عاصف بٹ
کشتواڑ//جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورونے بدعنوانی کے خلاف اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوئے ایک اہم کارروائی میں ضلع کشتواڑ کے مڑواہ فاریسٹ ڈویژن میں تعینات فارسٹ گارڈ وسیم احمد ہپ کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اے سی بی کے ترجمان کے مطابق ادارے کو ایک شہری کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی تھی جس میں الزام لگایا گیا کہ محکمہ جنگلات کے مذکورہ اہلکار نے الاٹ شدہ ترقیاتی کاموں سے متعلق سکیورٹی ڈپازٹ کی رقم جاری کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر 20ہزار روپے رشوت طلب کی۔ شکایت کے مطابق بعد ازاں باہمی گفت و شنید کے بعد یہ رقم کم کر کے 15ہزار روپے مقرر کی گئی۔شکایت کنندہ نے رشوت دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کیا اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی۔ شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اے سی بی نے فوری طور پر خفیہ جانچ شروع کی جس کے دوران ابتدائی تحقیقات میں رشوت طلب کیے جانے کے الزامات درست پائے گئے۔اس کے بعد اے سی بی نے پولیس اسٹیشن سنٹرل جموں میں ایف آئی آر زیر نمبر 7/2026درج کی گئی، اورانسداد بدعنوانی ایکٹ 1988کی دفعہ 7کے تحت تحقیقات شروع کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران اے سی بی نے ایک خصوصی ٹریپ ٹیم تشکیل دی جس نے منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو اس وقت رنگے ہاتھوں دھر لیا جب وہ شکایت کنندہ سے 15ہزار روپے بطور رشوت وصول کر رہا تھا۔ کارروائی کے دوران ٹیم نے موقع پر ہی ملزم کو گرفتار کر لیا اور رشوت کی رقم اس کے قبضے سے برآمد کر لی گئی۔ یہ کارروائی آزاد گواہوں کی موجودگی میں انجام دی گئی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ملزم وسیم احمد ہپ ولد منظور احمد ساکن ہڈیال کشتواڑ اس وقت مڑواہ فاریسٹ ڈویژن میں بطور فارسٹ گارڈ تعینات تھا اور دفتر ڈویژنل فاریسٹ آفیسر میں اکاؤنٹس سے متعلق امور بھی دیکھ رہا تھا۔گرفتاری کے بعد اے سی بی نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزم کے رہائشی مکان کی تلاشی بھی لی، جہاں سے کچھ اہم دستاویزات اور ریکارڈ ضبط کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم حکام نے ضبط شدہ مواد کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے سی بی اس معاملے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہے، اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا اس بدعنوانی میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں یا نہیں۔ جبکہ ملزم کے مالی لین دین اور اثاثوں کی بھی جانچ کی جا سکتی ہے۔