ویب ڈیسک
سائنس دانوں نے آنسوؤں میں موجود کیمیکلز سےابتدائی اسٹیج کے کینسر کی تشخیص کرنیوالے اسمارٹ لینسز ایجاد کرلیے۔رپورٹ کے مطابق، ان اسمارٹ لینسز کی تخلیق سے متعدد اقسام کے امراض کی تشخیص کے لیے کم لاگت والے اسکرین پروگرامز کی ابتداء ہو سکتی ہے۔یہ ٹیکنالوجی ایگزوسومز نامی ٹرانسپورٹرز کو پکڑتی ہے جوکہ باریک بلبلوں کی شکل میں ہمارے خون، لعاب، پیشاب اور آنسوؤں میں موجود ہوتے ہیں، ان کی سطح پر بھرپور پروٹینز ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ سرطان، وائرل انفیکشن یا زخم سے متاثرہ بھی ہوسکتے ہیں۔
یہ پروٹینز انسانی جسم میں رسولیوں کے بننے اور ان کو پھیلنے سے روکنے میں اثر انداز ہوسکتے ہیں جو کہ کینسر کے مزید مخصوص اور مؤثر علاج کے لیے امید کی کرنیں روشن کر رہےہیں۔ضرورت سے زیادہ سوچنے سے دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما ہوتی ہے۔تحقیق کے دوران اس حوالے سے امریکا کے ادارہ برائے بائیو میڈیکل اِنوویشن کے پروجیکٹ لیڈر پروفیسر علی خادم حسینی کا کہنا ہے کہ یہ لینس انسانی جسم میں موجود ایگزوسومز کی نشان دہی کر سکتا ہے اور یہ ایگزوسومز کی سطح پر کینسر کا باعث بننے والے پروٹینز کی تشخیص بھی کر سکتے ہیں۔اس لینس کے مائیکرو چیمبرز میں اینٹی باڈیز ہیں جن سے ایگزوسومز جا کر چپک جاتے ہیں۔
دریں اثنا سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے کان کے امراض قبل از وقت دریافت کرنے کے لیے بلیو ٹوتھ ایئر بڈز تیار کرلیے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ مذکورہ بلیو ٹوتھ ایئر بڈز کو ’ایئرہیلتھ‘ سسٹمز کا نام دیا گیا ہے۔ایئر بڈز کو جب کان سے لگایا جاتا ہے تو ان سے ہلکی سی آواز خارج ہوتی ہے جو کان کے اندر سفر کرتی ہوئی ایئرڈرم تک پہنچتی ہے جس سے اندرونی تھرتھراہٹ اور آواز کے سفر سے کان کی اندرونی ساخت کا ڈیٹا حاصل کیا جاتا ہے۔اس ڈیٹا کو اسمارٹ فون کے ذریعے ڈیپ لرننگ نامی آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کیا جاتا ہے۔مصنوعی ذہانت سے تمام ڈیٹا کا جائزہ لے کر کان کے امراض سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق کان میں تین عام اقسام کے مختلف امراض بار بار رونما ہوتے ہیں۔پہلا کان کے میل کی وجہ سے بندش، دوسرا ایئرڈرم کا پردہ پھٹ جانا اور تیسرا ’اوٹوٹِس میڈیا‘ نامی عام انفیکشن شامل ہے جو کان کی اندرونی جیومیٹری کو تبدیل کردیتے ہیں اور آواز کا سفر اسے 82 فیصد درستی سے پکڑ لیتا ہے۔
تحقیق کے دوران مذکورہ ایئر بڈز کو 92 افراد پر آزمایا گیا۔ اس دوران 27 افراد تندرست قرار پائے، 22 افراد کے ایئرڈرم متاثر تھے، 18 افراد کان کے میل کی بندش سے متاثر تھے اور کل 25 مریض اوٹوٹس میڈیا کے شکار تھے۔
آنسوؤں سے کینسر کی تشخیص کرنیوالے لینس | کان کےامراض قبل از وقت دریافت کرنا ممکن