اکابر ِعلماء کرام سےایک طالب علم کی گذارش

محمد زبیر وانی ندوی

ہم سبھی اس بات سے واقف ہیںکہ اُمت ِ مسلمہ کے علمائے کرام وارثِ نبی ہیں ۔کیونکہ نبی آخر الزماںصلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے ساتھ ہی رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہےاوراب پیغام ِنبوت و رسالت کی عظیم ذمہ داری اہلِ علم یعنی علمائے کرام کے ذمہ ہیں کہ وہ من و عن نبویؐ پیغامات ،احکامات و ہدایات اس کراہتی ہوئی انسانیت تک عدل و انصاف اور محبت و شفقت کے ساتھ پہنچائیں تاکہ موجودہ پُر فتن دور میںمعاشرہ و ملت، منافرت ،خرافات ،بدعات ،حسد وبغض ،باہمی عدم رواداری ،ایک دوسرے کی مخالفت ،بے زاری ،دین سے دوری،مادیت پرستی ، جھگڑوںاور دیگر بُرائیوں سے محفوط رہ سکیں۔خاص طور ہماری وہ نوجوان نسل جو اسلام کے بنیادی احکامات سےدور ہوئی ہے، نہ صرف خود فتنوں کا شکار ہوچکی ہے بلکہ دوسروں کو بھی نِت نئےفتنوں میں مبتلا کردیتی ہے۔
محترم علمائے کرام !چند برسوں سے جموں و کشمیر بالعموم اور وادی کشمیر میں بالخصوص کچھ ایسے نوجوانوں کے ہاتھوں میںمنبر و محراب سونپے گئے ہیں، جو خود کو علماء میں گردانتے ہیں اور وہ اُن مدارس اسلامیہ کے فارغین ہیں جو کبھی اسلام کے قلعے ہوا کرتے تھے ،جن کی نسبت دنیا کے عظیم علمی دانش گاہ ’’صفہ نبوی‘‘ سے کی جاتی ہیں،لیکن ان فارغ التحصیل طلبا کے فکر و ذکر اورانداز بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنہیں نبوی تعلیم و تربیت کی ہَوا تک نہ لگی ہے ۔ایسے میں تمام مکاتب فکر کے اکابرین و علمائے کرام سے یہ سوال نہیںکیا جاسکتا ہے کہ اُن کی سرپرستی میں ایسے نافہم طلبا کیسےاور کیونکر بازاروں میںلائےجاتے ہیں، جو اسلام کے اعلیٰ تعلیم و تربیت پر ایک بد نما داغ بن رہے ہیں،جن کےطرز ِ فکر،انداز ِبیان ،طرز ِاستدلال اورغیر شائستہ رویے سراسر اسلام کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کےبالکل برعکس ہیں ۔جس کے نتیجے میں جہاں مسلم معاشرہ میں بے چینی،باہمی رسہ کشی ،کشیدگی اور عدم رواداری پیدا ہورہی ہےوہیں غیرمسلموں کو نہ صرف اسلام اور اُمت ِمسلمہ پر، بلکہ پیغمبر آخر الزماںؐ کے تعلیمات ،احکامات و ہدایات ساتھ ساتھ وارثِ انبیاء کی تعلیم و تعلم اوراقدار و اخلاقیات پر طنز کسنے ، مذاق اڑانے اور من گھڑت باتیںسُنانے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔
بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہترین مربی اور معلمِ اخلاق تھے۔شخصیت کی تعمیر اور ذات کی تربیت کے سلسلے میں آپؐ کا اسلوب ہر زمانے کے لئے بہترین نمونہ ہے ۔اُس نمونے کا ہر زاویہ اپنے اندر سیکھنے کا سامان رکھتا ہے ۔ایسے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ چند دعائیں یاد آتی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثالی شخصیت بنانے کے لئے سکھائی ہیں، خاص کر اُن وارثِ انبیاء کے لئے جو دین اسلام کے داعی ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا یہ تھی۔’’اللهم إني أسألك الهدي والتقي والعفاف والغنى‘‘(ترجمہ)’’اے اللہ میں تجھ سے ہدایت، پرہیز گاری، پاک دامنی اور بے نیازی مانگتا ہوں ‘‘ (صحیح مسلم)معلوم ہوا کہ یہ چار چیزیں وہ ہیں، جو مثالی شخصیت کی تعمیر میں بہت اہم رول ادا کرتی ہیں ۔
ظاہر ہے کہ ایک داعی و مبلغ کے لئے اسلام کی تعلیمات میں تربیت کے نہایت ہی قیمتی نسخے رکھ دئے گئے ہیں ۔اسلام کی ان تعلیمات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل جو نام نہاد مبلغین کا رویہ روز بروز منبر و محراب پر عیاں ہورہا ہے ،اُس کا اسلام کی اِن تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ہے ۔جبکہ یہ نام نہاد مبلغین صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی شہرت بٹورنے میں مصروف رہتے ہیںاور سادہ لوح عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔دوسرے مکاتب فکر کو برداشت ہی نہیں کیا جاتا بلکہ اسلاف پر کیچڑ اُچھالی جاتی ہے ۔کیایہ بھی قربِ قیامت کی نشانی ہے کہ پچھلے لوگ اسلاف کی طعن و تشنیع کریں گے ۔بقول مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب حفظہ اللہ ’’ اسلام میں پچانوے فیصد مسائل متفق علیہ ہے ،صرف پانچ فیصد مختلف فیہ ہیں ‘‘تو کیا ہم پچانوے فیصد مسائل سے عام سادہ لوح مسلمانوں کو آگاہ کرچکے ہیں کہ مختلف فیہ مسائل ہی پر پوری توجہ مرکوز رکھی جائے۔جبکہ عام مسلمان ایسے نام نہاد علماء کی فتنہ اندزیوںسے تنگ آچکے ہیں ۔غیر مسلم اس کا خوب فائدہ اٹھا رہے ہیںلیکن ہمارے یہ نام نہاد علما ٹس سے مس نہیں ہوتے اور اکابر علماء کرام صرف مذمتی بیان جاری کرکے اس فتنے سے بری الزمہ ہوجاتے ہیں۔ منبر و محراب پر یہ نام نہاد کم علم علماء نوجوانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتےجارہے ہیں۔اور اُن کے سامنے بس یہی سب کچھ فلسفۂ دعوتِ دین رہ گیا ہے۔دوسری جانب ایسے نوجوانوں کی کھیپ بھی تیار کی جاتی ہے کہ جو برسر عام ایک دوسرے مکتب فکر کے تمام علماء پر بلا جُجھک تکفیری و تفسیقی فتوے دیتے جارہےہیں ۔
میں ایک ناچیز طالب علم تمام مکاتب فکر کے معزز اکابر علماء کرام اور ذمہ دار علماء کرام سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ مدارس کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی جائے اوراپنے اپنےمکاتب کے طلبا کودوسرے مکاتب فکرسے منسلک طلبا کے تئیںمحبت و شفقت کے ساتھ پیش آنےکا درس دیجئے، نہ کہ وہ دوسروں کو نفرت آمیز القابات سے نوازیں۔اکابر ِعلمائے کرام کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نام نہاد مولویوں کی حوصلہ شکنی کریں ،ورنہ ان کےبُرے عزائم مستحکم ہوتے جائیں گے ۔صرف یہ کہنا کہ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ،کافی نہیں ہےبلکہ عملی طور پر اکابر علماء کرام کو ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ایسے مولویوں کو سختی کے ساتھ روکنے کی کوشش ہونی چاہئے اور اکابر علماء کرام کو دوسرے مکتب فکر کے اجتماعات میں شمولیت اور ان کے نام ادب و احترام سے لینے کا رواج بنانا چاہئے ۔ایک دوسرے کے مدارس اور نیک کاموںکی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔ایک دوسرے کی مساجد میں نماز ادا کرنے اور مل جُل کر مشترکہ پروگرام تشکیل دینےمیں بھی مثبت رول ادا کرنا چاہئے ۔اس طرح آنے والی نسل کے اندر دوسرے مکاتب فکر کا احترام ملحوظ رہے گا اور عوام ایک بڑے فتنے سے محفوظ رہے گی ۔
بے شک آپ کے شاگرد علمی اعتبار سے آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔اورہم سب کی فکر آخرت کی کامیابی پر ہے تومدارس کی تعلیم و تربیت علماء کرام کا سب سے عظیم صدقہ جاریہ ہے، جس کو حدیث میں علم نافع سے تعبیر کیا گیا ہے ۔اس لئے اس صدقہ جاریہ پر پوری توجہ مرکوز رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔
اللہ نہ کرے ،کہیں یہ شاگرد اپنےعلماء کرام کے لئے کل قیامت کے روز اُلٹے ثابت ہوں۔اگر یہ آج قابو میں نہیں آتے تو آپ کے بعد ایسے نااہل شاگردوں سے کیا اُمید رکھی جاسکتی ہے ۔سوشل میڈیا مکمل طور علماء کرام کے لئے باعث مذاق بن چکا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح مذمتی بیان آئےہیں، اُسی طرح یہ علم و معرفت سے نابلد مبلغین ،سوشل میڈیا پر اپنے اکابر علماء کرام کے حکم پر عوام الناس سے اُمت کے انتشار ،بداخلاقی اور تکفیری فتووں پر معافی مانگیںاور آئندہ کے لیے توبہ کریں،تاکہ آئندہ مساجد کا تقدس و احترام ملحوظ رہے ۔لیکن یہ تب ہوگا جب اس سلسلے میں تمام مکاتب فکر کے علماء اکابرین خصوصا ًجو ایسے فروعات میں دلچسپی لیتے ہیں ۔ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں اورباہمی گفت و شنید میں اس کا حل تلاش کریں، اُن مولویوں کی سختی کے ساتھ لگام کَسی جائے، قبل اس کے کہ اُمت خانہ جنگی کی شکار ہوجائے اور مساجد و مدارس اور اسلام کا نام بدنام ہوجائے ۔
ہم سب پر لازم ہے کہ فروعات پر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔حلال ،حرام ،رشوت ،سود،معیشت کی ترقی و تنزلی کے اسباب، جھوٹ ،ایذاء ، احترام انسانیت ، بدزبانی، بدگمانی، تجسس، غیبت، بدکاری، پردہ، حقوق نسواں، حقوق ہمسایہ، حقوق انسانیت، بدکاری، اختلاط مردوزن، شراب نوشی، وراثت کی اہمیت ، ظلم و زیادتی، فریب کاری، وعدہ خلافی، اسلام کے عدل و انصاف، احسان،سلوک،عبادات کی روح اور صحابہ کرام تابعین و تبع تابعین، ائمہ و مجتہدین، مفسرین و محدثین کے کارناموں اور خدمات کی ذکر کواپنا موضوع بنائیں۔آخر پر یہی کہنا چاہوں گا کہ علمائے کرام کی خدمت میں اِن گذارشات کولکھنے میںسہواًاگر کوئی گستاخی کا شائبہ ہو، تو اس کے لئے معافی کا طلب گار ہوں ۔
(طالب علم ۔ شگن، تحصیل کھڑی ، ضلع رام بن)