اُمتِ مسلمہ کے لیے رمضان کا مہینہ اللہ رب العزت کا ایک عظیم الشان احسان ہے۔ جہاں اللہ رب العزت اس ماہِ مقدس میں اپنی رحمتوں، برکتوں اور عنایات کی برسات نازل فرماتا ہے، انہی عنایات میں سے ایک عنایت اعتکاف ہے۔جو انسانی زندگی کو قرب خداوندی سے جوڑنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اعتکاف کے دس دن ایک طرف اور دنیاوی اغراض و مقاصد کی خاطر گزارے گئے سال کے باقی ماہ و ایام ایک جانب۔ ان دس دنوں میں اللہ کی رضا کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر مومنین اللہ کے در پر سائل بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر اس عشرہ کا حق ادا کیا جائے تو اس کے اثرات اگلے پورے سال تک رہتے ہیں۔ گویا یہ ایک refresher course ہے جو پورے سال کا زادِ راہ ثابت ہوتا ہے۔ اعتکاف ان عبادات میں سے ہے جو پچھلے انبیائِ کرام علیہم السلام کے زمانے سے چلی آرہی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بھی اس کا ذکر فرمایاہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کے بعد طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور نماز ادا کرنے والوں کے لیے اسے (بیت اللہ) پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔ گویا طواف ونماز کی طرح اعتکاف بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا خاص ذریعہ ہے کہ باری تعالیٰ اپنے دو برگزیدہ پیغمبروں کو معتکفین کی خدمت اور ان کے اعزاز میں مسجدِ حرام کی صفائی اور خدمت کا حکم ارشاد فرمارہے ہیں۔
رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کا اعتکاف کرنا رسول اللہ ﷺ کی مستقل سنت ہے، اوراس کی فضیلت اس بات سے واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کا اہتمام فرماتے تھے، امام زہری ؒ فرماتے ہیں: کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ رکھا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺبعض امور کو انجام دیتے تھے اور ان کو ترک بھی فرما دیتے تھے،اور جب سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سے لے کر وفات تک آپ اعتکاف کرتے رہے،کبھی ترک نہیں کیا۔ (اور اگر ایک سال اعتکاف نہ کرسکے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے،اپ نے ایک سال اعتکاف نہیں کیا تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف کیا- (ترمذی 794)
رسول اللہﷺ نے معتکف کے بارے میں فرمایااعتکاف کرنے والا تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے، اور اس کو ان نیکیوں کا ثواب جن کو وہ نہیں کر سکتا ان تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملے گا(سنن ابنِ ماجہ 1781)
اس حدیث میں اعتکاف کیدو فایدے بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ معتکف جتنے دن اعتکاف کرے گا اتنے دن گناہوں سے بچا رہے گا۔ دوسرا یہ کہ جو نیکیاں وہ اعتکاف سے باہر رہ کر کرسکتا تھا مثلاً مریض کی عیادت، جنازہ میں شرکت، غرباء کی امداد، علماء کی مجالس میں حاضری وغیرہ، بحالت اعتکاف اگرچہ معتکف ان کاموں کو انجام نہیں دے سکتا البتہ اعتکاف کی برکت سے ان اعمال کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے
یوں تو اعتکاف کے بے شمار فضائل ہیں مگر مسلمانوں کے لیے تو اتنی ہی بات کافی ہے کہ آخری عشرہ کا اعتکاف سنتِ رسولﷺ ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دیدی اس کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی تھیں۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ کا اعتکاف خاص طور پر لیلۃ القدر کی تلاش اور اس کی برکات پانے کے لیے فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔(صحیح بخاری 2017)
معلوم ہوا کہ اعتکاف سے مقصود لیلۃ القدر کو پانا ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔ نیز اس حدیث میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کیلیے آخری عشرہ کا اہتمام بتایا گیا ہے جب کہ دیگر احادیث کی رو سے اس عشرہ کی طاق راتوں کے اہتمام کا بتایا گیا ہے لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ اس آخری عشرہ کی ساری راتوں میں بیداری کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ کم از کم طاق راتوں کو تو ضرور عبادت میں گزارنا چاہیے۔
اعتکاف کی حقیقت:
اعتکاف کی حقیقت خلق سے منقطع ہوکر خالق سے وابستہ ہوجاناہے اور یہ رب العزت کا خصوصی لطف و احسان ہے کہ وصال حق کی وہ منزل جو اممِ سابقہ کو زندگی بھر کی مشقتوں اور مسلسل ریاضتوں کے نتیجے میں بھی حاصل نہیں ہوتی تھی فقط چند روز کی خلوت نشینی سے امت محمدیہ کو میسر آسکتی ہے۔
چنانچہ اعتکاف کی روح یہ ہے کہ انسان چند روز کے لئے علائق دنیوی سے کٹ کر گوشہ نشین ہوجائے، ایک محدود مدت کے لئے مکمل یکسوہو کر اللہ کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کرلے، اپنے من کو آلائش نفسانی سے علیحدہ کر کے اپنے خالق و مالک کے ذکر سے اپنے دل کی دنیا آباد کرلے، مخلوق سے آنکھیں بند کر کے اپنے معبود سے لو لگائے، جب انسان ان کیفیات سے معمور ہوکر، دنیا و مافیھا سے کٹ کر اپنے خالق و مالک کے درپرپڑجاتاہے تو اس کے یہ چند ایام سال بھر کی عبادت اور طاعت پر بھاری ہوجاتے ہیں
غالب نے اسی کیفیت کو مجازی رنگ میں یوں پیش کیا ہے:
پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیر بار منتِ درباں کیے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
(متعلم تخصص فی الحدیث
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکہنو)