امریکن ۔ ایران مناقشہ

ایران   امریکی تصادم نے حالیہ دنوں میں ایک خطر ناک صورت حال اختیار کی ہوئی ہے۔1915ء میں ایران نے پانچ جمع ایک (P+1) مملکتی گروپ کے ساتھ ایٹمی معاہدے طے کیا تھا جس کی رو سے ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا پابند بن گیا تھا۔  پانچ جمع ایک (P+1)میں دنیا کی پانچ بڑی طاقتیں شامل تھیں جو اقوام متحدہ میں سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبراں ہیں ۔اِن میں امریکہ،برطانیہ،فرانس،روس اور چین شامل ہیں۔اِن پانچ کے علاوہ جرمنی بھی اِس گروپ میں شامل تھا ،لہٰذا یہ مملکتی گروپ  پانچ جمع ایک (P+1) نامیدہ گیا۔ایران کے ساتھ جو ایٹمی معاہدہ طے ہوا اُس کی رو سے یورنیم (Uranium) کو غنی کرنے کی اجازت اُسی حد تک دی گئی جس سے ایٹمی ہتھیار بنائے جانے کی صلاحیت نہ رہے۔یورنیم ایک ایسی دھات ہے جس کو انتہائی سرعت کے ساتھ سنٹری فویج (Centrifuge) کر کے غنی کیا جاتا ہے تاکہ غنی شدہ یورنیم سے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول ممکن ہو سکے۔اِس کے لئے ایک خاص درجے کی یورنیم دھات کی ضرورت ہوتی ہے۔ایٹم بمب یورنیم ۔235(U-235) سے بھی بنائے بنایا جا سکتا ہے اور یورنیم ۔238(U-238) سے بھی بنایا جا سکتا ہے البتہ جہاں یورنیم ۔235 کو مستقیماََ ایٹم بمب بنانے کیلئے مصرف میں لایا جا سکتا ہے وہی  یورنیم ۔238 کو پہلے ایک نیٹرون رد عمل (neutron reaction) سے Pu-239 میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔اِس کے علاوہ بھاری پانی (heavy water) کو بھی یورنیم کو غنی کرنے کیلئے مصرف میں لایا جاتا ہے۔ایران پر 1915ء کے معاہدے کی رو سے یورنیم کو اُس حد تک غنی کرنے پابندی لگائی گئی تھی جہاں ایٹمی ہتھیاروں کی بر آوری ناممکن بن جائے ۔ اِس کے ساتھ ساتھ بھاری پانی (heavy water) کی مقررہ حد سے زیادہ مقدار کی تولید پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ بھاری پانی (heavy water) کا فاضل مواد پلاٹینم (plutonium) ہے اور اِس مواد کو بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے مصرف میں لایا جا سکتا ہے۔  
 2018ء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے پیشرو بارک اوباما کے اُس سمجھوتے سے ہاتھ کھنچ لیاجو 1915ء میں طے ہو چکا تھا۔امریکہ کا یہ فیصلہ یک طرفہ تھا چونکہ برطانیہ،فرانس،روس ، چین اور جرمنی نے صدر ٹرمپ کے اِس فیصلے کا ساتھ نہیں دیا۔امریکہ نے ایران کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا از اینکہ ایران معائدے کی پانبدی نہیں کر رہا ہے ثانیاََ ایران کے پیشرفتہ میزائیل پروگرام پر بھی خدشات ظاہر کئے گئے ثالثاََ ایران پہ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ وہ مشرق وسطی میں امنیت قائم کرنے کے عمل میں رخنہ اندازی کر رہا ہے۔ یہ الزامات ایک طرف سرسری تجزیہ میں یہ بات صاف ہے کہ ایران مشرق وسطی میں امریکہ کے مذموم ارادوں کی مخالف سمت میں نظر آ رہا تھا ثانیاََ ایران اسرائیل مخالف تنظیموں کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ مشرق وسطی میں من مانی کر لے۔یک طرفہ طور پہ سمجھوتے سے ہاتھ کھنچ کے امریکہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے کے لئے آمادہ کرنا چاہتا ہے لیکن ایران کی قومی غیرت و عزت نفس امریکہ کے املہ پہ چلنے کے آڑے آ رہا ہے۔اِس سفارتی و سیاسی تنازعے میں طرفین کے سخت رویے سے نہ صرف مشرق وسطی میں شدید نقص امن کا خطرہ ہے بلکہ عالمی امن پر بھی خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ رواں برس میں 17 جون کے روز ایران نے یہ اعلان کیا کہ وہ طے شدہ سمجھوتے پہ عمل پیرا رہنے کی پابندی کو کم کریں گے۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی حکومت نے غنی شدہ یورنیم اور بھاری پانی کی مقدار کو بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ ایران کا ایٹمی پلانٹ جہاں یورنیم اور بھاری پانی میسر رہتا ہے شہر اراک میں واقع ہوا ہے۔شہر اراک میں یہ پلانٹ اکثر مغربی ممالک کی مطبوعات میں شاہ سرخیوں میں نظر آتا ہے۔ اِس پلانٹ پہ امریکہ و اسرائیل کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ایران کے اعلانیہ نے مشرق وسطی کی صورت حال کو پیچیدہ تر بنایا ہے چونکہ اب تک ایران نے امریکی اقدامات کے باوجود سمجھوتے پہ عمل پیرا رہنے کی تلقین کی تھی بنابریں امریکہ کے علاوہ جن عالمی طاقتوں نے بھی ایٹمی معاہدے پہ دستخط کئے تھے وہ خود کو اِس معاہدے کا پابند مانتے تھے لیکن ایران کے تازہ اقدامات سے عالمی طاقتوں کے لئے یہ مشکل ہو گا کہ وہ غنی شدہ یورنیم اور بھاری پانی کی مقدار کو بڑھانے میں ایران کا ساتھ دیں۔ ایران نے یہ شرط عائد کر رکھی ہیں کہ اگر اُس پہ لگائی گئی پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو وہ یہ اقدامات اٹھائے گاجس کا یہ مطلب ہو گا کہ ایران 1915ء میں طے شدہ معاہدے کے پہلے کی پوزیشن پہ واپس آ جائے گا۔ اِس کی عملی صورت حال یہ رہے گی کہ ایران پہلے کی مانند ایٹمی ہتھیاروں کی ساخت میں کسی پابندی کا قائل نہیں ہو گا۔دیکھنا یہ ہو گا کہ ایرانی اقدامات کے رد عمل میں امریکہ کے ممکنہ اقدامات کیا ہو سکتے ہیں؟
ایران ایک مشکل صورت حال سے گذر رہا ہے۔ امریکہ نے ایران کے تیل کے ایکسپورٹ پہ پابندی عائد کر رکھی ہے حالانکہ یہ اقوام متحدہ کی لگائی ہوئی پابندی نہیں ہے بلکہ امریکہ کا یک طرفہ اقدام ہے۔امریکہ کی اِس پابندی کی رو سے جو بھی ملک ایران سے تیل خریدے گا وہ امریکہ پابندیوں کی زد میں آئے گا۔ ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار چین و بھارت ہیں۔پہلے پہلے تو یہی کہا گیا کہ چونکہ یہ اقوام متحدہ کی لگائی ہوئی پابندیاں نہیں ہیں لہذا متفرقہ ممالک جن میں بھارت بھی شامل رہا امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں پہ عمل پیرا ہونے کے موظف نہیں ہو سکتے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بتدریج امریکہ کی لگائی ہوئی پابندیاں کام کر رہی ہیں۔ بھارت کو امریکہ کی جانب سے پہلے پہل یہ چھوٹ دی گئی کہ وہ ایران سے تیل خرید سکتا ہے لیکن اب یہ چھوٹ ختم ہو گئی ہے۔ بھارتی الیکشن کے دوراں جب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف دہلی آئے تو بھارت کی وزیر خارجہ اسبق سشما سوراج نے یہ عندیہ دیا تھا کہ تیل کی خرید کے بارے میں الیکشن کے بعد کی حکومت فیصلہ لے گی لیکن تازہ بھارتی رحجان متبادل ذرائع سے تیل خریدنے کے حق میں ہے جو سعودی عربیہ یا امارات متحدہ سے حاصل ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایران اور بھارت کے روابط میں کافی گرمجوشی پائی جاتی تھی یہاں تک کہ ایران کی چہاہ بہار پورٹ پہ بھارت نے اسلئے بھاری سرمایہ کاری کی تاکہ افغانستان اور ایشائی مرکزی کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے میں آسانی رہی۔ بھارت کیلئے چونکہ در حال حاضر پاکستان سے راہداری کی امید رکھنا ناممکنات میں نظر آتا تھا لہذا چہاہ بہار کا راستہ بھارتی تجارت کیلئے حیاتی ثابت ہو سکتا تھا لیکن اِسکا انحصار ایران سے سفارتی روابط استوار رہنے پہ ہے۔اگر چہ در حال حاضر ایران و بھارت اپنے باہمی تعلقات کے بارے میں اظہار خیال سے گریز کر رہے ہیں لیکن حال ہی میں ایران نے ایک سفارتی پینترے میں یہ اشارہ دیا کہ پاکستان کی گوادر پورٹ اور چہاہ بہار میں روابط بڑھانے کے امکانات کو پرکھا جا سکتا ہے۔سفارتی میدان میں یہ پینترے دباؤ ڈالنے کیلئے ہوتے ہیں البتہ اِن سے ممالک کی آئندہ روش کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
چین نے امریکی پابندی پر عمل پیرا ہونے سے منع کیا ہے چونکہ اُن پہ اقوام متحدہ کی مہر ثبت نہیں ہوئی ہے لیکن اِس کے باوجود ایرانی تیل کا ایکسپورٹ شدید مشکلات کا شکار ہے اور تازہ ترین مطبوعاتی اطلاعات کے مطا بق ایرانی اقتصاد پر امریکی دباؤ کے اثرات نمایاں ہیں۔ امریکہ کی حکمت عملی یہی نظر آتی ہے کہ دباؤ کو شدید تر کیا جائے تاکہ لوگ ایرانی رژیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ امریکی منصوبوں کے برعکس ایران پر پریشر شدید تر ہو نے کی صورت میں ایرانی عوام کی قومی غیرت کے اُبھرنے کا احتمال ہے۔ایرانی صحنہ سیاسی پہ عمیق نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا بھی یہی خیال ہے کہ امریکی توقعات کا نتیجہ برعکس ہو گا۔ ایران کے ایک معروف ناول و مضمون نگار سالار عبدو اپنے ایک تازہ مقالے میں رقمطراز ہیں کہ امریکی پابندیوں نے ایران میں ایک ایسا سماں طاری کیا ہوا ہے جہاں ایرانیوں پہ یہ احساس چھایا ہوا ہے کہ وہ حالت جنگ میں ہیں ۔راقم الحروف کو صورت حال کا کچھ حد تک اندازہ ہے چونکہ 1980ء کے دَہے کی ایران عراق کی جنگ کا عملی مشاہدہ کیا ہے۔ اِس دوراں میں راقم الحروف جنگی محاز کے قریب ایران کے مغربی صوبے کرمانشاہ میں بحثیت ڈاکٹر عملیات جراحی کے ایک ہسپتال میں کام کر رہا تھا۔جنگ کے دوراں ہزاروں کی تعداد میں مجروحین اِس ہسپتال میں لائے گئے۔ایران کی صورت حال کافی کشیدہ تھی اور ایران شدید اقتصادی دباؤ میں تھا۔ایرانی مزاحمت و مقاومت کے ان گنت نظارے آنکھوں سے گذرے اور اگر موجودہ صورت حال میں مزاحمت و مقاومت کی وہی سطح ہو جو پہلے تھی تو یہ درد ناک صحنہ طول کھنچ سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جس سے اگرچہ تصادم بڑھنے کے امکانات نظر آئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ طرفین میں سے کوئی بھی آخری حد تک جانے کیلئے تیار نہیں۔یہ بات ذہن میں رکھنی ہو گی کہ امکانی تصادم کا صحنہ خلیج میں گلف آف ہرمز ہے۔ یہ سمندری راہرو کہا جا سکتا ہے دنیا کے حساس ترین نکات میں شمار ہوتی ہے چونکہ یہ انرجی کی راہرو ہے۔ یہاں سے خلیج کی بندر گاہوں سے تیل سے بھرے ہوئے ٹینکر عالمی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے روانہ ہوتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ نے خلیج میں اپنے بحری بیڑوں میں افواج کی تعداد بھی بڑھا لی ہے اور پیشرفتہ اسلحہ بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ انرجی کی سپلائی میں کوئی رخنہ نہ آئے۔حالیہ دنوں میں ٹینکر کہا جاتا ہے میزائل حملوں کی زد میں آئے اور الزام ایران پہ لگا لیکن ایران نے اِس کی تردید کی ہے۔اِس کے بعد کچھ دن پہلے امریکہ کا ایک ڈرون طیارہ ایرانی حملے کی زد میں آیا۔یہ ڈرون گرایا گیا۔ایران کا یہ دعوہ ہے کہ یہ امریکی ڈرون ایران کی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا جبکہ امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ بین الاقوامی حدود میں تھا۔ ڈرون طیارہ بغیر پائلٹ کے ہوتا ہے اور اُس کی آڑان کا تعین رموٹ کنٹرول سے ہوتا ہے۔ ڈرون طیارے پہلے سے طے شدہ حدف کو نشانہ بناتے ہیں۔پاک افغان سرحد پر امریکہ نے بارہا ڈرون طیاروں کو جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا اور پاکستانی حکام احتجاج کرتے رہے لیکن امریکہ میں ارباب اقتدار کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگی۔مخصوص احداف کو نشانہ بنانے کے علاوہ ڈرون طیارے جاسوسی کیلئے بھی استعمال میں لائے جاتے ہیں۔امریکہ بدلے کی کاروائی کے لئے پَر تول رہا تھا لیکن امریکہ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا ہے کہ آخری گھڑی میں اُنہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا   اور فیصلہ بدلنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ کافی انسانی جانیں تلف ہونے کا خدشہ تھا۔آخری لحظہ پر بدلے کی کاروائی سے ہاتھ کھنچنے کا یہ مطلب نہیں کہ خطرہ ٹل گیا ہے بلکہ تصادم کے بادل خلیج پہ منڈلا رہے ہیں۔
امریکی حکام پہ نہ صرف جنگی جنوں سوار ہے بلکہ ٹرمپ کی صدارتی ٹیم کے ممبراں کے مذہبی اعتقادات بھی صورت حال کو متاثر کر رہے ہیں۔ سال رواں 2019ء میں مارچ کے مہینے میں امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ پا مپیو نے مطبوعاتی ادارے’ کرسچن براڑکاسٹنگ نیٹ ورک‘ کو ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ عین ممکن ہے کہ خدا نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اسرائیل کو ایران سے بچانے کیلئے بھیجا ہو۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کرسچن ہونے کے ناطے مجھے یقین ہے کہ یہ خدا کی کار کردگی ہے۔ مذہبی کٹر پن پامپیو تک ہی محدود نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کے کئی ممبر مذہبی کٹر پنتھی ہیں۔ کہا جاتا ہے پچھلے سو سالوں میں یہ پہلی امریکی انتظامیہ ہے جس کے ممبراں نے بائبل سٹڈی گروپ بنایا ہے۔ اِس درد ناک صورت حال سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ مشرق و سطی کے ممالک جو عالم اسلام کے دائرے میں آتے ہیں ایک ہی لائحہ عمل پہ موافق ہو جائیںاور یہ سلسلہ شام سے لے کے یمن تک توافق پہ منتج ہو لیکن مشکل یہ ہے کہ مشرق وسطی کے ممالک نہ ہی ایک ہی صفحے پہ نہ ہی ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں جس سے امریکہ اور اسرائیل کے مذموم ارادوں کی بر آوری کیلئے میدان صاف ہے اور جو بھی یہ چاہتے ہیں وہ عملی ہو جاتا ہے۔ایران کی مزاحمت و مقاومت قابل تحسین ہی سہی لیکن اِس مزاحمت و مقاومت کے بیچوں بیچ وہ بھی آ جائیں جنہیں حریفوں کے بجائے حلیفوں کی صفوں میں ہونا چاہیے تو اِسے حکمت عملی نہیں کہا جا سکتا۔ ایران کو اپنوں کو اپنا سمجھ کے اپنانا چاہیے۔رنجش و خلش ایک مقررہ حد سے گذر جائے تو سینے کی چبھن بن جاتی ہے اور مشرق وسطی کے بیچوں بیچ یہی چبھن چھائی ہوئی ہے جس سے سب ہی کا نقصان ہو رہا ہے۔
Feedback on: [email protected]