یوسف شمسی
موجودہ عہد میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بے شمار سہولتیں عطا کی ہیں، مگر اسی کے ساتھ اس کے کچھ بھیانک اور خطرناک پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں، جو رفتہ رفتہ ہماری سماجی ساخت اور انسانی قدروں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ آن لائن گیمنگ اور مجازی دنیا کی بڑھتی ہوئی لت اب محض تفریح یا وقت گزاری کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک سنگین سماجی المیہ کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، جس سے دل میں ڈر لگنے لگا ہے۔
حال ہی میں ایک ہی دن کے اندر پیش آنے والے دو المناک واقعات نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ غازی آباد میں نویں منزل سے کود کر تین کم عمر سگی بہنوں کی خودکشی اور ہماچل پردیش کے کُلّو میں ایک پندرہ سالہ طالب علم کی جان لے لینے والی یہ خبریں محض حادثات نہیں بلکہ ایک گہرے بحران کی علامت ہیں۔ غازی آباد کی تین معصوم بہنیں، جن کی عمریں 12، 14 اور 16 برس تھیں، آن لائن کوریائی
گیم کی اس قدر اسیر ہو چکی تھیں کہ حقیقی دنیا اُن کے لیے بے معنی ہو گئی۔ جب والدین نے ان کی اس لت سے پریشان ہو کر موبائل فون چھین لیے تو وہ ذہنی دباؤ اور شدید مایوسی کا شکار ہو گئیں اور بالآخر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
اسی طرح کُلّو میں دسویں جماعت کے ایک طالب علم نے محض اس لیے خودکشی کر لی کہ آن لائن گیم میں اس کا ایک غیر ملکی ساتھی اس سے جدا ہو گیا تھا۔ یہ واقعات سماج کو نہ صرف افسردہ کرتے ہیں بلکہ اس بات پر مجبور بھی کرتے ہیں کہ ہم سنجیدگی سے غور کریں کہ ہماری نئی نسل کس سمت میں جا رہی ہے۔یہ واقعات کوئی انفرادی یا اتفاقی سانحات نہیں ہیں۔ اس سے قبل جھابوا، بھوپال اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا سے جڑی ایسی دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ سب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مجازی دنیا آہستہ آہستہ حقیقی زندگی پر غالب آتی جا رہی ہے، جہاں رشتے، مکالمہ، جذبات اور زندگی کے اصل مقاصد اسکرین کے پیچھے دب کر رہ گئے ہیں۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آن لائن گیمنگ بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، نہ ہی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ درست استعمال کی صورت میں آن لائن گیمز ذہنی تیزی، فیصلہ سازی کی صلاحیت، توجہ اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ کئی تعلیمی اور ذہنی مشقوں پر مبنی گیمز بچوں میں سیکھنے کا شوق بھی پیدا کرتی ہیں اور بعض اوقات ذہنی دباؤ کم کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب یہ کھیل تفریح کے دائرے سے نکل کر لت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
آن لائن گیمنگ کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ بچوں اور نوعمر افراد کو رفتہ رفتہ سماجی تنہائی، ذہنی دباؤ، چڑچڑے پن اور افسردگی کی طرف لے جاتی ہے۔ مسلسل اسکرین کے سامنے رہنے سے نیند متاثر ہوتی ہے، تعلیمی کارکردگی گرتی ہے اور خاندانی روابط کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ مجازی تعلقات اس قدر گہرے ہو جاتے ہیں کہ حقیقی رشتے بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ بعض گیمز میں تشدد، مقابلہ بازی اور خیالی دنیا کی چکاچوند بچوں کے نازک ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، جس کا نتیجہ بعض اوقات انتہائی خطرناک صورت میں سامنے آتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم بطور سماج اس خطرے کو یا تو نظر انداز کر رہے ہیں یا پھر اسے وقتی مسئلہ سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔ والدین اکثر مصروفیات کے سبب بچوں کے ڈیجیٹل رویّوں پر نظر نہیں رکھ پاتے، جبکہ تعلیمی ادارے بھی اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر سنجیدہ مکالمہ قائم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً بچے اور نوجوان خاموشی سے ایک ایسی دنیا میں قید ہو جاتے ہیں جہاں واپسی کے راستے دھندلا جاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین محض پابندیوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ بچوں کے ساتھ دوستانہ گفتگو کریں، ان کی دلچسپیوں کو سمجھیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ حقیقی دنیا کی اہمیت مجازی دنیا سے کہیں زیادہ ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نصاب کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی صحت پر بھی توجہ دیں اور آن لائن سرگرمیوں کے مثبت و منفی پہلوؤں سے انہیں آگاہ کریں۔ حکومت اور سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آن لائن گیمنگ کے لیے واضح رہنما اصول بنائیں اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
اگر ہم نے وقت رہتے آن لائن گیمنگ اور مجازی دنیا کے اس بڑھتے ہوئے خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ مسئلہ محض چند گھروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ٹیکنالوجی سے فرار ممکن نہیں، مگر اس کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال ہی ہمیں اس اندھیرے سے بچا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر وہ دن دور نہیں جب مجازی دنیا ہماری حقیقی دنیا کو مکمل طور پر نگل لے گی اور تب واقعی ڈر لگنے لگے گا۔
(رابطہ ۔ 9162216560)