ڈاکٹر سید تابش امام
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ فضا میں بارود کی بو، سفارتی بیانات کی تندی، اور عالمی سیاست کی بے رحمانہ حقیقتیں اس طرح باہم گتھی ہوئی ہیں کہ خطہ ایک مستقل بے یقینی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اس پورے منظرنامہ میں یونائٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ کا کردار محض ایک مبصر یا ثالث کا نہیں بلکہ ایک فعال اور اکثر جارح قوت کا نظر آتا ہے، جو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل عالمی قوانین اور ادارہ جاتی انصاف کے دعووں سے ہم آہنگ ہے، یا پھر عالمی نظام عملاً طاقت کے تابع ہو چکا ہے؟
امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہتی کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی دلچسپی محض وقتی نہیں بلکہ گہرے جغرافیائی، اقتصادی اور عسکری مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ تیل کے وسیع ذخائر، عالمی تجارتی راستوں پر کنٹرول، اور اسرائیل کی غیر مشروط سلامتی—یہ وہ بنیادی ستون ہیں جن پر امریکی حکمتِ عملی استوار رہی ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں اس پالیسی نے ایک نئی شدت اختیار کی، جہاں سفارت کاری کے مقابلے میں دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کو فوقیت دی گئی۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ کے ذریعہ ایران پر عائد کی جانے والی سخت اقتصادی پابندیاں درحقیقت ایک مکمل اقتصادی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ ان پابندیوں نے نہ صرف ایرانی معیشت کو کمزور کیا بلکہ عام شہریوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔ دوا، بینکنگ اور روزمرہ ضروریات تک رسائی محدود ہونا کسی بھی مہذب عالمی نظام کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ یہاں بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کسی ریاست کو اس حد تک اقتصادی دباؤ میں لانا انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے متصادم نہیں؟ اور اگر ہے، تو پھر عالمی ادارے خاموش کیوں ہیں؟
یہ خاموشی سب سے زیادہ نمایاں طور پر اقوام متحدہ (United Nations )کے کردار میں نظر آتی ہے، جو بظاہر عالمی امن اور انصاف کا سب سے بڑا نگہبان سمجھا جاتا ہے۔ لیکن عملی سطح پر سلامتی کونسل کی کارروائیاں اکثر بڑی طاقتوں کے مفادات کے تابع دکھائی دیتی ہیں، جہاں ویٹو پاور انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ نتیجتاً، عالمی انصاف ایک نظریاتی تصور بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ عملی دنیا میں طاقتور ممالک اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی کا ایک اہم پہلو اسرائیل کو حاصل غیر مشروط امریکی حمایت بھی ہے، جس نے طاقت کے توازن کو یکطرفہ بنا دیا ہے۔ فلسطین کا دیرینہ مسئلہ اس کا واضح ثبوت ہے، جہاں دہائیوں سے جاری انسانی المیہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے باوجود مؤثر حل سے محروم ہے۔ اس تناظر میں امریکی پالیسی نہ صرف جانبدار دکھائی دیتی ہے بلکہ یہ خطے میں مستقل عدم استحکام کا سبب بھی بن رہی ہے۔
حالیہ کشیدگی نے ایک خطرناک موڑ اس وقت اختیار کیا جب آبنائے ہرمز( Strait of Hormuz)جو عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، تنازع کا مرکز بن گئی۔ ایران کی جانب سے دشمن ممالک پر عائد ممکنہ پابندیوں کے جواب میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی بحری موجودگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں بے چینی، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور معاشی عدم استحکام کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اسی دوران ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ دی گئی سخت دھمکیوں اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبی ال خمینئی کے واضح ردعمل نے سفارتی فضا کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ دونوں جانب کی بیان بازی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ اگر حالات کو فوری طور پر سنبھالا نہ گیا تو یہ تنازع کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق، اگر یہی کشیدگی برقرار رہی تو یہ کسی وسیع تر جنگ، حتیٰ کہ ایک ممکنہ عالمی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ علاقائی تنازعات کس طرح عالمی جنگوں میں تبدیل ہوئے، اور آج کے ایٹمی دور میں اس کے نتائج کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے۔
امریکی مداخلت کا دائرہ کار صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ وینیزوئلا میں سیاسی بحران کے دوران امریکی کردار نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ حکومت کی تبدیلی کی کھلی حمایت، اقتصادی پابندیاں، اور وسائل پر کنٹرول کی کوششیں اس دوہرے معیار کو نمایاں کرتی ہیں، جہاں جمہوریت کے نام پر مداخلت کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔
اسی طرح آرگانئیزیشن آف اسلامککوآپریشن ( Organisation of Islamic Cooperation )جیسے اداروں کی بے عملی بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ بیانات اور مذمتی قراردادوں سے آگے بڑھ کر کوئی عملی حکمتِ عملی سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث مسلم دنیا کی اجتماعی قوت منتشر دکھائی دیتی ہے۔
میڈیا کا کردار بھی اس پورے بیانیے میں اہم ہے۔ عالمی میڈیا کا بڑا حصہ اکثر طاقتور ممالک کے مؤقف کو فروغ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں حقیقت کا ایک محدود اور یکطرفہ عکس سامنے آتا ہے۔ ایسے میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے، جو زمینی حقائق کو غیر جانب دارانہ انداز میں پیش کر سکے۔
مزید برآں، حالیہ عالمی حالات نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ معاشی پابندیوں، فوجی دباؤ اور سفارتی تنہائی کی پالیسی کسی دیرپا حل کی ضامن نہیں بن سکتی۔ تاریخ کے تجربات بتاتے ہیں کہ طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا امن عارضی ہوتا ہے، جبکہ پائیدار امن صرف باہمی احترام، مذاکرات اور انصاف کی بنیاد پر ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے رویوں پر نظرثانی نہ کریں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا مسلسل عدم استحکام کا شکار رہے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں انصاف اور طاقت کے درمیان کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ اگر عالمی ادارے اپنی خودمختاری اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر عالمی امن کا خواب محض ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔
؎
آج کی دنیا کو ایک نئے عالمی معاہدے، ایک نئے اخلاقی جواز، اور ایک نئے توازنِ طاقت کی ضرورت ہے—جہاں ہر ریاست کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور عالمی قوانین کو بلا تفریق نافذ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو خدشہ یہی ہے کہ دنیا ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے جس کے اثرات نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ طاقت کے بجائے عقل و دانش کو رہنما بنایا جائے، اور عالمی اداروں کو محض نمائشی فورم کے بجائے حقیقی انصاف کے ضامن میں تبدیل کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو ایک اور ممکنہ عالمی سانحے سے بچا سکتا ہے۔
(رابطہ۔9934933992)
[email protected]