اقلیتوں کے معاملے پر کسی ملک کا مشورہ نہیں چاہیے: پاکستان

اسلام آباد//پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی فہرست کو یک طرفہ اور سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فہرست سراسر تعصب پر مبنی ہے۔پاکستان نے امریکہ کی جانب سے اسے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی فہرست کو یک طرفہ اور سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فہرست سراسر تعصب پر مبنی ہے۔امریکی محکمہ? خارجہ نے دنیا کے مختلف ملکوں میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ منگل کو جاری کی ہے۔ فہرست میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے جہاں مذہبی آزادی کی صورتِ حال بطورِ خاص تشویش ناک ہے۔اس فہرست میں پاکستان کے علاوہ میانمار، چین، ایران، سوڈان، سعودی عرب، ترکمانستان، تاجکستان، اریٹیریا اور شمالی کوریا بھی شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو واشنگٹن میں مذہبی آزادیوں کے فروغ پر وزارتی کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں 85 ملکوں اور 400 سے زیادہ تنظیموں کے وفود نے شرکت کی۔ جولائی 2018امریکی حکام کے مطابق فہرست میں وہ ممالک شامل ہیں جہاں حکومتیں مذہبی آزادی کی شدید، منظم اور مسلسل پامالی میں یا تو خود ملوث ہیں یا انہوں نے ان معاملات پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امریکی فہرست پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ اپنے تئیں یہ فہرست مرتب کرنے والے خود ساختہ منصفوں کی اپنی ساکھ اور غیر جانب داری پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔وزارتِ خارجہ نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ایک منظم عدالتی اور انتظامی طریقہ کار موجود ہے اور اسے اپنی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق کسی دوسرے ملک کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔بیان کے مطابق دنیا میں انسانی حقوق کے علمبرداروں نے جموں و کشمیر جیسی جگہوں پر روا رکھے جانے والے منظم مظالم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔بیان میں امریکہ کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خود بھی اپنے ہاں اسلامو فوبیا اور یہود مخالف جذبات میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے اپنا محاسبہ کرے۔دفترِ خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ایک کثیر مذہبی اور تکثیری معاشرہ ہے جہاں مختلف عقائداور مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔