عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/اپوزیشن نے لوک سبھا میں کہا کہ خلیجی جنگ کے اثرات کے باعث ملک میں ایندھن، غذائی اجناس اور ادویات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر حکومت کو اپنی حکمت عملی واضح کرنی چاہئے۔کانگریس کے منیش تیواری نے ’’مالیاتی بل 2026‘‘ پر بحث کے دوسرے دن کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جن اندازوں کی بنیاد پر یہ بجٹ اور مالیاتی بل تیار کیا گیا ہے وہ حقیقت پسندانہ نہیں لگتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کے بحران پر اپنی تقریر میں یہ نہیں بتایا کہ ملک کو آنے والے ممکنہ بحران کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن واضح کریں کہ خلیجی جنگ کا تیل، غذائی اشیاء اور ادویات کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مغربی بنگال انتخابات کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ حکومت بازار سے جو قرض لے رہی ہے کیا وہ صرف سود کی ادائیگی کے لئے ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ بارہ برسوں میں حکومت کا قرض اور ذمہ داریاں تین گنا بڑھ گئی ہیں، اس لئے یہ بجٹ مستقبل کے ہندوستان کا عکاس نہیں ہے۔جنتا دل یونائیٹڈ کے رام پریت منڈل نے کہا کہ بہار ایک غریب ریاست ہے اور وہاں منریگا مزدوروں کو کام نہ ملنے سے ان کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 مارچ سے ہو رہی بے موسم بارش کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور آم و لیچی کی فصل بھی تباہ ہو گئی ہے، اس لئے حکومت کو فوری معاوضہ دینا چاہئے۔
سماجوادی پارٹی کے پُشپیندر سروج نے کہا کہ ملک کی معیشت کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ لوگوں کو بنیادی ضروریات کے لئے قرض لینا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض وعدوں سے ترقی ممکن نہیں بلکہ زمینی حقیقت بھی نظر آنی چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خود کفیل ہندوستان(آتم نربھربھارت) کا خواب عملی طور پر کہیں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے اُجّولا یوجنا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 14 کلو کے سلنڈر میں کم گیس مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے کسانوں کی حالت متاثر ہو سکتی ہے اور حکومت کی پالیسیاں کہیں اور سے چل رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے ’’امرت کال‘‘ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’اندھکار کال‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے خارجہ پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں رہے، جو سفارتی ناکامی کی علامت ہے اور حکومت امریکہ پر انحصار کر رہی ہے۔کانگریس کے وامسی کرشنا گڈّم نے اپنے حلقہ پڈاپلے میں زرعی یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے امیروں کو بڑے پیمانے پر رعایت دی ہے جبکہ غریبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
کانگریس کے ڈاکٹر کیرسن نام دیو نے کہا کہ ملک میں معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ملک کی تقریباً 70 فیصد غریب آبادی کے پاس بہت کم اثاثے ہیں جبکہ محض 10 فیصد سرمایہ داروں کے پاس 50 سے 60 فیصد دولت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) نہیں دی جا رہی اور ان کی معاشی حالت بہتر نہیں ہے۔سماجوادی پارٹی کی ایڈوکیٹ پریا سروج نے کہا کہ عوام پر قرض کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور بجٹ زمینی حقیقت سے پیچھے رہ گیا ہے، جس سے عام لوگوں کی زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ انہوں نے حکومت پر امریکہ کے دباؤ میں ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ یہ کہتا ہے کہ اس نے ہندوستان کو دیگر ممالک سے تیل خریدنے کی اجازت دی ہے تو یہ ہماری خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔
کانگریس کے گر جیت سنگھ اوجلا نے کہا کہ بجٹ میں کسانوں کے لئے کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سرحدی علاقوں کے غریبوں کے لئے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے بچوں کے لئے تعلیمی سہولتیں ناکافی ہیں اور انہیں بہتر تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔بی جے پی کے جگدمبیکا پال نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان وہ واحد ملک ہے جو غیر ملکی کمپنیوں کو ڈیٹا سینٹر خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس اصلاحات کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور معیشت کے مقابلے میں ٹیکس نظام میں خاطر خواہ اصلاح کی گئی ہے۔
آزاد سماج پارٹی کے چندر شیکھر نے کہا کہ حکومت معیشت کو مضبوط بتاتی ہے لیکن عوام کو ٹیکس میں کوئی راحت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مالیاتی بل میں کمزور ہوتے روپے کو سنبھالنے کے لئے کوئی ٹھوس انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے حکومت پر بدانتظامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کے وقت لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کیا گیا اور اب رسوئی گیس کے لئے بھی عوام کو لائن میں لگنا پڑ رہا ہے۔آزاد رکن راجیش رنجن عرف پپو یادو نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تعلیم، صحت اور غریبوں کے لئے رہائش پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بے روزگاروں کو کم از کم آٹھ ہزار روپے ماہانہ بے روزگاری الاؤنس دینے، کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرریاں بند کرنے اور نجی شعبے میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لئے ملازمتوں میں ریزرویشن کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بڑھاپا پنشن کو دو ہزار سے بڑھا کر تین ہزار روپے کرنے کی بھی مانگ کی۔
اپوزیشن نے خلیجی جنگ کے اثرات پر حکومت کو خبردار کیا