یاسر بشیر
موت ایک زندہ حقیقت ہے،ہر کسی انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔کسی بھی انسان کے مرنے سے اس کے احباب و اقارب کو دُکھ ہوتا ہے،مگر کوئی شخصیت ایسی بھی ہوتی ہے جس کے مرنے سے ایک قوم،ایک ملت کو دُکھ ہوتا ہے۔اِن ہی شخصیات میں سے مولانا سید جلال الدین عمری کی شخصیت بھی قابل ذکر ہے۔ان کا انتقال 26 اگست 2022 رات کے 8:30 کو الشفاء اسپتال میں ہوا۔
مولانا مرحوم کے انتقال سے پوری ملت اسلامیہ بالخصوص اور پوری دنیا بالعموم مغموم ہوئی۔ذاتی طور میں نے جب رات کے 9:15بجے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی صاحب کے ذریعے یہ خبر سنی تو میں سکتے میںآیا اور کافی دکھ بھی ہوا۔کیونکہ ابھی ملت کو ان کی بہت ضرورت تھی۔مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے۔
مولانا کی پیدائش 1935عیسوی کو تامل ناڈو میں ہوئی تھی۔انہوں نے علمی دنیا میں بہت ہی نمایاں کام کیا۔مولانا کو تعلق نوجوانی کے عمر سے ہی جماعت اسلامی ہند سے رہا ہے۔1956 عیسوی میں وہ جماعت اسلامی ہند کے رُکن بنے،پھر کافی عرصہ تک امیر جماعت علی گڑھ رہے ہیں۔پانچ سال تک ماہنامہ ’’زندگی نو‘‘ کے مدیر اعلیٰ کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ سولہ سال تک مولانا امیر جماعت اسلامی ہند رہے ہیں۔پہلے2007 عیسوی میںمولانا سید جمال الدین عمری صاحب جماعت اسلامی ہند کے کے امیر جماعت تھے۔پھر 2011 عیسوی میں دوبارہ امیر جماعت منتخب ہوئے۔اس طرح مولانا مرحوم مارچ 2019 تک بدستور امیر جماعت ہند منتخب ہوتے رہے۔اس کے علاوہ مولانا 2011 عیسوی سے 2019 عیسوی تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر بھی رہے ہیں۔ مولانا ایک مصنف بھی تھے۔ان کی درجنوں تصانیف منظر عام پر آچکی ہے۔جن میں معروف و منکر،اسلام کی دعوت،مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ،صحت و مرض اور اسلام کی تعلیمات اور اسلام میں خدمت خلق کا تصور قابل ذکر ہے۔ان کی تصانیف تحریکی حلقوں میں کافی مقبول ہیں۔ تحریر و تصنیف کے علاوہ تقریر میں بھی مولانا مرحوم کافی معروف ر ہے۔ان کی تقاریر سوشل میڈیا پر کافی وائیر ہے۔
مولانا مرحوم نے نئی نسل کی تربیت کے لئے بالکل اُسی طرح کام کیا، جس طرح مولانا مودودی علیہ رحمہ نے اپنے دور میں کیا تھا۔انہوں نے اُن غلط فہمیوں کو دور کیا، جو دین کے بارے میں پھیلائی جاتی ہیں۔مولانا مرحوم نے اپنی اس ملت کے لئے ایک علمی سمندر چھوڑا ہے۔
مولانا نے تحریر و تقریر کے علاوہ کچھ شخصیات کو بھی بنایا اور ان کو دنیا میں متعارف بھی کروایا۔جن میں مولانا ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب،سید سعادت اللہ حسینی صاحب،ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب،مولانا سید فہد فلاحی صاحب وغیرہ قابل ذکر ہے۔بقول مولانا ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی ’’رضی الاسلام کو مولانا رضی الاسلام بنانے والا چل بسا‘‘۔
نوجوانوں کو اسلامی فکر دینا مولانا کی ترجیحات میں تھا۔مولانا کو ہمیشہ نوجواں کی اصلاح کی فکر رہی ہے۔ایس۔آئی۔او کے اجتماعات میں ہمیشہ شرکت کرتے تھے۔مولانا ایک تقریر میں کہتے ہیں’’لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا۔میں کہتا ہوں ملک کا مستقبل میرے یہ نوجوان ہیں‘‘۔ مولانا کو نوجوانوں کی اعلی تعلیم کی بہت زیادہ فکر رہتی تھی۔ہمیشہ نوجوانوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرو۔وادی کشمیر کے ایک نوجوان اسکالر مجتبیٰ فاروق صاحب نے سوشل میڈیا پر یہ بات تحریر کی تھی’’2018 میں مولانا نے مجھے پی۔ایچ۔ڈی کرنے کی اجازت دی‘‘۔
مولانا مرحوم خود ایک تحریک اور ایک جماعت تھے۔ان کی وجہ سے بے شمارافراد کو اقامت دین کی طرف تحریک ملی۔ان کا ہم سے جدا ہونا پوری ملت کے لئے بالعموم اور تحریکات اسلامی کے لئے بالخصوص بہت بڑا نقصان ہے۔اس نقصان کا احسا س ہمیں آنے والے وقت میں ضرور ہوگا۔ مولانا کا نماز جنازہ 27 اگست 2022 عیسوی کو صبح کے دس بجے مرکز جماعت اسلامی ہند کیمپس میں ادا کیا گیا اور تدفین شاہین باغ قبرستان میں ہوئی۔
اللہ تعالیٰ مولانا کو مغفرت فرمائیں۔ان کی ملی خدمات کو قبول فرمائیں اور ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرمائیںاور آپ کےپسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔
(رابطہ۔9149897428)
[email protected]>