قیصر محمود عراقی
افواہیں معاشرہ میں جھوٹ اور بے اعتمادی ہی کو فروغ نہیں دیتیںبلکہ یہ معاشرتی انتشار، ذہنی ناآسودگی اور افراد میںعدم تحفظ کا احساس بھی پیداکرتی ہے۔ افواہ کی بدولت صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح باور کرایا جاسکتا ہے،اسی لئے افواہ سازی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ آج کے دور میں جہاں بہت سی برائیاںاور بد اخلاقیاں ہمارے معاشرے کو گھُن کی طرح کھارہی ہیںان میں ایک بہت بڑی بیماری افواہیںپھیلانے کی ہے۔ شاید افواہ پھیلانے والوں کو یہ اندازہ بھی نہ ہو کہ بسااوقات اس کے منفی اثرات معاشرہ اور مملکت دونوںکیلئے خطرناک ہوتے ہیںاور جس کے تباہ کن اثرات سے خود افواہ سازی کا کام کرنے والے بھی نہیں بچ سکتے۔ افواہیں پھیلانا یا افواہوں کے ذریعہ سے معاشرہ میں فتنہ وفساد پھیلانا ایک بدترین جرم ہے۔ افواہیں معاشرہ کے مختلف طبقات کے درمیان نہ صرف نفرت وحقارت پیدا کرتی ہیںبلکہ بسا اوقات بلا وجہ لڑائی جھگڑے کا سبب بھی ہوتی ہیں۔ افواہوںکے مہلک اور مضر اثرات کے پیش نظر شہریوں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ خود کسی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں بلکہ افواہیں پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھیںاور انہیں افواہیں نہ پھیلانے دیں۔
من گھڑت اور جھوٹی باتیں نہ صرف دنیوی اعتبار سے جرم ہے بلکہ آخرت میں بھی اس جرم کی پاداش میںسخت سزا بھگتنا پڑے گی اور دنیا میں بھی اس قسم کی گھٹیاحرکتوںکے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ افواہیں خواہ حکومت کے خلاف ہوں یا کسی ادارے کے ، امت مسلمہ کے کسی فرد کے خلاف ہو یا کسی طبقہ کے خلاف ہر حالت میں قابل مذمت ہیں۔ افواہیں پھیلانا منافقانہ اور شیطانی طرز عمل ہیںاس لئے ذمہ دار شہریوںپر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ کوئی افواہ سنیں تو خود اس افواہ کو بیان کرکے نہ پھیلائیں، بلا وجہ سُنی سنائی بات کو لوگوںمیں بیان کرکے اس جرم میں شریک نہ ہو، جس کا کوئی بد کردار اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والا شخص افواہ ارتکاب کرتا ہے۔ افواہیںاور بے بنیاد خبریںبسا اوقات مختلف طبقات کے درمیان منافرت پھیلانے کا ذریعہ ہوتی ہیں، باہمی رنجشیں پیدا کرتی ہیںجن کی وجہ سے لڑائی جھگڑوں کی بھی نوبت آجاتی ہے اور نتیجہ قتل وغارت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
دورِ نبویؐ میں یہودی اور منافقین کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ ملت اسلامیہ میں فتنہ وفساد برپاکرنےکے لئے ہر حربہ استعمال کرتے تھے، یہاں تک جسارت کرتے تھے کہ قرآن حکیم کی مشکل مقامات اور آیات متشابہات کی اپنی طرف سے من گھڑت تاویلیںکرتے تاکہ لوگوںکو غلط مفہوم بتاکر دین سے برگشتہ کرسکیں یا کم از کم دِلوںمیں شکوک وشبہات پیدا کرسکیں اور بعض افواہیںجہلاء مذہب کے نام پر پھیلاتے ، جو انہوںنے اپنے غلط کار اور محرف علماسے سن رکھی ہیںجو کچھ نہیں جانتے۔ بعض لوگ محض افواہوںکی بنیاد پر مومنین ، مکرمین کی عزت نفس کو داغدار کرتے ہیں اور معاشرے میں فحاشی پھیلانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر اخلاقی نکتہ نگاہ سے غور کریں تو بھی افواہیں پھیلانا بہت گھٹیااور مذموم حرکت ہے ۔ غیبت کرنا ، تہمتیں لگانا، جھوٹ بولنا، لوگوںکی کردار کشی کرنا یا لوگوں کی تحقیر وتذلیل کرنا نہ صرف کبیرہ گناہ ہے بلکہ وہ بُرائیاںہیں جنہیں تمام اخلاقی نظام غیر اخلاقی حرکت تصور کرکے رد کرتے ہیں۔ افواہیں پھیلانے میں تمام برائیوںکا سہارا لینا پڑتا ہے،جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ افواہیں پھیلا نا یا بے بنیاد خبریں شائع کرنا قطعاً جائز نہیں۔ لہٰذا ہر ذمہ دار شہریوںپر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ افواہوں کی روک تھام میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، افواہوں پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھیں، ان کی پھیلائی ہوئی باتوںکو خود بیان کرکے نہ پھیلائیں اور اگر کوئی ایسی خبر ہے جس کا تعلق ملک وملت کی سلامتی سے ہے تو فوری طور پر ارباب حل وعقد کو مطلع کریں۔ افواہوںکی روک تھام میںحکومت کا کردار بھی بہت اہم ہے، خاص طور پر نشر اشاعت کے وہ ادارے جو حکومت کے زیرِ نگرانی کام کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم کام یہ کرنا ہوگا کہ یہ ادارے عوام میں اپنا اعتماد پیدا کریں تاکہ لوگ ان اداروںکی مہیا کردہ اطلاعات پر بھروسہ کرسکیں، یہ ادارے کردار سازی کا کام کریں، ان اداروں پر اعتماد بحال ہونے سے افواہ سازوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ہماری ملکی اور ملی صحافت پر بھی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے، کیونکہ ہمارے ملک کے بعض اخبارات چھاپنے والوں کا طرز عمل تو بہت ہی غیر محتاط ہوتا ہے وہ غیر مصدقہ اور بے بنیاد خبریں شائع کرکے معاشرہ اور ملک دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اخبارات کو چاہئے کہ وہ ایسی خبریں جن کا براہ راست ملک وملت پر پڑتا ہو ، جن سے ہمارا ملی ادارے متاثر ہوتے ہیں یا افراد کے کردار پر ان کا اثر پڑتا ہو تو بلاتحقیق شائع نہ کریںبلکہ اچھی طرح چھان بین کرکے پورا اطمینان کرلینے کے بعد یہ جائزہ لیں کہ کیا اسے شائع کرنا چاہئے یا نہیں؟ انہیں صرف ایسی چیزوں کی اشاعت کرنی چاہئے جن کے اشاعت واقعی ضروری ہو اور ان کی اشاعت سے منفی اشاعت سے منفی اثرات معاشرہ میں نہ پیدا ہوتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں افواہ سازی اور اس کے برے اثرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
(رابطہ۔:6291697668)