ڈاکٹر ریاض احمد
تعلیم کو ہمیشہ ایک اخلاقی اور تہذیبی قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہےایسا’’انجن‘‘ جو انسان کو اس کے حالات سے اوپر اٹھاتا ہے اور ایسا’’ہتھیار‘‘ جو قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ ہماری زیرِ نظر تحریری نکات میں بھی تعلیم کو اسی زاویے سے دیکھا گیا ہ ہے۔ذاتی نشوونما کا عظیم محرّک، انسانی صلاحیتوں کو جگانے والا راستہ اور دنیا کو بدلنے کی سب سے طاقتور قوت۔ تعلیم کو’’حقیقی زندگی‘‘ کا انتظار گاہ نہیں بلکہ خود زندگی کہا گیا ہے،یعنی ایسی چیز جو انسان کے سوچنے، برتاؤ کرنے اور معاشرے میں حصہ ڈالنے کے انداز کو بدل دے۔
پھر ایک تلخ تضاد سامنے آتا ہے، اگر تعلیم اتنی طاقتور ہے تو ہم اکثر کیوں دیکھتے ہیں کہ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگ ،ڈگری ہولڈرز، پروفیشنلز، منتظمین، حتیٰ کہ رائے ساز،ایسے رویوں میں شریک ہوتے ہیں جو معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں؟ دفاتر میں بددیانتی، عوامی گفتگو میں تلخی، ہمدردی کی جگہ تکبراور علم کا خدمت کے بجائے فریب یا ہیرا پھیری کے لیے استعمال ،یہ سب کیوں؟مسئلہ یہ نہیں کہ’’تعلیم‘‘ بطورِ تصور ناکام ہوگئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خاموشی سے تعلیم کو سند سازی (credentialing) سے بدل دیا ہے۔معاشرے کی ’’پڑھے لکھے‘‘ سے کیا توقع تھی؟لوگوں کی توقع یہ کبھی نہیں تھی کہ تعلیم یافتہ انسان صرف نوکری کے قابل ہو جائے۔ توقع یہ تھی کہ وہ:
(1) زیادہ انسان بنے ۔یعنی فیصلہ سازی میں پختگی، جذبات میں ضبط اور خود احتسابی کی صلاحیت۔ تعلیم کو روح و ذہن کی تراش خراش سمجھا گیا،جیسے ایک فنکار پتھر کو تراش کر شکل بناتا ہے۔مثلاً ایک مینیجر رپورٹ میں اپنی غلطی مانتا ہے، اسے شفاف طریقے سے درست کرتا ہے اور جونیئرز کو ناحق الزام سے بچاتا ہےکیونکہ اس کے نزدیک سچائی، اَنا سے بڑی ہے۔
(2) زیادہ معاشرتی طور پر مفید بنے۔تعلیم کا مقصد یہ بھی تھا کہ انسان خاندان اور معاشرے میں بہتری لائےکیونکہ ترقی کی بنیاد ہر معاشرے اور ہر خاندان میں تعلیم ہی ہے۔مثلاً ایک انجینئرنگ گریجویٹ مقامی اسکول میں محفوظ سائنسی لیب قائم کرنے میں مدد دیتا ہے، یا کم آمدنی والے طلبہ کی رہنمائی کرتا ہے،اپنی مہارت کو’’صرف اپنی ترقی‘‘ کے لیے نہیں بلکہ’’کمیونٹی کے فائدے‘‘ کے لیے استعمال کرتا ہے۔
(3) زیادہ ذمہ دار بنے۔علم کو آزادی اور تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرے،تعلیم کو’’آزادی کے سنہری دروازے کی کنجی‘‘ بھی کہا گیا ہے۔مثلاً ایک اکاؤنٹنٹ نقصان چھپانے کے لیے مالیاتی ریکارڈ’’ایڈجسٹ‘‘ کرنے سے انکار کرتا ہے، حالانکہ اس پر دباؤ ہو،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آزادی کی بنیاد سچائی ہے۔
(4) زیادہ اخلاقی بنے۔یعنی صرف ذہین نہیں بلکہ اچھا انسان ۔ ’’عقل کے ساتھ کردار‘‘یہی حقیقی تعلیم کا ہدف بتایا گیا ہے۔مثلاً ایک طالب علم تحقیق میں89 صحیح حوالہ جات دیتا ہے، سرقہ (plagiarism) سے بچتا ہے اور علم کو امانت سمجھتا ہے،چاہے ڈیڈ لائن کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو۔یعنی معاشرے کی توقع تھی کہ تعلیم صلاحیت + ضمیر پیدا کرے۔
زمینی حقیقت کیا ہے؟
زمینی سطح پر ہمیں اکثر اس کے برعکس نتائج دکھائی دیتے ہیں۔نمبر زیادہ، دیانت کم (چیٹنگ، سرقہ، شارٹ کٹ کلچر)،مثال: اسائنمنٹ ’’مارکیٹ‘‘ سے تیار پروجیکٹ خریدنایا آن لائن امتحان میں گروپ چیٹ کے ذریعے جواب بانٹنااور اسے’’نارمل‘‘ سمجھ لیا جانا۔مہارت موجود، مگر عوامی خدمت نہیں،مثلاً ایک باصلاحیت پروفیشنل انٹرنز یا جونیئرز کو گائیڈ کرنے سے انکار کر دیتا ہے کیونکہ اس سے اس کی پروموشن میں ’’فوری فائدہ‘‘ نہیں۔آواز بلند، علمی دیانت کم (غلط معلومات پھیلانا)
مثال ،کوئی ڈگری ہولڈر سوشل میڈیا پر سنسنی خیز’’طبی‘‘ یا’’مذہبی‘‘ دعوے بغیر تحقیق آگے بڑھا دیتا ہےکیونکہ وائرل ہونا اسے’’یقین‘‘ لگتا ہے۔کامیابی موجود، مگر کردار کمزور (ایلیٹ ازم، عدم برداشت، تضحیک)مثال: دوسروں کو آن لائن شرمندہ کرنا،مہذب زبان اور’’تعلیم یافتہ طنز‘‘ کے ساتھ،تاکہ اصلاح نہیں بلکہ ذلت ہو۔علم خدمت کے بجائے غلبے کا ہتھیار بن جائےمثال: قانونی یا تکنیکی علم سے کمزور فریق کو ڈرانا، loopholes سے ناجائز فائدہ اٹھانا، یا غیر منصفانہ فیصلوں کو’’قانونی جواز‘‘ دے کر درست ثابت کرنا۔یہی تضاد ہے، تعلیم کو اخلاقی منصوبہ کہا جاتا ہے، مگر عملاً اسے مارکیٹ کا منصوبہ بنا دیا گیا ہے،ڈگری لو، جاب لو، مقابلہ جیتو۔ جب تعلیم محض رینکنگ اور آمدن کی دوڑ بن جائے تو اقدار’’اختیاری‘‘ بن جاتی ہیں۔یہ تضاد کیوں پیدا ہوا؟ علم اور کردار کے درمیان پل ٹوٹ گیا۔نکات میں ایک واضح اشارہ موجود ہے۔ تعلیم کا مرکز’’معلومات‘‘ نہیں بلکہ’’تبدیلی‘‘ ہے،یعنی ذاتی نشوونما، معاشرتی ترقی، اور کردار سازی۔ مگر ہمارے نظام عموماً وہ چیزیں ناپتے ہیں جو آسانی سے ناپی جا سکیں (یادداشت، رفتار، امتحانی کارکردگی) اور وہ چیزیں چھوڑ دیتے ہیں جو مشکل ہیں (دیانت، اخلاقی جرات، ہمدردی، شہری ذمہ داری)۔یہ بگاڑ چند عوامل سے بڑھتا ہے:
(1) رٹّا اور امتحان پرستی۔جب کامیابی کا معیار صرف جواب دہرانا ہو تو طالب علم’’سچ‘‘ نہیں،’’نمبر‘‘ optimize کرتا ہے۔مثال: ایک طالب علم تعریفیں زبانی یاد کر لیتا ہے مگر تصور کو زندگی میں سمجھا نہیں پاتا—اور اسے یہی سبق ملتا ہے کہ سمجھ کم، پرفارمنس زیادہ ضروری ہے۔
(2) کریڈنشل انفلیشن اور معاشی دباؤ۔روزگار کے دباؤ میں تعلیم ’’بقا کی حکمتِ عملی‘‘ بن جاتی ہے، اخلاق’’لگژری‘‘ محسوس ہونے لگتا ہے۔مثال: طالب علم سرقہ کو یوں جواز دیتا ہے: ’’سب کر رہے ہیں، میرا مستقبل GPA پر ہے۔‘‘
(3) اداروں کی منافقت۔اگر ادارے زبان سے دیانت سکھائیں مگر عمل میں سفارش/طرفداری برداشت کریں تو’’چھپا ہوا نصاب‘‘ یہ ہوتا ہے: اصول نہیں، طاقت اہم ہے۔مثال: عام طالب علم کے لیے قانون سخت، مگر ’’خاص کیسز‘‘ کے لیے نرمی—یوں انصاف سودے بازی بن جاتا ہے۔
(4) اٹینشن اکانومی (سوشل میڈیا کے انعامات)پلیٹ فارمز کو باریک بینی نہیں، غصہ اور یقین چاہیے۔ حتیٰ کہ تعلیم یافتہ ذہن بھی علم کے بجائے ’’پرفارمنس‘‘ کی طرف کھنچ جاتا ہے۔مثال: آدھا علم اور پورا اعتماد زیادہ لائکس لاتا ہے، جبکہ محتاط، ثبوت پر مبنی بات کم نظر آتی ہے۔
(5) کامیابی کی تنگ تعریف۔اگر معاشرہ خدمت اور عاجزی کے بجائے دولت اور رتبے کو سراہتا ہو تو تعلیم یافتہ بھی اسی تال پر چلتا ہے۔مثال: مہنگے ٹائٹلز اور گاڑیاں تو celebrate ہوتی ہیں، مگر وہ استاد یا نرس نظر انداز ہو جاتے ہیں جن کے اخلاقی فیصلے کمزوروں کو بچاتے ہیں۔ (جاری)
[email protected]