکثر اس کی اصل زبان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جن الفاظ میں ذ، ص یا ض آتا ہے وہ عموماً عربی زبان سے ماخوذ ہوتے ہیں، جبکہ بہت سے ایسے الفاظ جن میں صرف ’ز‘ استعمال ہوتا ہے وہ فارسی یا مقامی زبانوں سے آئے ہوتے ہیں۔ اس طرح اردو کا رسم الخط نہ صرف زبان کو لکھنے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ زبان کی تاریخ اور اس کے تہذیبی روابط کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
اردو ادب کی روایت بھی اس مسئلے کو ایک اور اہم جہت فراہم کرتی ہے۔ اردو میں کئی صدیوں سے شاعری اور نثر تخلیق کی جا رہی ہے۔ بڑے شعرا جیسے میر تقی میر، مرزا غالب، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کی تخلیقات اسی رسم الخط میں محفوظ ہیں۔ اگر رسم الخط میں بنیادی تبدیلیاں کر دی جائیں تو ان قدیم متون کو پڑھنا اور سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے زبانوں میں رسم الخط کی بڑی تبدیلیاں عموماً بہت احتیاط سے اور طویل عرصے میں کی جاتی ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا کی بہت سی زبانوں میں اس طرح کے مسائل موجود ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی زبان میں بھی بہت سے ایسے الفاظ ہیں جن کے ہجے اور تلفظ میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ بعض الفاظ میں ایسے حروف بھی شامل ہوتے ہیں جو بولنے میں سنائی نہیں دیتے لیکن پھر بھی انہیں لکھا جاتا ہے کیونکہ وہ زبان کی تاریخی روایت کا حصہ بن چکے ہیں۔
اردو رسم الخط کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف ایک تحریری نظام نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور ثقافتی علامت بھی ہے۔ یہ عربی اور فارسی تہذیبوں کے ساتھ اردو کے تاریخی تعلق کو ظاہر کرتا ہے اور برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے ماہرین لسانیات اور ادیب اردو رسم الخط کو محض ایک عملی نظام نہیں بلکہ ایک قیمتی ثقافتی ورثہ بھی سمجھتے ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اردو سیکھنے والے طلبہ کے لیے ہم آواز حروف کبھی کبھی مشکل پیدا کرتے ہیں۔ اس مشکل پر قابو پانے کے لیے مسلسل مطالعہ اور مشق نہایت ضروری ہے۔ جب طلبہ زیادہ پڑھتے اور لکھتے ہیں تو آہستہ آہستہ انہیں یہ یاد ہو جاتا ہے کہ کون سا لفظ کس حرف کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔اساتذہ بھی اس عمل میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر اساتذہ مثالوں، مشقوں اور وضاحت کے ذریعے طلبہ کو یہ فرق سمجھائیں تو املا سیکھنے کا عمل زیادہ آسان اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ تدریسی طریقوں میں بھی اگر لسانی شعور پیدا کرنے پر توجہ دی جائے تو طلبہ نہ صرف املا بہتر طور پر سیکھ سکتے ہیں بلکہ زبان کی تاریخی اور ثقافتی جہتوں کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو میں موجود ہم آواز حروف بظاہر ایک عملی مشکل ضرور پیدا کرتے ہیں، لیکن یہی حروف زبان کی تاریخ، روایت اور تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ زبان صرف سادگی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طویل تاریخی سفر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اردو رسم الخط اسی تاریخی اور تہذیبی سفر کی ایک خوبصورت مثال ہے اور یہی خصوصیت اسے ایک منفرد اور دلکش زبان بناتی ہے۔
(رابطہ۔7006347399)
[email protected]
�����������������