آگ کی واردات میں شاہراہ پر 6 دکانیں خاکستر

بانہال // خشک سالی کے طویل پڑاو کی وجہ سے پچھلے کئی ہفتوں کے دوران وادی چناب کے کئی جنگلوں ، رہائشی مکانوں، دوکان اور سردیوں کیلئے سخت محنت کے بعد پالتو جانوں کیلئے ذخیرہ کی گئی گھاس کے جل جانے کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں اور یہ سلسلسہ خشکی کی وجہ سے مزید واقعات کے ساتھ جاری ہے۔ تازہ واردات میں شاہراہ پر واقع بانہال کے چملواس علاقے میں ایک دوکان دوکان جل گئی ہیں جبکہ پوگل کے رونیگام علاقے میں پھلدار درخت اور گھاس کے جمع کئی ٹیلے جسے مقامی زبان میں گھاس کی گاڑیاں کہا جاتا جل کر راکھ ہوئی ہیں۔ ہرگاڑی میں بڑی محنت اور مشقت کے بعد لوگوں کی طرف سے اپنے پالتو جانوروں کیلئے جمع کی گئی ہزاروں کی تعداد میں گھاس کے چھوٹے بنڈل موجود ہوتے ہیں۔ تحصیل پوگل پرستان ، اکڑال کے رونیگام کے علاقے میں آگ کی وجہ سے گھاس کے کئی ڈھیر راکھ میں تبدیل ہوئے اور اخروٹ سمیت دیگر پھلدار درختوں کے جل جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس اور انتظامیہ کو مطلع کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آگ کا یہ سلسلہ شام سات بجے تک بھی جاری تھا اور اس آگ کی وجہ سے کاٹے جانے والی گھاس میں اب جل رہی ہے جس کی وجہ سے غریب زمینداروں کو سردیوں کے موسم میں اپنے مال مویشیوں کو لیکر فکر اور تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ پیراور منگل رات دو بجے کے قریب شاہراہ پر واقع چملواس کے قریب کریانہ اور منیاری کی دوکانوں سمیت چھ دوکانیں جل کر راکھ ہوگئی ہے اور اس دوکان میں لاکھوں روپئے کی مالیت کا کریانہ اور منیاری جل جانے کی اطلاع ہے۔ یہ دوکانیں فرودس احمد ملک ولد عبدالرشید ملک ساکنہ کرالچی ہال چملواس کی ملکیت ہیں اور اس میں بہار احمد نائیک ولد الف دین اور خلیل احمد ولد عبدالغنی نائیک ساکنہ ٹھاچی ،امکوٹ بانہال نے منیاری اور کریانہ کے علاوہ ٹی سٹال وغیرہ کھول رکھے تھے۔ آگ کی واردات کی خبر کے بعد پولیس اور فائر اینڈ ایمر جنسی بانہال کے اہلکار وہاں پہنچے مگر تب تک آگ اوپری چار دوکانوں کو راکھ کر چکی تھی۔ اس سلسلے میں پولیس نے ضابطے کی کاروائی کی ہے اور معاملے کی تحقیقات کی جارہی اور آگ کی وجوہات کا پتہ لگایا جارہا ہے۔