ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
تاریخ انسانی میں جب جب صنم پرستی نے انسانی دل و دماغ پے قبضہ جمالیا تو انسانی عقل میں فتور پڑگیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ خالق کی بجائے مخلوق کو معبود بنا دیا گیا۔مادہ پرستی کو مقصد حیات سمجھ لیا گیا۔ سیم و زر اور کر وفر کو عزت کا معیار اور بہیمی جذبات کی تسکین کو مردانگی کی دلیل سمجھا گیا۔ اس طرز حیات کا لازمی نتیجہ اولاد آدم کی روحانی اور اخلاقی زوال کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ زر، زن اور زمین کے جادو نے قوائے انسانی کو مفلوج کر دیا اور اسکی ذہنی لیاقت، ارتکاب جرم تک محدود ہوگئ لیکن اس جرم کے انجام کو سمجھنے کی لیاقت سرے سے ہی ختم ہوگئ۔ قابیل نے ہابیل کو تو قتل کر دیا، انجام پے نظر دور کی بات، اسے اپنے جرم ہے پردہ ڈالنے کی صلاحیت بھی نہ رہی۔ یہ حال ہر دور کے صنم پرستوں کا رہا ۔انسان چونکہ اعمال سے اسی طرح پہچانے جاتے ہیں جسطرح اشجار اپنے آثار سے۔ لہٰذا جب دنیا طلبی کا مرض مہلک ، انسان کے دل میں ڈیرا ڈال دیتا ہے تو ایسا بد اندیش اور بد نصیب انسان، دین کے ذریعے دنیا تلاش کرتا ہے۔ اس دور میں ایسے افراد کی کثرت نے ہر بستی کو گھیرا ہوا ہے۔قبائیں اور عمامے تو اسلاف کے طرز حیات کی عکاسی کرتیں ہیں مگر حقوق العباد کی عظمت سے انحراف فرعون اور نمرود کی داستانیں زندہ کر رہی ہیں۔جب کسی بستی سے گذر ہوتا ہے تو چشموں اور راستوں پے پڑی غلاظت کی عفونت ،ابو لہب اور ام جمیل کے قصے سناتی ہے۔ صوم وصلات کی پابندی، حرم کعبہ کی زیارت، قربانی کی رسم، زکوٰۃ کی تشہیر، واعظ و تبلیغ کا کی مشق تو اپنی جگہ ضمانت فردوس کی دلائل بنی ہیں مگر ہمسایوں کے حقوق پے شبخون، ان اعمال کی ناقص صحت کی نشان دہی کرتی ہے۔نہ معلوم یہ خود فریبی ہے یا خدا فریبی۔اس صورتحال کی محرک یا تو جہالت ہو سکتی ہے یا پھر حرص وہوس کی یلغار۔دراصل، فی الحال ابلیس ان دونوں حربوں کو تیر بہدف استعمال کرتے ہوئے بے خوف و خطر، اولاد آدم کو ابدی ذلت کے بھنور کی طرف دھکیل رہا ہے اور آدم یہ تماشا دیکھ کر خون کے آ نسو بہا رہا ہے۔ ہماری نماز، ہمارے روزے، ہماری شب باشی، ہماری زیارت حرم کعبہ اور ہمارا علم اگر ہماری خودی کی تعمیر میں معاون نہ ہوئے تو پھر ایسے علم و اعمال کا کیا اعتبار۔
اس خوش فہمی سے باہر آنے کی ضرورت ہے کہ چند فرائض رسمی طور بجا لانا ،در جنت وا کرنے کے لئے کافی ہیں۔مگر اس دام ہم رنگ زمین سے نجات پانے کے لئے ضابطہ اخلاق کے تقاضوں کا فہم حاصل کرنا ،نا گزیر ہے کیونکہ علامہ اقبال نے اس تقاضے کی اہمیت کو، اپنی تصنیف جاوید نامہ میں اسطرح اجا گر کیا ہے:
جز بقرآں ضیغمی روباہی است
فقر قرآں اصل شہنشاہی است
فقر قرآں؟ اختلاط ذکر و فکر
فکر را کامل نہ دیدم جز بزکر
علامہ اقبال ان اشعار میں فرماتے ہیں کہ قرآن کی روح کی معرفت کے بغیر انسانی اعمال کی مثال شیر کی سی نہیں بلکہ ایک لومڑی کی سی ہے جو ہمیشہ مکاری سے کام لیتی ہے جبکہ شیر جرأت سے کام لیتا ہے اور انسان دنیا طلبی سے ،تبھی بے نیاز ہو سکتا ہے جب اس کے اعمال کا دارومدار علم و عرفاں ہے ہو۔جب اس مرحلے سے انسان گذرتا ہے تو اسے شان فقر نصیب ہوتی ہے اور یہی انسانی تخلیق کا عظیم مقصد ہے یعنی جدو جہد کے ذریعے دوسروں کے لئے باعث راحت و رہبری بننا ۔ دنیا کو محنت اور جفا کشی سے کمانا اور پھر اسے خلق خدا کے خیر میں لٹانا۔ لیکن یہاں تو ہر طرف تماشا دگر گوں ہے۔اور تو اور مگر امت مسلمہ کی زبوں حالی ، ابلیسی لشکر کے محاصرے اور مضبوط معرکے کی خبر دیتی ہے۔
رابطہ۔9858018662.
[email protected]